• Sat, 24 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ نسل کشی کی مخالفت کا اثر، اسرائیلی لابی نے امریکی امیدواروں کی فنڈنگ ختم کی

Updated: October 23, 2026, 10:09 PM IST | Washington

غزہ میں نسل کشی کی مخالفت میں اضافے کے نتیجے میں اسرائیل نواز لابی AIPAC نے امریکی امیدواروں کی براہ راست فنڈنگ ختم کر دی، یہ فیصلہ امریکہ میں عام امریکیوں میں اسرائیل کے لیے حمایت میں کمی کی وجہ سے AIPAC پر بڑھتی ہوئی تنقید کے درمیان آیا ہے۔

A photograph of a procession held in opposition to the genocide in Gaza. Image: X
غزہ نسل کشی کی مخالفت میں نکلے ایک جلوس کی تصویر۔ تصویر: ایکس

امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (یا AIPAC)، جو امریکہ میں ایک بڑا اسرائیل نواز لابنگ گروپ ہے، نے۳؍ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ، یہ اعلان کرتے ہوئے کہ وہ امیدواروں کی براہ راست توثیق اور عطیات دینا بند کر دے گی، حکمت عملی تبدیل کر دی ہے۔AIPAC کا فیصلہ غزہ میں محصور فلسطینیوں کی نسل کشی پر امریکہ میں اسرائیل کے لیے عوامی حمایت میں کمی کے بعد آیا ہے۔بدھ کو AIPAC کی طرف سے اپنے اراکین کو بھیجا گیا ایک خط، جو پہلی بار جیوش انسائیڈر نے شائع کیا، امریکہ میں رائے عامہ پر اسرائیلی لابی کے اثر و رسوخ کے خاتمے کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی آئیووا میں انتخابی مہم، مشی گن کے ترقی پسند لیڈر کو ’جہادی‘ کہا

اپنے خط میں، AIPAC نے کہا کہ کمیٹی۳؍ نومبر کو  ہونے والے امریکی وسط مدتی کانگریس کے انتخابات میں ’’امیدواروں کی براہ راست توثیق‘‘ اور ’’مخصوص مقدار تک عطیات‘‘ کو ختم کر دے گی۔یہ عطیات  فی الیکشن۵۰۰۰؍ ڈالر یا پرائمری اور عام انتخابات کے لیے کل ۱۰۰۰۰؍ ڈالر تک محدود تھے۔تاہم، یہ فیصلہ اس کثیر ملین ڈالر کے عطیات کو متاثر نہیں کرے گا جو اسرائیل نواز گروپ کو اس کے ’’سپر PAC‘‘ کی چھتری کے تحت ملتا ہے۔
فیڈرل الیکشن کمیشن (FEC) کے اعداد و شمار کے مطابق۲۰۲۵ء میں پی اے سی ملک میں سب سے بڑا عطیہ دہندہ تھا، جس نے امیدواروں اور دیگر سیاسی کمیٹیوں کو۲۶ء اعشاریہ ۸؍ ملین ڈالر عطیہ کیے تھے۔جبکہ اس نے پہلے ہی اپنی مرکزی یونائیٹڈ ڈیموکریسی پروجیکٹ (UDP) کے ذریعے ملک بھر میں مقابلوں میں کروڑوں ڈالر ڈالے ہیں۔یہ فیصلہ، جسے غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کے بعد اسرائیلی پالیسیوں کے بارے میں ڈیموکریٹس میں بڑھتی ہوئی ناراضگی کا عکاس سمجھا جاتا ہے، امریکی میڈیا میں گونج اٹھا۔
وال اسٹریٹ جرنل (WSJ) اور سی این بی سی نے رپورٹ کیا کہ AIPAC کو  اس وقت اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور ہونا پڑا جب کچھ ممتاز ڈیموکریٹک امیدواروں نے اعلان کیا کہ وہ AIPAC کی حمایت کو مسترد کر رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی سیاست کے حوالے سے AIPAC کی انتخابی حکمت عملی میں تبدیلی ڈیموکریٹک ووٹرز میں اسرائیل کے تئیں بڑھتی ہوئی ناراضگی سے متاثر ہوئی، خاص طور پر غزہ میں نسل کشی کی وجہ سے۔خبریں اس بات پر روشنی ڈالتی ہیں کہ سینیٹرز کوری بکر اور روبن گالیگو، اور کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم جیسے ممتاز ڈیموکریٹس، نیز بہت سے ’’ترقی پسند‘‘ شخصیات نے اپنے حلقوں کے دباؤ کی وجہ سے AIPAC کے عطیات قبول نہ کرنے کا عہد کیا تھا۔مزید برآں ڈیموکریٹس اور اسرائیل لابی کے درمیان کشیدگی جولائی میں اس وقت بڑھ گئی جب ایوان نمائندگان کے۱۰۳؍ ڈیموکریٹک اراکین نے اسرائیل کو امداد میں کٹوتی کی قرارداد کی حمایت کی۔حالانکہ تحریک کو مسترد کردیا گیا، لیکن AIPAC نے بعد میں اس کے حق میں ووٹ دینے والے کانگریس کے ڈیموکریٹک اراکین کے نام اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیے۔پیو ریسرچ سینٹر کی جانب سے کیے گئے ایک حالیہ سروے سے پتہ چلا ہے کہ۸۰؍ فیصد ڈیموکریٹس اور آزاد ڈیموکریٹس اسرائیل کے بارے میں منفی خیالات رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: بین الاقوامی فوجداری عدالت کے سینئرعہدیداران کو۲۰۲۶ء کا یورپی یونین سخاروف انعام

بعد ازاں سروے نے اشارہ کیا کہ یہ شرح، جو۲۰۲۲ء میں۵۳؍ فیصد تھی، خاص طور پر غزہ میں اسرائیل کی جانب سے پیدا کیے گئے انسانی بحران کی وجہ سے نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔ سروے میں بتایا گیا کہ اسرائیل کے بارے میں منفی خیالات، خاص طور پر۱۸؍ سے۴۹؍ سال کی عمر کے ریپبلکن میں، پچھلے سال میں۵۰؍ فیصد سے بڑھ کر۵۷؍ فیصد ہو گئے ہیں۔ اس کے برعکس، سروے میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ اسرائیل کے بارے میں مثبت خیالات رکھنے والوں کی تعداد۵۵؍ فیصد سے کم ہوکر ۲۰۲۶ء میں ۳۷؍ فیصد رہ گئی۔
واضح رہے کہ اسرائیل اکتوبر۲۰۲۳ء سے غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے۔ جس میں۷۴؍ فلسطینیوں کو شہید کیا جاچکا ہے - ان میں سے زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔اس کے علاوہ ہزاروں فلسطینیوں کے بمباری سے تباہ گھروں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی اصل تعداد غزہ حکام کی رپورٹ سے کہیں زیادہ ہے، اندازہ ہے کہ یہ تقریباً۲؍ لاکھ تک ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK