Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ: جبری نقل مکانی اور اموات، آبادی ۳ء۲؍ سے سکڑ کر ۱ء۲؍ ملین رہ گئی: یو این

Updated: July 04, 2024, 8:27 PM IST | Gaza

اسرائیلی مظالم، جبری نقل مکانی، بمباری اور اموات کے سبب غزہ کی آبادی ۲ء۳؍ ملین سے سکڑ کر ۱ء۲؍ ملین رہ گئی ہے۔ اقوام متحدہ نے اسے انسانی بحران قرار دیا ہے ، اور جنگ کو روکنے پر زور دیا ہے۔ فلسطینی اپنے گھر بار چھوڑ کر مصر کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

Palestinians on their way to safe places. Image: X
فلسطینی محفوظ مقامات کی جانب جاتے ہوئے۔ تصویر: ایکس

غزہ میں اقوام متحدہ کی انسانی برادری نے ہزاروں فلسطینیوں کی ہلاکت اور ہجرت کے بعد محصور علاقے میں آبادی کا تخمینہ ۳ء۲؍ ملین سے کم کرکے تقریباً ۱ء۲؍ ملین کردیا ہے۔ فلسطینی علاقوں کیلئے اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے دفتر کی سربراہ آندریا ڈی ڈومینیکو نے بدھ کو کہا کہ غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے نو ماہ بعد، اقوام متحدہ نے انسانی ہمدردی کی منصوبہ بندی کے واحد مقصد کیلئے جنگ سے پہلے کی آبادی کا تخمینہ کچھ کم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر اتھاریٹی کے مطابق اکتوبر سے اب تک ایک لاکھ ۱۰؍ ہزار لوگ غزہ چھوڑ کر مصر میں داخل ہو چکے ہیں اور اسرائیلی جنگ میں ۳۸؍ ہزار کے قریب فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔ ۸۷؍ ہزار سے زیادہ فلسطینی زخمی ہیں جبکہ مزید ۱۰؍ ہزار کا ملبہ میں دبے ہونے کا اندیشہ ہے۔ 

ڈی ڈومینیکو نے یروشلم سے اقوام متحدہ کی ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس سے اس بات کو روکا نہیں جا سکتا کہ کچھ لوگ واپس آ سکتے ہیں۔لیکن صرف ہمارے پروگرامنگ کے مقاصد کیلئے، انسانی برادری کے طور پر، ہمارا اندازہ ہے کہ غزہ میں موجود آبادی تقریباً ۱ء۲؍  ملین افراد پر مشتمل ہے۔ اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے مطابق، غزہ میں جاری جنگ نے فلسطینیوں، خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کو تباہ کن نقصان پہنچایا ہے، جو مسلسل صدمے، نقل مکانی اور خوف کی وجہ سے شدید تھکن کا شکار ہیں۔
اکتوبر ۲۰۲۳ء سے تقریباً ۱۰؍ لاکھ خواتین کو غزہ بھر میں حفاظت کی تلاش میں متعدد بار بے گھر کیا گیا ہے، جہاں سیکوریٹی اب بھی ناقص ہے۔ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ ۵۵؍ ہزار حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین میں، خوراک، پانی، پناہ گاہ، اور صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کی شدید قلت جان لیوا خطرات کا باعث ہے، جو متعدی بیماریوں میں اضافے کے خطرے کو مزید سنگین بنارہی ہے۔ غزہ سے فلسطینیوں کو نکالنے کا عزم اسرائیل میں بہت سے لوگوں نے کیا ہے، جن میں اس کے انتہائی دائیں بازو کے قانون ساز اور کئی سرکاری ایجنسیاں بھی شامل ہیں۔

اسرائیل کی وزارت انٹیلی جنس سے لیک ہونے والی ایک دستاویز، جیسا کہ وکی لیکس نے رپورٹ کیا ہے اور عبرانی ویب سائٹ میکومیٹ نے تصدیق کی ہے، غزہ کیلئے اسرائیلی منصوبوں کا انکشاف کیا ہے۔ اس دستاویز میں غزہ کی فلسطینی آبادی کو مصر کے شمالی سینائی سے نکالنے کے اقدامات کا خاکہ پیش کیا گیا ہے: شہریوں کو شمالی غزہ سے فرار ہونے پر مجبور کرنا، شمال سے جنوبی غزہ تک ترتیب وار فوجی آپریشن کرنا، رفح کے پار واضح راستوں کو یقینی بنانا، اور شمالی سینائی میں خیمہ شہر قائم کرنا جبکہ مستقل بستیوں کی تعمیر، وغیرہ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ غزہ جنگ میں امریکہ برابر کا شریک ہے‘‘

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے ایک اہلکار کے مطابق غزہ میں اسرائیل کے جاری حملے نے فلسطینیوں کی اکثریت کو زبردستی بے گھر کر دیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے جنوبی اور وسطی غزہ میں لاکھوں افراد کے انخلاء کا ایک اور دور نافذ کیا گیا۔ غزہ کیلئے اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی اور تعمیر نو کے سینئر کوآرڈینیٹر سیگریڈ کاگ نے اسرائیل کے وحشیانہ حملے اور انسانی ناکہ بندی کی وجہ سے غزہ کو ’’تکلیف کا گڑھا‘‘ اور ’’’انسانی مصائب کا شکار‘‘ قرار دیا۔
کاگ نے رپورٹ کیا کہ اس سال مئی سے، صرف رفح میں ۱۰؍ لاکھ سے زیادہ لوگ ایک بار پھر بے گھر ہو چکے ہیں، جو شدت سے پناہ کی تلاش میں ہیں۔ مجموعی طور پر اب غزہ میں ۹ء۱؍ ملین لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK