• Sun, 30 November, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل نے شمالی مغربی کنارہ کے توبس سے اپنی فوجیں واپس بلا لی

Updated: November 30, 2025, 7:04 PM IST | Gaza

اسرائیل نے شمالی مغربی کنارہ کے توبس سے اپنی فوجیں واپس بلا لی، اس سے قبل اسرائیل کی چار روزہ ظالمانہ کارروائی کے دوران۱۵۰؍ سے زائد فلسطینی زخمی اور۲۰۰؍ سے زیادہ گرفتار کر لیے گئے۔

The devastation left behind by Israel. Photo: X
اسرائیل کے ذریعے اپنے پیچھے چھوڑے گئے تباہی کے نشان۔ تصویر: ایکس

اسرائیلی فوج نے شمالی مقبوضہمغربی کنارہ  کے علاقے توبس سے اپنی فوجیں واپس بلا لی ہیں، جہاں چار روزہ ظالمانہ کارروائی کے دوران۱۵۰؍ سے زائد فلسطینی زخمی اور۲۰۰؍ سے زیادہ گرفتار کر لیے گئے۔ توبس کے گورنر احمد الاسعد نے انادولو ایجنسی کو سنیچر کو بتایا کہ اسرائیلی فوج طوبس شہر، اس کے قصبے اور الفارعہ پناہ گزین کیمپ سے مکمل طور پر پسپا ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے خطے کے تمام علاقوں سے پسپائی اختیار  کر کے ان گھروں کو خالی کر دیا ہے جنہیں فوجی بیرکوں میں تبدیل کر رکھا تھا، اور اب نقصانات کے جائزے کا عمل جاری ہے۔گورنر کے مطابق، اسرائیلی جارحیت کے دوران فوج نے تقریباً۳۵۰؍ فلسطینی گھروں میں چھاپے مارے اور ان کے سامان کو تباہ و برباد کیا۔انہوں نے بتایا کہ اس حملے کے دوران۲۰۰؍ سے زیادہ فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے زیادہ تر کو بعد میں رہا کر دیا گیا، جبکہ تقریباً ۷۰؍ افراد اب بھی اسرائیلی حراست میں ہیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں۱۵۰؍ سے زیادہ فلسطینی زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں ہر ہفتے درجنوں فلسطینیوں کو حراست میں لیتا ہے: پی پی ایس

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے بدھ کو توبس شہر، اس کے ارد گرد کے دیہاتوں اور الفارعہ کیمپ میں ایک ظالمانہ کارروائی شروع کی تھی۔گورنر الاسعد نے توبس کے قصبوں، دیہاتوں اور الفارعہ کیمپ کے داخلی راستوں پر ہونے والی بنیادی ڈھانچے کی تباہی کی طرف اشارہ کیا، جس میں تامون قصبے کی سڑکوں اور پانی کےنظام کو زمین دوز کرنا شامل ہے۔دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ شمالی مقبوضہمغربی کنارہ  میں اپنی جارحانہ کارروائی جاری رکھے گی، جس میں ضروری آپریشنل ضروریات کے تحت جنین میں عمارتوں کو ڈھانا بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: دو سال بعد اسلامی یونیورسٹی میں دوبارہ براہ راست تعلیم کا آغاز

اسرائیلی فوج نے اکتوبر۲۰۲۳ء میں غزہ کی نسل کشی کے آغاز سے مقبوضہ مغربی کنارہ میں اپنے حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔اس کے بعد سے مقبوضہ علاقے میں اسرائیلی فوج اور غیرقانونی آبادکاروں کے حملوں میں۱۰۸۵؍ سے زیادہ فلسطینی شہید اور۱۰۷۰۰؍ سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ۲۰۵۰۰ سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔بعد ازاں گذشتہ سال جولائی میں انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے ایک تاریخی رائے میں اسرائیلی قبضے کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے مغربی کنار ہ اور مشرقی یروشلم میں تمام آبادکاریوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK