قانون ساز کونسل کے چیئرمین پروفیسر رام شندے کی متعلقہ سیکریٹریوںکو ہدایت۔ سیکوریٹی اہلکاروں کو بھی تبدیل کرنے کا حکم دیا ۔
میٹنگ میں وزیراعلیٰ دیویندرفرنویس ، پروفیسر رام شندے اور مختلف محکموں کے سیکریٹریز-تصویر:آئی این این
مہاشٹر کے قانون ساز کونسل کے چیئرمین پروفیسر رام شندے نے پیرکو مختلف محکموں کے سیکریٹریوں کی میٹنگ طلب کی جس میں انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ قانون ساز کونسل کے ایوان میں متعدد اراکین کی طرف سے جو مسائل اور سوالات اٹھائے گئے ہیں، انہیں مقررہ مدت میں حل کیا جائے اور اس کا جواب دیں۔ اس میٹنگ میں سیکریٹریٹ کے اعلیٰ افسران کے ساتھ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس بھی موجود تھے۔ یہ میٹنگ ودھان بھون میں منعقد کی گئی تھی۔
میٹنگ میں کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ اراکین کونسل متعدد اختیارات کے تحت اپنے سوالات اورعوامی مسائل ایوان اسمبلی میں پیش کرتے ہیں، ان میں پوائنٹس آف آرڈر، توجہ طلب نوٹس، وقفہ ٔ سوالات ، اسٹار سوالات، خصوصی تجاویز، وزراء کی یقین دہانیوں، مہاراشٹر قانون ساز کونسل کے اصول ۹۳؍ کے تحت تجاویز شامل ہیں۔ ان سوالات اور مسائل میں سے کوئی زیر التوا ہے تو اسے فوری طور پرحل کرنا چاہئے۔ اسی طرح مہاراشٹر قانون ساز کونسل کے اسپیکر پروفیسر رام شندے نے واضح ہدایت دی کہ مختلف محکموں کے ذریعہ قانون ساز کونسل کی کارروائی میں ایک ہی موضوع کو نہیں دہرایا جاناچاہئے۔
مہاراشٹر کے ودھان بھون سے جاری کردہ اعلامیہ میں مزید کہا گیاہےکہ چیئرمین پروفیسر رام شندے کہا ہےکہ ’’اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ زیر التواء کارروائی کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے، یاد دہانیوں کے ذریعے وزارتی محکموں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جائے۔ پہلا خط محکمہ کے سیکریٹری اور محکمہ کے وزیر کے پرائیویٹ سیکریٹری کو بھیجا جانا چاہئے اور پھر دوسرا خط محکمہ کے وزیر اور ریاست کے چیف سیکریٹری کو بھیجا جانا چاہئے۔ اس سلسلے میں، مہاراشٹر قانون ساز کونسل سیکریٹریٹ نے وزارت۔ودھان بھون کوآرڈنیشن کیلئے ایک ڈیش بورڈ تیار کیا ہے اور اسے مسلسل اپ ڈیٹ کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ اجلاس کی مدت کے دوران ایڈمٹ کارڈز کی تقسیم کے عمل کو مزید سخت کیا جائے اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کے ساتھ مل کر ہر سیشن میں۳۳؍ فیصد سیکوریٹی اہلکاروں کو تبدیل کیا جائے۔ واضح رہے کہ گزشتہ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں فرضی انٹری پاس ملنے کا انکشاف ہوا تھا۔
میٹنگ میں سیکریٹری(۱)جتیندر بھولے، سیکریٹری (۲) میگھنا تالیکر۔اٹکیلوار، سیکریٹری (۳) ڈاکٹر ولاس اٹھاولے، سیکریٹری (۴) شیو درشن ساتھیا اور متعلقہ سینئر افسران موجود تھے۔