Updated: January 12, 2026, 9:00 PM IST
| Gaza
غزہ پٹی میں انسانی اور ماحولیاتی حالات کی تباہ کن صورتِ حال کے خلاف فلسطینیوں نے اتوار کو احتجاج کیا۔ مظاہرین نے اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرے اور غزہ کے عوام کے ساتھ کھڑی ہو، جہاں اسرائیلی حملوں، ناکہ بندی اور جبری بے دخلی کے باعث بیماری، سردی اور گندگی جان لیوا شکل اختیار کر چکی ہے۔
غزہ پٹی میں اتوار کو فلسطینی شہریوں نے بدترین انسانی اور ماحولیاتی حالات کے خلاف احتجاج کیا۔ یہ مظاہرہ غزہ شہر کے ایک پناہ گزین کیمپ میں کیا گیا، جہاں مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا: ’’ناانصافی اور نظرانداز کرنا بند کرو‘‘، ’’وبا ہمیں خطرے میں ڈال رہی ہے‘‘ اور ’’ہر طرف کچرا پھیلا ہوا ہے۔‘‘ مظاہرین کا کہنا تھا کہ دو برس سے جاری اسرائیلی کارروائیوں اور ناکہ بندی کے نتیجے میں غزہ میں زندگی ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق خوراک، صاف پانی، طبی سہولیات، رہائش اور صفائی کے نظام کی شدید کمی نے حالات کو تباہ کن سطح تک پہنچا دیا ہے۔ مظاہرین نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے غزہ کے عوام کی مدد کرے۔ احتجاج میں شامل فلسطینیوں کا کہنا تھا کہ پناہ گزین کیمپوں اور عارضی خیموں میں رہنے والے لاکھوں افراد شدید خطرات سے دوچار ہیں۔ گندگی کے ڈھیر، کھڑا پانی اور صفائی کے ناکارہ نظام نے بیماریوں کو جنم دیا ہے جبکہ سرد موسم نے بچوں اور معمر شہریوں کی جان کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ارجنٹائنا نے سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کا منصوبے روک دیا
ایک کمسن فلسطینی بچی آیلین، جو اسرائیلی حملوں کے باعث بے گھر ہو چکی ہے، نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم ایسے خیموں میں رہتے ہیں جو نہ گرمی سے بچاتے ہیں اور نہ سردی سے۔ بیماریاں پھیل رہی ہیں، چوہے اور کیڑے ہر جگہ ہیں۔ بچے اور بڑے سب متاثر ہو رہے ہیں۔ ہم اپنی زندگیاں دوبارہ بنانا چاہتے ہیں اور ہمیں ایسے گھروں کی ضرورت ہے جو ہمیں محفوظ رکھ سکیں۔‘‘ غزہ کی وزارتِ صحت کے ایک عہدیدار سعید اکلک نے بتایا کہ علاقے میں فضلہ جمع کرنے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ ان کے مطابق جاری حملوں کے باعث رہائشی علاقوں سے باہر کچرا منتقل کرنا ممکن نہیں رہا، جس کے نتیجے میں گندگی بستیوں کے اندر جمع ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عارضی خیمے کم سے کم صفائی کے معیار پر بھی پورا نہیں اترتے، جس کی وجہ سے متعدی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ سعید اکلک نے مزید بتایا کہ اسرائیلی پابندیوں کے باعث کیڑے مار ادویات اور صفائی کے سامان کی غزہ میں اجازت نہیں دی جا رہی، جس سے چوہوں اور حشرات کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ آوارہ جانوروں کے حملوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جن میں زیادہ تر بچے متاثر ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی دھمکیوں پر ایران کا انتباہ، اسرائیل ہائی الرٹ
یاد رہے کہ سردیوں کے آغاز سے اب تک غزہ میں کم از کم ۲۱؍ فلسطینی سردی کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، شدید سردی، بارش، ہوا، مناسب لباس اور حرارت کے فقدان نے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے، خاص طور پر ان خاندانوں کے لیے جو کھلے آسمان تلے یا کمزور خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ غزہ کے گورنمنٹ میڈیا آفس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزیاں جاری ہیں اور انسانی امداد کی رسائی محدود رکھی جا رہی ہے۔ بیان کے مطابق، امداد کی بندش اور مسلسل پابندیوں نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ لاکھوں فلسطینی شدید سردی، بارش اور تیز ہواؤں میں غیر محفوظ خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ صحت کی سہولیات، پناہ اور حرارتی وسائل کی کمی کے باعث نوزائیدہ بچوں اور کمسن بچوں کو جان لیوا خطرات لاحق ہیں۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ دنیا کی خاموشی اس بحران کو مزید بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائے، ناکہ بندی ختم کرائے اور غزہ کے عوام کو باعزت زندگی جینے کا موقع فراہم کرے۔