گلوبل صمود فلوٹیلا نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو باضابطہ طور پر ایک اطلاع جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجی کمانڈروں اور اعلیٰ سیاسی لیڈروں نے شرکاء کے خلاف جسمانی تشدد، جنسی تشدد اور اغوا کیے۔
EPAPER
Updated: June 02, 2026, 10:02 PM IST | New York
گلوبل صمود فلوٹیلا نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو باضابطہ طور پر ایک اطلاع جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجی کمانڈروں اور اعلیٰ سیاسی لیڈروں نے شرکاء کے خلاف جسمانی تشدد، جنسی تشدد اور اغوا کیے۔
گلوبل صمود فلوٹیلا نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو باضابطہ طور پر ایک اطلاع جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجی کمانڈروں اور اعلیٰ سیاسی لیڈروں نے شرکاء کے خلاف جسمانی تشدد، جنسی تشدد اور اغوا کیے۔ منتظمین نے ایک پریس ریلیز میں کہاکہ ’’اطلاع میں درج جرائم۲۹؍ ۳۰؍ اپریل۱۸؍ تا ۱۹؍ مئی ۲۰۲۶ء کو گلوبل صمود فلوٹیلا کے جہازوں کی غیر قانونی اور پرتشدد روک تھام کے دوران انجام دئے گئے، جس میں غیر مسلح شہری رضاکاروں کے خلاف انسانی حقوق اور انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں شامل تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کی ’قیمت چکانے‘کی دھمکی
بیان میں مزید کہا گیا،’’آئی سی سی میں پیش کردہ درخواست میں شہریوں بشمول صحافیوں، طبی عملے اور انسانی حقوق کے محافظوں کے خلاف سنگین اور وسیع پیمانے پر بدسلوکیوں کا ذکر ہے، جو بہار۲۰۲۶ء مشن کے دوران ، تشدد کی ایک مربوط مہم کے حصے کے طور پر دستاویز کئے گئے ۔ واضح رہے کہ گلابل صمود فلوٹیلا غزہ کیلئے بحری راستوں سے امداد بھیجنے کی مہم کا ایک سلسلہ ہے، جس کا مقصد اسرائیل کے ذریعے غزہ کی ۱۸؍ سالہ بحری ناکہ بندی کو توڑنا ہے۔اس مہم میں دنیا کے متعدد ممالک کے سیکڑوں کارکنوں نے حصہ لیا، جس میں انسانی حقوق کے کارکن، مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی سیاسی اور سماجی سرکردہ شخصیات شامل ہیں،تاہم اسرائیل نے ہر بار بین الاقوامی پانی میں عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان کشتیوں پر حملہ کرکے تمام کشتیوں کو ضبط کرکے کارکنان کو گرفتار کرلیا۔حالیہ معاملے میں کارکنان نے اسرائیلی فوجیوں پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں، جن میں جسمانی تشدد، جنسی ہراسانی، شامل ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے بین الاقوامی سمندرمیں غزہ کے لیے جانے والے ’گلوبل صمود فلوٹیلا کے انسانی بحری قافلے پر حملہ کیا۔ قافلے کی براہِ راست نشریات میں اسرائیلی بحری افواج کو ہر جہاز کو روکتے ہوئے دکھایا گیا۔۵۰؍ سے زیادہ کشتیوں پر مشتمل یہ قافلہ ترکی کے بحیرہ روم کے ضلع مرماریس سے روانہ ہوا تھا تاکہ غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی (جو۲۰۰۷ء کی گرمیوں سے جاری ہے) کو توڑنے کی ایک نئی کوشش کی جا سکے۔قافلے کے مطابق اس مشن میں۴۲۶؍ شرکاء تھے جن میں۹۶؍ ترک کارکن اور۳۹؍ دیگر ممالک (جرمنی، امریکہ، ارجنٹائن، آسٹریلیا، بحرین، برازیل، الجیریا، انڈونیشیا، مراکش، فرانس، جنوبی افریقہ، برطانیہ، آئرلینڈ، سپین، اٹلی، کینیڈا، مصر، پاکستان، تیونس، عمان اور نیوزی لینڈ) کے شرکاء شامل تھے۔۲۹؍ اپریل کو اسرائیلی افواج نے یونان کے جزیرے کریٹ کے ساحل کے قریب غزہ کے لیے جانے والے ایک اور امدادی مشن پر حملہ کیا۔ منتظمین نے بتایا کہ اسرائیلی افواج نے بین الاقوامی پانی میں کارکنوں کو لے جانے والی کشتیوں کو روکا،۱۷۷؍ کارکنوں کو حراست میں لیا اور غزہ سے تقریباً ۶۰۰؍بحری میل کے فاصلے پر جو یونانی علاقائی پانی سے کئی میل دور تھا ،ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔