Updated: November 30, 2025, 4:05 PM IST
| Gaza
غزہ میں دو سال بعد اسلامی یونیورسٹی میںدوبارہ براہ راست کلاسیںشروع کرنے کا منصوبہ جاری ہے۔ یونیورسٹی کی عمارتیں فضائی حملوں سے متاثر ہوئی ہیں اور کچھ حصے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ جزوی طور پر مرمت کردہ دراڑ دار دیواروں کے درمیان، سیکڑوں طلبہ کلاس روم میں واپس آ چکے ہیں۔
غزہ کی اسلامی یونیورسٹی نے دو سال کے اسرائیلی جارحیت کے بعد براہ راست تعلیم کی طرف بتدریج واپسی کے قبل کے اقدامات کرنا شروع کر دیے ہیں۔ یونیورسٹی کی عمارتیں فضائی حملوں سے متاثر ہوئی ہیں اور کچھ حصے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کے وحشیانہ حملوں نے غزہ کے تعلیمی نظام کو تباہ کر دیا گیا تھا۔جزوی طور پر مرمت کردہ دراڑ دار دیواروں کے درمیان، سیکڑوں طلبہ کلاس روموں میں واپس آ چکے ہیں۔ یہ منظر غزہ کے فلسطینیوں کی زندگی اور تعلیم کو دوبارہ حاصل کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، چاہے قتل عام کے زخم کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں ہر ہفتے درجنوں فلسطینیوں کو حراست میں لیتا ہے: پی پی ایس
بعد ازاں اسلامی یونیورسٹی نے جنگ کے بعد پہلی بار براہ راست تدریس کا آغاز کیا۔ واضح رہے کہ دوسالہ اسرائیلی جارحیت کے سبب تعلیمی سلسلہ موقوف رہا، اس دوران بے گھر ہونے، بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور یونیورسٹی کی سہولیات کے تباہ ہونے کے باوجود آن لائن تعلیم کے محدود اقدامات ممکن ہو سکے۔ مزید یہ کہ غزہ میڈیا آفس کے مطابق، اسرائیلی نسل کشی میں۱۶۵؍ اسکول، یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے مکمل طور پر تباہ ہوئے، جبکہ ۳۹۲؍ جزوی طور پر متاثر ہوئے، جس سے غزہ کے تعلیمی شعبے کو شدید نقصان پہنچا۔اس کے علاوہ یونیورسٹی کی عمارتوں کے کچھ حصوں میں بے گھر ہونے والے سیکڑوں خاندان بھی پناہ لیے ہوئے ہیں جن کے گھر نسل کشی کے دوران تباہ ہو گئے تھے اور جن کے پاس رہنے کے لیے کوئی متبادل جگہ نہیں ہے۔ اس نے یونیورسٹی انتظامیہ کو متعلقہ حکام سے فوری حل نکالنے اور ان کے لیے متبادل رہائش مہیا کرنے کی اپیل کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اٹلی: دفاعی اخراجات میں اضافے اور اسرائیل نواز پالیسیوں کے خلاف شہریوں کا زبردست مظاہرہ
میڈیا آفس کے تخمینوں کے مطابق، غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی کے بعد رہائشی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ۳؍ لاکھ خیموں اور پریفابریکیٹڈ ہاؤسنگ یونٹس کی ضرورت ہے۔یونیورسٹی کے صدر اسعد یوسف اسعد نے انادولو ایجنسی کو بتایا، ’’آج ایک تاریخی دن ہے۔ ہم نسل کشی کے پیچھے چھوڑے گئے سانحے اور ظلم کے باوجود تعلیم کی طرف واپس آرہے ہیں۔‘‘انہوں نے براہ راست تدریس کی طرف بتدریج واپسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’’فلسطینی، جیسا کہ سب جانتے ہیں، زندگی اور تعلیم سے محبت کرتے ہیں۔‘‘انہوں نے بتایا کہ سنیچر کو طب اور صحت کی سائنسز کے شعبہ جات کے بڑی تعداد میں طلبہ اپنی کلاسوں میں واپس آئے۔ انہوں نے بتایا کہ مکمل واپسی کا ایک مرحلہ وار منصوبہ وزارت تعلیم و اعلیٰ تعلیم کے تعاون سے جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کو غزہ کی دیگر تمام یونیورسٹیوں کی طرح شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑا، جس میں کئی مرکزی عمارتوں کی مکمل تباہی بھی شامل ہے، جس نے اسے جنگ کے دوران بے گھر ہونے، بجلی کے مسلسل منقطع ہونے اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے کےسبب آن لائن تعلیم پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا۔انہوں نے وضاحت کی کہ نسل کش جنگ کے دوران۴۰۰۰؍ طلبہ نےآن لائن تعلیم کے ذریعے اپنی ڈگریاں حاصل کیں، اور یونیورسٹی اکتوبر۲۰۲۳ء کے بعد پہلی بار نئے طلبہ کو براہ راست داخلہ دے رہی ہے۔