Updated: October 09, 2026, 9:09 PM IST
| Washington
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا کہ ”وہائٹ ہاؤس ہر اس شخص کو جو وسیع پیمانے پر قبول کی جانے والی نئی اور زیادہ درست اصطلاح ’سپر انٹیلی جنس‘ کے برعکس ’آرٹیفیشل انٹیلی جنس‘ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے، دشمن تصور کرتا ہے!“ ٹرمپ کا یہ بیان اشارہ کرتا ہے کہ وہائٹ ہاؤس ان کمپنیوں یا افراد کو سزا دے سکتا ہے جو اس کی ترجیحی اصطلاح اپنانے سے انکار کرتے ہیں۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز بیان دیا ہے کہ جو کوئی بھی شخص ان کی ترجیحی اصطلاح ”سپر انٹیلیجنس“ (ایس آئی) کے بجائے ”مصنوعی ذہانت“ (اے آئی) کا استعمال جاری رکھے گا، اسے وہائٹ ہاؤس کا ”دشمن“ سمجھا جائے گا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا کہ ”وہائٹ ہاؤس ہر اس شخص کو جو وسیع پیمانے پر قبول کی جانے والی نئی اور زیادہ درست اصطلاح ’سپر انٹیلی جنس‘ کے برعکس ’آرٹیفیشل انٹیلی جنس‘ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے، دشمن تصور کرتا ہے!“
ٹرمپ کا یہ بیان اشارہ کرتا ہے کہ وہائٹ ہاؤس ان کمپنیوں یا افراد کو سزا دے سکتا ہے جو اس کی ترجیحی اصطلاح اپنانے سے انکار کرتے ہیں، جس کے نفاذ کی صورت میں ممکنہ طور پر پہلی ترمیم (First Amendment) کی خلاف ورزی سے جڑے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ کا مؤقف رہا ہے کہ اصطلاح ”آرٹیفیشل انٹیلی جنس“ سے غلط طور پر یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ”جعلی“ یا بناوٹی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملے کے امکان کو مسترد کر دیا
اگرچہ میٹا (Meta) جیسی کمپنیاں، جو سپر انٹیلی جنس لیبز چلاتی ہیں، پہلے ہی اس سے ملتی جلتی برانڈنگ استعمال کر چکی تھیں، لیکن ان لیبلز کا مقصد خود اصطلاح ”آرٹیفیشل انٹیلی جنس“ کو مسترد کرنے کے بجائے مستقبل کے اے آئی عزائم کا اظہار تھا۔
ستمبر کے اواخر میں وہائٹ ہاؤس میں انڈسٹری لیڈران کے ساتھ ملاقات کے بعد، ٹرمپ نے ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کئے جس میں وفاقی محکموں اور ایجنسیوں کو پابند کیا گیا کہ وہ ”قانون کے تحت زیادہ سے زیادہ اجازت کی حد تک،“ سرکاری خط و کتابت، عوامی ابلاغ اور ویب سائٹس میں ”آرٹیفیشل انٹیلیجنس“ اور ”اے آئی “ کے بجائے ”سپر انٹیلیجنس“ اور ”ایس آئی “ کا استعمال کریں۔ یہ حکم اوپن اے آئی جیسی نجی کمپنیوں پر لاگو نہیں ہوتا، کیونکہ وہائٹ ہاؤس کے پاس نجی شعبے میں اس تبدیلی کو نافذ کرنے کا قانونی اختیار موجود نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مجھےامن کا نوبیل انعام ملنا چاہئے: ٹرمپ نے اپنا دعویٰ دہرایا
اس پابندی کے باوجود، کم از کم ایک بڑی کمپنی نے پہلے ہی اس کی تعمیل کر لی ہے۔ اسپیس ایکس کے سی ای او ایلون مسک نے ایکس پر اعلان کیا کہ کمپنی انتظامیہ کی ترجیحی برانڈنگ سے ہم آہنگ ہونے کیلئے اپنے اے آئی ڈویژن، SpaceXAI کا نام بدل کر SpaceXSI رکھے گی۔