Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلسطین پر اسرائیلی قبضہ، آثار قدیمہ کے تعلق سے فلسطینیوں میں تشویش

Updated: June 04, 2026, 2:11 PM IST | Gaza

غزہ پر اسرائیلی قبضے نے آثار قدیمہ کے تحفظ کے تعلق سے فلسطینیوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے،اس سے قبل اسرائیلی وزیر بیزائل اسموتریچ نے فلسطینی اتھاریٹی کے زیر انتظام ’’ سلیمان کا تالاب‘‘ کو ناقابل قبول قرار دیا تھا۔

Solomon`s Pools, a historical and tourist site in the occupied West Bank. Photo: X
مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع تاریخی اور سیاحتی مقام سلیمان کے تالاب ۔ تصویر: ایکس

بیت لحم کے جنوب میں مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع تاریخی اور سیاحتی مقام سلیمان کے تالاب (Solomon’s Pools) پر اسرائیلی قبضے کے منصوبے کے خلاف فلسطینیوں میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ یہ تشویش اسرائیلی وزیر خزانہ بزالیل ا سموتریچ کے حالیہ دورے کے بعد مزید بڑھ گئی ہے۔ اسموٹریچ نے چند روز قبل اسرائیلی آباد کاروں اور حکام کے ہمراہ اس آثار قدیمہ کی جگہ کا دورہ کیا اور فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام اس مقام کے تسلسل کو ’’ناقابل قبول‘‘قرار دیتے ہوئے اس صورتحال کو تبدیل کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی پارلیمنٹ نے خود کو تحلیل کرنے کا بل پہلی ریڈنگ میں منظور کرلیا

فلسطینی نائب وزیر برائے سیاحت و آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ ‘اس جگہ کی تاریخ اور تعمیر کا مقصد تاریخی طور پر دستاویزی شکل میں موجود ہے’فلسطینی حکام اور کارکنوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی یہ تازہ ترین کوششیں اس مقام پر مکمل قبضہ حاصل کرنے اور اسے آس پاس کے غیر قانونی یہودی بستیوں سے جوڑنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ واضح رہے کہ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیلی حکومت نے چند ماہ قبل مقبوضہ علاقوں میں آثار قدیمہ کی جگہوں پر وسیع اختیارات رکھنے والی ’’یہودیہ اور سامریہ ہیریٹیج اتھارٹی‘‘ قائم کرنے کی منظوری دی تھی۔آرٹاس فوک لور سینٹر کے ڈائریکٹر فادی سناد نے انادولو کو بتایا کہ’’ سلیمان کا تالاب‘‘۲۰۰۰؍ سال سے زیادہ پرانا آثار قدیمہ کا علاقہ ہے، جو کینانی دور سے لے کر رومی، مملوک اور عثمانی دور تک مختلف تہذیبوں سے متاثر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ مقام قدیم نہروں کے ذریعے بیت المقدس کو پانی کی فراہمی کا اہم ذریعہ رہا ہے۔ اس کے اردگرد کینانی ’’خربۃ الخوخ‘‘ اور بازنطینی و رومی آثار بھی موجود ہیں۔سناد نے بتایا کہ اسموتریچ کے دورے کے بعد اس علاقے میں اسرائیلی فوجیوں کیغیر قانونی سرگرمیاں  بڑھ گئی ہیں۔  بعض اوقات فلسطینیوں کو ان دوروں کے دوران جگہ تک رسائی سے روک دیا جاتا ہے۔انہوں نے سلیمان کے تالاب کو یونیسکو کی عالمی ورثہ فہرست میں شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور ثقافتی، سیاحتی اور خاندانی سرگرمیوں کے ذریعے فلسطینی موجودگی کو مضبوط کرنے کی اپیل کی۔

یہ بھی پڑھئے: لبنان میں اقوام متحدہ کی فوج رکھنا ضروری ہے : انتونیو غطریس

اسلامی وقف ارٹاس ویلیج کونسل کے نائب سربراہ سامر شاہین نے کہا کہ تالاب کے گرد زمین اسلامی وقف (وقف) ہے، جو عثمانی اور اردنی ریکارڈز میں درج ہے۔ یہ مقام اوسلو معاہدے کے تحت علاقہ ’’اے‘‘میں آتا ہے، جو مکمل طور پر فلسطینی کنٹرول میں ہے۔شاہین نے کہا کہ حالیہ برسوں میں اسرائیلی سیاسی اور میڈیا مہم تیز ہو گئی ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ مقام اسرائیلی کنٹرول میں ہونا چاہیے۔ا سموتریچ کا دورہ اس علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی حقیقی نیت کو ظاہر کرتا ہے۔فلسطینی نائب وزیر برائے سیاحت و آثار قدیمہ صالح طوافشہ نے سلیمان کے تالابوں کو ’’فلسطینی ٹھوس ثقافتی ورثے کا لازمی حصہ‘‘ قرار دیا۔انہوں نے انادولو کو بتایا کہ ’’اس جگہ کی تاریخ اور اس کی تعمیر کا مقصد تاریخی طور پر دستاویزی شکل میں موجود ہے۔‘‘انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیلی دعووں میں تاریخی اور سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں اور یہ نہ صرف زمین بلکہ فلسطینی ثقافتی اور تاریخی منظر نامے کو تبدیل کرنے کی  کوششیںہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کی وزارت بین الاقوامی اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ فلسطینی ورثہ کی حفاظت کی جائے اور اس کی تاریخی شناخت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کو روکا جا سکے۔
یہ تنازع اس وقت سامنے آیا ہے جب فلسطینیوں کا الزام ہے کہ اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں آثار قدیمہ اور مذہبی مقامات پر کنٹرول بڑھانے کی کوششیں تیز کر رہا ہے، جن میں نابلس کے قریب قدیم مقام سباستیہ اور بیت المقدس کے شمال میں نبی سموئیل کا علاقہ بھی شامل ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK