Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران کے خلاف جنگ کی کوریج پر براڈکاسٹرز لائسنس کی ممکنہ منسوخی: ٹرمپ انتظامیہ

Updated: March 15, 2026, 9:37 PM IST | Washington

ٹرمپ انتظامیہ نے دھمکی دی ہےکہ ایران کے خلاف جنگ کی کوریج پر براڈکاسٹر لائسنس ممکنہ طور پر منسوخ ہوسکتے ہیں، ساتھ ہی کہا کہ نشریاتی اداروں کو عوامی مفاد میں کام کرنا چاہئے۔

A view of the destruction caused by an Iranian missile in Israel. Photo: X
ایرانی میزائل سے اسرائیل میں ہونے والی تباہی کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس

 امریکی فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (FCC) کے چیئرمین برینڈن کار نے خبردار کیا ہے کہ براڈکاسٹرز (نشریاتی ادارے) امریکہ-اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کی کوریج پر اپنے لائسنس کھو سکتے ہیں۔کار نے سنیچر کو کہا کہ’’ نشریاتی اداروں کو عوامی مفاد میں کام کرنا چاہیے، اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو وہ اپنے لائسنس کھو دیں گے۔‘‘ایف سی سی کے چیئرمین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’’جو براڈکاسٹر فراڈ اور خبروں میں بگاڑ پیدا کر رہے ہیں - جسے جعلی خبریں بھی کہا جاتا ہے - ان کے پاس اب موقع ہے کہ ان کے لائسنس کی تجدید سے پہلے اپنا راستہ درست کر لیں۔‘‘

یہ بھی پرھئے: ایران خلاف جنگ کے دوران اسرائیل کے پاس میزائل شکن کی شدید قلت: رپورٹ

بعد ازاں کار نے کہا کہ نشریاتی اداروں کو اپنے نقطہ نظر پر نظر ثانی کرنی چاہیے، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ روایتی میڈیا میں عوام کا اعتماد گر کر تقریباً۹؍ فیصد رہ گیا ہے۔ انہوں نے میڈیا میں اعتماد بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جسے تیزی سے ’’جعلی خبریں‘‘قرار دیا جا رہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’جب کوئی سیاسی امیدوار فراڈ اور بگاڑ کے باوجود زبردست انتخابی کامیابی حاصل کر سکتا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ کچھ بہت غلط ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ عوام نے میڈیا پر سے اعتماد کھو دیا ہے۔ اور ہم ایسا ہونے نہیں دے سکتے۔ تبدیلی کا وقت آ گیا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ڈونالڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو’محفوظ ‘ بنانے کیلئے دُنیا بھر سے مدد مانگی

واضح رہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بارہا میڈیا پر ایران کے خلاف جنگ کے بارے میں غلط خبریں شائع کرنے کا الزام لگایا ہے۔ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر میڈیا کے بارے میں اپنی تازہ ترین تنقید میں دعویٰ کیا کہ ’’جعلی خبروں والا میڈیا یہ رپورٹ کرنے سے نفرت کرتا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف کتنی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جو مکمل طور پر شکست خوردہ ہے اور ایک معاہدہ چاہتا ہے - لیکن ایسا معاہدہ نہیں جو میں قبول کروں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK