Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ: ۱۴؍ لاکھ فلسطینی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار، ادویات کی قلت ۴۷؍ فیصد تک پہنچ گئی

Updated: August 04, 2026, 9:34 PM IST | Gaza

فلسطینی حکام اور اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں تقریباً ۱۴؍ لاکھ فلسطینی شدید غذائی عدم تحفظ (Acute Food Insecurity) کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ طبی بحران بھی سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ حکام کے مطابق ۷۴۲۰۰؍ بچے شدید غذائی قلت کے باعث فوری علاج کے محتاج ہیں، جبکہ ادویات کی قلت ۴۷؍ فیصد، طبی استعمال کی اشیا کی کمی ۵۸؍ فیصد اور لیبارٹری ٹیسٹ کے مواد کی کمی ۸۵؍ فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

فلسطینی حکام اور اقوام متحدہ کے نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں انسانی بحران بدستور انتہائی نازک مرحلے میں ہے، جہاں تقریباً ۱۴؍ لاکھ فلسطینی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ ادویات اور طبی سامان کی شدید قلت کے باعث صحت کا نظام بھی تیزی سے تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار Integrated Food Security Phase Classification (IPC) کی تازہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے رام اللہ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران جاری کیے گئے۔ فلسطینی وزیر برائے سماجی ترقی سماح حمد نے کہا کہ ’’رپورٹ میں جو نسبتاً بہتری دکھائی گئی ہے، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ غزہ کا انسانی بحران ختم ہو گیا ہے، بلکہ یہ مسلسل انسانی امداد کی فراہمی کا براہِ راست نتیجہ ہے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ: اسکول میں چھٹی جماعت کے طالب علم کے ہاتھ میں اسرائیلی گولی پیوست

انہوں نے خبردار کیا کہ ’’اگر امداد کی رسائی میں کسی بھی قسم کی کمی آئی تو حالات دوبارہ انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ جائیں گے۔‘‘ سماح حمد نے مزید کہا کہ ’’غزہ کے فلسطینی کسی عارضی غذائی قلت کا نہیں بلکہ ایسی منظم پالیسی کا سامنا کر رہے ہیں جو محاصرے اور خوراک، پانی اور ادویات کے داخلے پر پابندیوں کے ذریعے زندگی کی بنیادی بنیادوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔‘‘ ان کے مطابق ۷۴۲۰۰؍ بچے شدید غذائی قلت کے باعث فوری علاج کے محتاج ہیں، جبکہ ۲۴۶۰۰؍ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو فوری غذائی امداد درکار ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ۲؍ لاکھ ۱۲؍ ہزار سے زائد افراد خوراک کے حوالے سے ہنگامی (IPC Phase 4) صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ 
اقوام متحدہ کے ڈپٹی ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے انسانی امور کے رابطہ کار رامیش راجاسنگھم نے کہا کہ ’’رپورٹ میں نظر آنے والی بہتری صرف مسلسل انسانی امداد کی فراہمی کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے، نہ کہ اس لیے کہ حالات معمول پر آ گئے ہیں یا زندگی کے بنیادی ذرائع بحال ہو گئے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’غزہ کی تقریباً ۶۷؍ فیصد آبادی، یعنی تقریباً ۱۴؍ لاکھ افراد، اب بھی IPC Phase 3 یا اس سے زیادہ درجے کی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ دو لاکھ سے زیادہ افراد Phase 4 یعنی ہنگامی صورتحال میں ہیں۔‘‘ 
ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) کے فلسطین میں نمائندے شان ہیوز نے کہا کہ ’’اشاریوں میں نسبتاً بہتری کو بحران کے خاتمے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ مسلسل امدادی کارروائیوں کا براہِ راست نتیجہ ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ WFP نومبر سے ہر ماہ غزہ کی تقریباً ۷۵؍  فیصد آبادی تک خوراک اور نقد امداد پہنچا رہا ہے، تاہم اگر فنڈنگ یا امداد میں کمی آئی تو غذائی تحفظ کی صورتحال تیزی سے دوبارہ بگڑ سکتی ہے۔ دوسری جانب غزہ کی وزارتِ صحت نے بتایا کہ ادویات کی قلت ۴۷؍ فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ طبی استعمال کی اشیا (Medical Consumables) کی کمی ۵۸؍  فیصد اور لیبارٹری ٹیسٹ کے مواد کی کمی ۸۵؍  فیصد ہو گئی ہے، جس سے تشخیص اور جان بچانے والے علاج تقریباً مفلوج ہونے کے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ: بورڈ آف پیس کے ایلچی کا نیتن یاہو حملے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ

وزارتِ صحت نے کہا کہ ’’کینسر اور خون کی بیماریوں کی ادویات کی قلت ۶۱؍  فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس کے باعث مریضوں کی زندگیاں علاج معطل ہونے کی وجہ سے یقینی خطرے سے دوچار ہیں۔‘‘ بیان کے مطابق زچہ و بچہ کی ادویات میں ۵۶؍ فیصد، بنیادی صحت کی ادویات میں ۵۵؍ فیصد، گردوں اور ڈائیلاسز کی ادویات میں ۴۶؍ فیصد، ذہنی و اعصابی امراض کی ادویات میں ۳۵؍ فیصد، ایمرجنسی اور آئی سی یو ادویات میں ۳۳؍ فیصد، جراحی سامان میں ۳۹؍ فیصد اور آرتھوپیڈک سرجری کے سامان میں ۴۷؍ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ وزارت نے اقوام متحدہ اور انسانی امدادی تنظیموں سے فوری مداخلت اور ادویات، طبی سامان اور لیبارٹری مواد کی غزہ میں بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنانے کی اپیل بھی کی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK