Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا پینٹاگون نے صحافیوں کی رسائی مکمل طور پر ختم کردی؟

Updated: April 28, 2026, 3:06 PM IST | New York

وفاقی اپیل عدالت نے پینٹاگون کو عارضی طور پر صحافیوں کے ساتھ محافظ (اسکارٹ) لازم قرار دینے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے پیر کے روز فیصلہ دیا کہ جب تک محکمۂ دفاع کی سخت میڈیا پالیسی کے خلاف مقدمہ جاری ہے، پینٹاگون عمارت کے اندر صحافیوں کے ساتھ اسکارٹ (سرکاری اہلکار کی موجودگی) لازم قرار دے سکتا ہے۔

Pentagon.Photo:INN
پنٹاگون۔ تصویر:آئی این این

وفاقی اپیل عدالت نے پینٹاگون کو عارضی طور پر صحافیوں کے ساتھ محافظ (اسکارٹ) لازم قرار دینے کی اجازت دے دی۔  عدالت نے پیر کے روز فیصلہ دیا کہ جب تک محکمۂ دفاع کی سخت میڈیا پالیسی کے خلاف مقدمہ جاری ہے، پینٹاگون عمارت کے اندر صحافیوں کے ساتھ اسکارٹ (سرکاری اہلکار کی موجودگی) لازم قرار دے سکتا ہے۔  
امریکی محکمہ جنگ نے ڈی سی اپیلٹ عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ عدالت نے ضلعی عدالت کا حکم عارضی طور پر معطل کر دیا ہے، بغیر نگرانی میڈیا رسائی حساس معلومات کے افشا کی بڑی وجہ بنی ہے، پینٹاگون میں بغیر نگرانی رسائی خفیہ معلومات کے لیک ہونے کا سبب رہی، آپریشنل منصوبے اور انٹیلی جنس جائزے بھی لیک ہوتے رہے ہیں۔ محکمہ جنگ نے کہا نئی رسائی پالیسی کے بعد غیر مجاز انکشافات میں نمایاں کمی آ گئی ہے، ایسے لیکس سے فوجیوں، انٹیلی جنس اہلکاروں کی جان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے، پینٹاگون میں صحافیوں کی رسائی مکمل طور پر ختم نہیں کی گئی، بلکہ تصدیق شدہ صحافیوں کو بریفنگز اور انٹرویوز تک رسائی حاصل ہے، یہ اقدام خفیہ معلومات کے تحفظ اور امریکی جانوں کے تحفظ کے لیے ہے۔ 
۲؍کے مقابلے میں ایک کے فیصلے میں ججوں کے پینل نے کہا کہ امکان ہے پینٹاگون یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائے گا کہ اس کی نئی اسکارٹ پالیسی جائز ہے۔ عدالتی فیصلے کے ذریعے نچلی عدالت کے اُس حکم کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے جس نے پینٹاگون کو اس پالیسی پر عمل درآمد سے روک دیا تھا۔  
صحافی جمی کیمل نے میلانیا ٹرمپ سے متعلق کیا کہا جس پر صدر ٹرمپ نے ان کی برطرفی کا مطالبہ کر دیا؟ چند ہفتے قبل سینئر امریکی ڈسٹرکٹ جج پال فریڈمین نے پینٹاگون کی نئی میڈیا پالیسی کے کچھ حصوں کو کالعدم قرار دیا تھا، کیوں کہ ان کے مطابق وہ امریکی آئین کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی تھے، جس کے مطابق ہیڈکوارٹر تک رسائی صحافیوں کا آئینی حق ہے۔ یاد رہے کہ نیویارک ٹائمز نے گزشتہ سال کے آخر میں پینٹاگون کی میڈیا پالیسیوں کو چیلنج کرتے ہوئے مقدمہ دائر کیا تھا اور یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ پہلی ترمیم اور قانونی تقاضوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:بینک عملے کے اصرار پر بھائی نے بہن کی لاش بینک لے جا کر سب کو حیران کر دیا


نیویارک ٹائمز کے ترجمان نے کہا کہ اخبار اس کیس کے حل کے لیے کوشش جاری رکھے گا اور صحافیوں کے اس حق کے لیے دلائل دے گا کہ وہ امریکی فوج کی آزادانہ کوریج کر سکیں، تاکہ عوام ان اقدامات کو سمجھ سکیں جو ان کے نام پر اور ان کے ٹیکس کے پیسوں سے کیے جا رہے ہیں۔  

یہ بھی پڑھئے:نمرت کور اہلووالیہ کا نیا فرنچ لُک موضوع بحث


واضح رہے کہ پینٹاگون نے عمارت کے اندر میڈیا نمائندوں کا کوریڈور بند کر دیا ہے، اور اعلان کیا ہے کہ متبادل ورک اسپیس کسی دور دراز مقام پر قائم کی جائے گی، اور یہ کہ پینٹاگون تک تمام میڈیا رسائی کے لیے  محکمہ کے مجاز اہلکار کے ساتھ اسکارٹ لازمی ہوگا۔ اور اس طرح محکمۂ دفاع نے نئی پالیسی کے تحت صحافیوں کی آزادانہ معلومات حاصل کرنے کی رسائی محدود کر دی، مثلاً فوج کے اندر موجود ذرائع سے لیکس حاصل کرنا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK