اقوام متحدہ کے مطابق اکتوبر۲۰۲۳ء سے غزہ میں تقریباً۵۰؍ ہزار خواتین اور لڑکیاں ہلاک یا شدید زخمی ہوئی ہیں، ان میں ۳۸؍ہزار سے زیادہ ہلاک،۱۱۷۰۰؍ تاحیات معذوری کا شکار، جبکہ تقریباً ۱۰؍لاکھ خواتین اور لڑکیاں اپنے گھروں سے بے گھرہوگئی ہیں۔
EPAPER
Updated: October 10, 2026, 10:01 PM IST | New York
اقوام متحدہ کے مطابق اکتوبر۲۰۲۳ء سے غزہ میں تقریباً۵۰؍ ہزار خواتین اور لڑکیاں ہلاک یا شدید زخمی ہوئی ہیں، ان میں ۳۸؍ہزار سے زیادہ ہلاک،۱۱۷۰۰؍ تاحیات معذوری کا شکار، جبکہ تقریباً ۱۰؍لاکھ خواتین اور لڑکیاں اپنے گھروں سے بے گھرہوگئی ہیں۔
اقوام متحدہ کی خواتین ایجنسی (UN Women) نے جمعہ کو کہا کہ اکتوبر۲۰۲۳ء سے غزہ میں تقریباً ۵۰؍ ہزار خواتین اور لڑکیاں ہلاک یا شدید زخمی ہو چکی ہیں، جو علاقے میں ہر۲۱؍ میں سے ایک خاتون یا لڑکی کے برابر ہے۔یو این ویمن کی انسانی ہمدردی کی سربراہ صوفیہ کالٹورپ نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایاکہ ۳۸؍ ہزار سے زیادہ ہلاک اور۱۱۷۰۰؍ اتنی شدید زخمی ہیں کہ اب وہ تاحیات معذوری کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر ہلاکتیں جنگ کے پہلے دو سالوں کے دوران ہوئیں، جبکہ ایک سال قبل جنگ بندی معاہدہ نافذ ہونے کے باوجود تشدد جاری ہے، جس میں اکتوبر۲۰۲۵ء سے۲۷۷؍ خواتین اور لڑکیاں ہلاک ہو چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ تقریباً دس لاکھ خواتین اور لڑکیاں اپنے گھروں سے بے گھر ہونے پر مجبور ہوئی ہیں، جبکہ تقریباً تمام بے گھر ہیں، بہت سی خیموں میں یا اپنے گھروں کے ملبے میں رہ رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ، ۳؍ سال: ۱۰؍ اکتوبر کو ۶۰؍ ممالک میں احتجاج، ۲۰۰؍ سے زائد تنظیمیں متحرک
بعد ازاں کالٹورپ نے یہ بھی خبردار کیا کہ خواتین کی سربراہی والے گھرانوں کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے، اب غزہ میں چار میں سے ایک گھر کی سربراہی خواتین کر رہی ہیں۔دریں اثنا، فنڈنگ میں تخفیفنے خواتین کی تنظیموں کو شدید کمزور کر دیا ہے، سروے میں شامل۱۴؍ میں سے۱۳؍ نے بتایا کہ وہ اب بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتیں۔علاوہ ازیںتمام سروے شدہ تنظیموں نے۲۰۲۵ء سے صنفی بنیاد پر تشدد، غربت اور ذہنی صحت کی پریشانی میں اضافے کی اطلاع دی، جبکہ۱۳؍ نے کم عمری کی شادی میں اضافے کی اطلاع دی۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطینی صحافی بشریٰ الطویل مسلسل ۴۶؍ دنوں سے اسرائیل کی قیدمیں: رپورٹ
دریں اثناءیو این ویمن نے جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد، بین الاقوامی قانون کے احترام اور خلاف ورزیوں پر جوابدہی کا مطالبہ کیا۔کالٹورپ نے کہا، ’’ہم نے جو پایا ہے وہ اجتماعی مصائب کی ایک ہولناک داستان ہے، بے پناہ درد کی داستان اور لچک اور طاقت کی ایک سطح ہے جو کسی بھی عورت کیلئے ناقابل برداشت ہے۔