غزہ میں اسرائیل کے ذریعے جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری ہے، اور روزانہ ہونے والی ہلاکتوں کے بعد شہداء کی تعداد ۷۰؍ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، محکمہ صحت کے مطابق امن معاہدہ نافذ ہونے کے بعد سے ۳۵۴؍فلسطینی اسرائیلی فائرنگ کا نشانہ بن چکے ہیں۔
EPAPER
Updated: November 30, 2025, 9:10 PM IST | Gaza
غزہ میں اسرائیل کے ذریعے جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری ہے، اور روزانہ ہونے والی ہلاکتوں کے بعد شہداء کی تعداد ۷۰؍ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، محکمہ صحت کے مطابق امن معاہدہ نافذ ہونے کے بعد سے ۳۵۴؍فلسطینی اسرائیلی فائرنگ کا نشانہ بن چکے ہیں۔
غزہ کے محکمہ صحت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل نے دو سال سے جاری نسل کشی کے آغاز سے اب تک ۷۰؍ ہزار سے زیادہ افراد کو شہید کر دیا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل گزشتہ ماہ نافذ ہونے والی جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔محکمہ کے مطابق، ۱۰؍ اکتوبر سے نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے۳۵۴ فلسطینی اسرائیلی فائرنگ کا نشانہ بن چکے ہیں۔دریں اثناء محکمہ نے بتایا کہ گزشتہ۴۸؍ گھنٹوں میں غزہ کے اسپتالوں میں دو لاشیں پہنچی ہیں، جن میں سے ایک ملبے کے نیچے سے برآمد ہوئی تھی۔تاہم انہوں نے بتایا کہ ہلاکتوں میں اچانک اضافہ اس حقیقت کی وجہ سے ہے کہ۲۹۹؍ لاشوں سے متعلق ڈیٹا پر حکام کے ذریعے کارروائی کی گئی اور اسے منظور کر لیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے شمالی مغربی کنارہ کے توبس سے اپنی فوجیں واپس بلا لی
واضح رہے کہ جنگ بندی کے باوجود، اسرائیل کی ناکہ بندی اور خلاف ورزیوں کی وجہ سے فلسطینی خطےگہرے انسانی بحران کا شکار ہیں۔ یہ تازہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اقوام متحدہ ہر سال نومبر کو فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا عالمی دن منا رہا ہے۔اقوام متحدہ کے سربراہ انٹونیو غطریس نے ایک بیان میں کہا، ’’بہت سے طریقوں سے، اس سانحے نے ان اصولوں اور قوانین کو آزمایا ہے جنہوں نے نسلوں سے بین الاقوامی برادری کی رہنمائی کی ہے۔‘‘انہوں نے کہا، ’’اتنے بے گناہ شہریوں کا قتل، پوری آبادی کا بار بار بے گھر ہونا، اور انسان دوست امداد میں رکاوٹیں کسی بھی حالات میں قابل قبول نہیں ہونی چاہئیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’حالیہ جنگ بندی امید کی ایک کرن فراہم کرتی ہے۔ اب یہ انتہائی ضروری ہے کہ تمام فریق اسے مکمل طور پر برقرار رکھیں اور بین الاقوامی قانون کی بحالی کے حل کے لیے نیک نیتی سے کام کریں۔‘‘یہ بھی یاد رہے کہ اسرائیل نے ناکہ بندی والے اس علاقے کے بیشتر حصے کو تباہی کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے اور عملی طور پر اس کی پوری آبادی کو بے گھر کر دیا ہے۔