Updated: October 13, 2026, 10:02 PM IST
| Gaza
۱۳ جولائی کو غزہ کی وزارتِ زراعت نے زرعی شعبے کو جنگ سے پہنچنے والے مجموعی نقصانات کا تخمینہ ۳ ارب ڈالر سے زائد لگایا، جس میں ۴۹ء۱ ارب ڈالر کا براہِ راست نقصان اور ۵۹ء۱ ارب ڈالر کے بالواسطہ نقصانات شامل ہیں۔ دیر البلاح کے ایک کسان کامل برکہ نے بتایا کہ پیداوار میں ۷۰ سے ۸۰ فیصد تک کی زبردست گراوٹ آئی ہے۔ انہوں نے انادولو کو بتایا، ”ایک درخت جس سے جنگ سے پہلے تقریباً ۱۰۰ کلوگرام زیتون حاصل ہوتا تھا، اب ۲۰ سے ۳۰ کلوگرام سے زیادہ نہیں دے رہا ہے۔“
رواں سال بھی غزہ کے فلسطینی کسانوں کی زیتون کی فصل، اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کی وجہ سے شدید متاثر ہوئی ہے۔ اس سال زیتون کی پیداوار میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے اور زرعی اراضی کے وسیع رقبے کو نقصان پہنچا ہے۔ مزید برآں، اسرائیلی فوجی کنٹرول یا نام نہاد ”یلو لائن“ (زرد لکیر) کے اس پار واقع ہونے کے باعث زیتون کے متعدد باغات تک رسائی ناممکن ہو چکی ہے۔ جو زرعی اراضی اب بھی قابلِ رسائی ہے، وہاں کاشتکار کھاد، آبپاشی کے پانی اور زرعی سامان کی قلت کے ساتھ ساتھ مزدوری، نقل و حمل اور تیل نکالنے (پریسنگ) کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باوجود زیتون کی چنائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے باعث کئی خاندان اپنے سالانہ معمول کے مطابق تیل اور زیتون کا ذخیرہ کرنے سے قاصر ہیں۔
۱۳ جولائی کو غزہ کی وزارتِ زراعت نے زرعی شعبے کو جنگ سے ہونے والے مجموعی نقصانات کا تخمینہ ۳ ارب ڈالر سے زائد لگایا، جس میں ۴۹ء۱ ارب ڈالر کا براہِ راست نقصان اور ۵۹ء۱ ارب ڈالر کے بالواسطہ نقصانات شامل ہیں۔ دیر البلاح کے ایک کسان کامل برکہ نے بتایا کہ پیداوار میں ۷۰ سے ۸۰ فیصد تک کی زبردست گراوٹ آئی ہے۔ انہوں نے انادولو کو بتایا، ”ایک درخت جس سے جنگ سے پہلے تقریباً ۱۰۰ کلوگرام زیتون حاصل ہوتا تھا، اب ۲۰ سے ۳۰ کلوگرام سے زیادہ نہیں دے رہا ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سیزن، جو کبھی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ تھا، ”اب چند خاندانوں کی ضروریات بھی بمشکل پوری کر پاتا ہے۔“
یہ بھی پڑھئے: اکتوبر۲۰۲۳ء سے غزہ میں ۵۰؍ ہزار خواتین اور لڑکیاں ہلاک یا شدید زخمی: اقوام متحدہ
برکہ نے کہا کہ مشرقی وسطی غزہ میں، خاص طور پر صلاح الدین اسٹریٹ کے مشرق میں اور یلو لائن (جو ۱۰ اکتوبر ۲۰۲۵ء سے شروع ہونے والی جنگ بندی کے تحت اسرائیلی فوج کی انخلاء کی حد ہے) کے ارد گرد، زیتون کے باغات کے وسیع رقبے کسانوں کی پہنچ سے بدستور باہر ہیں۔ دیر البلاح، بریج اور مغازی کے کاشتکاروں کو اس زمین تک پہنچنے میں خاص طور پر دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو کبھی زیتون کی پیداوار کا مرکز ہوا کرتی تھی، جبکہ باقی ماندہ قابلِ رسائی زرعی زمین مقامی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے افی ہے۔
جنگ سے پہلے کی تیاریاں مثلاً مزدوروں کو رکھنا اور آلات تیار کرنا، جو ایک ماہ پہلے شروع ہو جاتی تھیں، اب بڑھتے ہوئے اخراجات اور گرتی پیداوار کی وجہ سے تیزی سے ماند پڑ چکی ہیں، جس کے باعث کچھ کسان اب صرف گھریلو استعمال کیلئے ہی زیتون جمع کر رہے ہیں۔ برکہ نے بتایا کہ زیتون سے تیل نکالنے کے اخراجات جنگ سے پہلے کے مقابلے تین گنا بڑھ چکے ہیں، جبکہ فصل کی ترسیل کیلئے ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنا بھی مسلسل مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ بندی صرف کاغذ پر موجود ہے: ۱۰۰ سے زائد غیر سرکاری تنظیموں کا مشترکہ بیان
برکہ نے بتایا کہ ”زیتون کا سیزن، جو کبھی کسانوں کے لیے اپنے ذرائع معاش کو بہتر بنانے اور سال بھر کے لیے خوراک کی فراہمی محفوظ کرنے کا ایک موقع ہوتا تھا، اب ایک ایسا تھکا دینے والا سیزن بن چکا ہے جو ان میں سے کئی کو ان کی ضرورت کا محض ایک معمولی حصہ ہی فراہم کرتا ہے۔“
غزہ کی وزارتِ زراعت کا کہنا ہے کہ ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک ایک لاکھ ۵۸ ہزار ۹۰۹ دونم زرعی اراضی، جو خطے کے کل رقبے کا تقریباً ۸۷ فیصد ہے. کو نقصان پہنچ چکا ہے۔ اس تنازع میں ۷۴ ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ ۷۵ ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ اس محصور علاقے کا تقریباً ۹۰ فیصد بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوچکا ہے۔