Inquilab Logo Happiest Places to Work

اقوام متحدہ کی فوڈ ایجنسی پر سائبر حملہ، غزہ کے ۶؍ لاکھ خاندانوں کی ذاتی معلومات لیک ہوگئیں

Updated: June 05, 2026, 4:05 PM IST | Gaza

ورلڈ فوڈ پروگرام پر سائبر حملے کے نتیجے میں غزہ کے تقریباً ۶؍ لاکھ فلسطینی گھرانوں کے نام، شناختی نمبر، موبائل نمبر اور پتا سمیت حساس ذاتی معلومات لیک ہوگئیں۔ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ابھی تک کسی فرد یا گروپ نے اس سائبر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اقوامِ متحدہ کی ایجنسی ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے تصدیق کی ہے کہ ایک سائبر حملے کے نتیجے میں غزہ میں رہنے والے تقریباً ۶؍ لاکھ فلسطینی خاندانوں کی حساس ذاتی معلومات لیک ہوگئی ہیں۔ جنیوا میں قائم میڈیا ادارے ’دی نیو ہیومینیٹیرین‘ (The New Humanitarian) نے رپورٹ کیا کہ یہ سائبر حملہ ۱۴ مئی کو پیش آیا اور اس کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینیوں کے نام، شناختی نمبر، موبائل نمبر اور لوکیشن (مقام) کا ڈیٹا سمیت ذاتی معلومات لیک ہوگئیں۔

یہ بھی پڑھئے: فلسطین پر اسرائیلی قبضہ، آثار قدیمہ کے تعلق سے فلسطینیوں میں تشویش

۳۱ مئی کو امداد حاصل کرنے والے افراد کو ٹیلی گرام کے ذریعے بھیجے گئے ایک بیان کے مطابق، ایجنسی نے اپنی ’سیلف رجسٹریشن ایپلیکیشن‘ (ایس آر اے) میں غیر مجاز رسائی پر مبنی ایک ”سیکوریٹی سے متعلقہ واقعے“ کا پتا لگایا ہے؛ یہ وہ پلیٹ فارم ہے جسے فلسطینی خوراک اور نقد امداد کیلئے درخواست دینے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔

ڈبلیو ایف پی (WFP) کے ایک ترجمان نے بتایا کہ غیر مجاز عناصر نے رجسٹریشن پلیٹ فارم پر محفوظ معلومات تک رسائی حاصل کی۔ یہ معلومات انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی امداد کی اہلیت کی تصدیق کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ ایجنسی نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ابھی تک کسی فرد یا گروپ نے اس سائبر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: گلوبل صمود فلوٹیلا نے بین الاقوامی فوجداری عدالت میں اسرائیل کے تشدد کے ثبوت جمع کرائے

’دی نیو ہیومینیٹیرین‘ کی جانب سے نقل کی گئی معلومات کے مطابق، ایک گمنام مخبر نے بتایا کہ ڈبلیو ایف پی کے بینیفشئری فیڈبیک میکانزم (امداد حاصل کرنے والوں کے ردِعمل کے نظام) کو ڈیٹا بریک ہونے سے دو دن پہلے، یعنی ۱۲ مئی کو رجسٹریشن سسٹم میں سیکوریٹی کی کمزوریوں کے بارے میں ایک وارننگ موصول ہوئی تھی۔ ایک آزاد ماہر نے پلیٹ فارم میں موجود کمزوریوں کی نشان دہی کی تھی اور ایجنسی کو ممکنہ خطرات کے بارے میں خبردار کیا تھا۔

لیک ہونے والے ڈیٹا بیس میں غزہ کے تقریباً ۶؍ لاکھ گھرانوں کی معلومات شامل تھیں جو بین الاقوامی انسانی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ محصور علاقے میں اسرائیلی کارروائیوں اور انسانی بحران کے درمیان آبادی کا ایک بڑا حصہ خوراک اور نقد امداد پر انحصار کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سیٹیلائٹ تصاویر نے غزہ کی ہولناک تباہی دنیا کے سامنے رکھ دی

ڈبلیو ایف پی نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ حملہ آوروں نے سسٹم تک رسائی کیسے حاصل کی یا آیا چوری شدہ معلومات میں سے کسی کا غلط استعمال ہوا ہے یا نہیں۔ ایجنسی نے کہا کہ ڈیٹا لیک کے مکمل دائرہ کار کا تعین کرنے اور اپنے سسٹمز کی سیکوریٹی کو مضبوط بنانے کیلئے تکنیکی تحقیقات جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK