Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایف ایس ایس اے آئی نے ۲۰۲۶ء میں ۲۰؍ سے زائد کمپنیوں کو نوٹس جاری کیے

Updated: July 30, 2026, 7:07 PM IST | New Delhi

اگر آپ پیک شدہ خوراک یا مشروبات کے معروف برانڈز استعمال کرتے ہیں تو یہ خبر آپ کے لیے اہم ہے۔ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا نے ۲۰۲۶ء میں ۲۰؍سے زائد فوڈ کمپنیوں اور برانڈز کے خلاف مبینہ طور پر گمراہ کن لیبلنگ اور صحت سے متعلق غیر مصدقہ دعوؤں پر کارروائی کی ہے۔

Lotte And Fern.Photo:INN
لوٹے اور فرن۔ تصویر:آئی این این

اگر آپ پیک شدہ خوراک یا مشروبات کے معروف برانڈز استعمال کرتے ہیں تو یہ خبر آپ کے لیے اہم ہے۔  فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی )(FSSAI)  نے ۲۰۲۶ء میں  ۲۰؍سے زائد فوڈ کمپنیوں اور برانڈز  کے خلاف مبینہ طور پر گمراہ کن لیبلنگ اور صحت سے متعلق غیر مصدقہ دعوؤں پر کارروائی کی ہے۔ 
ایف ایس ایس اے آئی کے مطابق، کئی مصنوعات پر ۱۰۰؍فیصد قدرتی  ، ’’مدافعتی نظام مضبوط بناتا ہے‘‘،’’دل کے لیے مفید‘‘، ’’  صدفیصد ویگن‘‘،’’ٹاکسن ختم کرتا ہے‘‘ اور دیگر ایسے دعوے درج تھے، جن کے لیے مناسب سائنسی ثبوت یا ضابطوں کے مطابق بنیاد موجود نہیں تھی۔ 

یہ بھی پڑھئے:اجنکیا رہانے نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا


 کن برانڈز پر سوالات اٹھائے گئے؟
رپورٹس کے مطابق جن برانڈز یا مصنوعات پر ایف ایس ایس اے آئی نے نوٹس یا کارروائی کی، ان میں شامل ہیں:لوٹے انڈیا (Lotte India)، فرنز اینڈ پیٹلز (Ferns N Petals)،کبیرا فوڈز (Kubera Foods)، بکانیر والا (Bikanervala)، پرم ڈیری (Param Dairy)، ماسٹر چاؤ (MasterChow)، کنڈر جوائے (Kinder Joy)، سفولا ٹوٹل ہارٹ پرو (Saffola Total Heart Pro)، را پریسری (Raw Pressery)، گار ہیلدی فوڈ، پروٹین مصنوعات، الکلائن نیوٹرینٹ واٹر، کورین جنسنگ سپلیمنٹ، سمیت متعدد دیگر مصنوعات۔ اس سے قبل بھی ایف ایس ایس اے آئی نے  نیسلے، کے ایف سی، اوپن سیکرٹ، ایمامی، ٹو برادرز آرگینک فارمز، ہیلدی ماسٹر، نیو ہربز اور دیگر معروف برانڈز کو مبینہ طور پر گمراہ کن ناموں اور لیبلنگ کے استعمال پر نوٹس جاری کیے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے:پہلی ہی فلم پر تین قومی فلم ایوارڈز جیتنا ہمارے لیے باعثِ فخر ہے: لوکیش دھر


 ایف ایس ایس اے آئی کا مقصد کیا ہے؟
فوڈ ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد صارفین کو گمراہ کن تشہیر اور لیبلنگ سے محفوظ رکھنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ فوڈ کمپنیاں صرف وہی دعوے کریں جو سائنسی طور پر ثابت ہوں اور قوانین کے مطابق ہوں۔   ماہرین کا مشورہ ہے کہ صارفین کسی بھی پیک شدہ خوراک یا مشروب کی خریداری سے پہلے اس کے  اجزاء (Ingredients)، غذائی معلومات (Nutrition Facts)  اور  لیبل پر درج دعوؤں  کو غور سے پڑھیں اور صرف تشہیری نعروں کی بنیاد پر کسی پروڈکٹ کو صحت بخش نہ سمجھیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK