Updated: October 10, 2026, 7:10 PM IST
| Gaza
تنظیموں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی افواج نے نام نہاد یلو لائن (Yellow Line) کو طے شدہ انخلاء کی لائن سے کہیں آگے غزہ کے مزید اندر دھکیل دیا ہے، اس کی وجہ سے فلسطینی ایک انتہائی گنجان علاقے تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ تقریباً ۲۰ لاکھ فلسطینیوں کو اب بھی پناہ گاہوں کی ضرورت ہے، جبکہ غزہ کے ۸۰ فیصد سے زائد ڈھانچے تباہ ہو چکے ہیں۔ موسمِ سرما کی آمد کے ساتھ ہی خاندان غیر محفوظ عمارتوں اور کھلے خیموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔
دنیا بھر کی ۱۰۰ سے زائد امدادی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے جمعہ کے روز مشترکہ بیان جاری کرکے کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدے پر دستخط ہونے کے ایک سال بعد بھی جاری اسرائیلی حملوں اور امداد و تعمیرِ نو پر عائد پابندیوں کے پیشِ نظر غزہ جنگ بندی ’صرف کاغذوں پر موجود ہے۔‘ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اسرائیلی حملوں، فائرنگ اور فوجی کارروائیوں میں کم از کم ۳۲۴ بچوں سمیت ۱۴۰۰ سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ، ۳؍ سال: ۱۰؍ اکتوبر کو ۶۰؍ ممالک میں احتجاج، ۲۰۰؍ سے زائد تنظیمیں متحرک
سیو دی چلڈرن (Save the Children) تنظیم کی چیف ایگزیکٹیو اینگر ایشنگ نے کہا کہ ”اگر بچوں کا قتل عام جاری رہے اور خاندان اپنی زندگیوں کو دوبارہ سنوارنے سے قاصر رہیں تو جنگ بندی بے معنی ہے۔“ انہوں نے نشان دہی کی کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے تقریباً روزانہ ایک بچہ شہید ہوا ہے۔
تنظیموں نے کہا کہ اسرائیلی افواج نے نام نہاد یلو لائن (Yellow Line) کو طے شدہ انخلاء کی لائن سے کہیں آگے غزہ کے مزید اندر دھکیل دیا ہے، اس کی وجہ سے فلسطینی ایک انتہائی گنجان علاقے تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ تقریباً ۲۰ لاکھ فلسطینیوں کو اب بھی پناہ گاہوں کی ضرورت ہے، جبکہ غزہ کے ۸۰ فیصد سے زائد ڈھانچے تباہ ہو چکے ہیں۔ موسمِ سرما کی آمد کے ساتھ ہی خاندان غیر محفوظ عمارتوں اور کھلے خیموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔ ستمبر میں غزہ شہر میں ایک عمارت کے گرنے سے ۱۲ بچوں سمیت ۲۱ افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ، ۳؍ سال: مظاہروں کا دائرہ وسیع، بارسلونا سے ایتھنز تک فری فلسطین کے نعرے
نارویجین رفیوجی کونسل کے سیکریٹری جنرل جان ایگلینڈ نے متنبہ کیا کہ امدادی سامان اور تعمیراتی سامان پر اسرائیلی پابندیاں بحالی کی کوششوں کو بدستور روکے ہوئے ہیں۔ ادویات، آلات اور ایندھن کی قلت کے باعث غزہ کے ۳۶ اسپتالوں میں سے ایک بھی اسپتال اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر رہا ہے۔ محصور فلسطینی علاقے میں کم از کم ۴۰۰۰ بچوں سمیت ۱۸۵۰۰ سے زائد مریضوں کو فوری طبی انخلاء کی ضرورت ہے جبکہ ۱۰۰۰ سے زائد مریض انتظار کے دوران دم توڑ چکے ہیں۔ دوسری جانب، سال کے اختتام تک ۱۴ لاکھ افراد بحرانی سطح کی بھوک یا اس سے بھی بدتر صورتحال کا سامنا کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ، ۳؍ سال: اس ماہ کے ابتدائی۱۵؍ دن، ۳۷؍ ممالک میں ۲۶۲؍ فلسطین حامی پروگرام
تنظیموں نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہلاکتوں کا سلسلہ بند کروائیں، بلا روک ٹوک انسانی امداد کی ترسیل یقینی بنائیں اور تعمیرِ نو اور احتساب کی کوششوں کی حمایت کریں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل ایگنیس کالمارڈ نے کہا کہ ”احتساب کو ملبے تلے دفن نہیں کیا جا سکتا۔“