غزہ کے ’بورڈ آف پیس‘ پر نیتن یاہو اور ٹرمپ آمنے سامنے، آگئے ہیں، امریکی اعلان کے بعد اسرائیل نے باضابطہ بیان جاری کرکے اعتراض جتایا ہے، اس کی وجہ اسرائیل کو اعتماد میں لئے بغیر بورڈ کی تشکیل کو بتایا جارہا ہے۔
EPAPER
Updated: January 18, 2026, 8:04 PM IST | Tel Aviv
غزہ کے ’بورڈ آف پیس‘ پر نیتن یاہو اور ٹرمپ آمنے سامنے، آگئے ہیں، امریکی اعلان کے بعد اسرائیل نے باضابطہ بیان جاری کرکے اعتراض جتایا ہے، اس کی وجہ اسرائیل کو اعتماد میں لئے بغیر بورڈ کی تشکیل کو بتایا جارہا ہے۔
اسرائیل نے صدر ٹرمپ کے زیر انتظام امریکی حمایت یافتہ ’’غزہ ایگزیکٹو بورڈ‘‘ پر اعتراض کیا ہے جس میں ترکی اور قطری اہلکار شامل ہیں، اس کا باعث بورڈ کی تشکیل میں اسرائیل سے عدم تعاون کو بتایا گیا ہے۔اسرائیل نے سنیچرکو کہا کہ وہ غزہ پینل کے اراکین پر اعتراض کرتا ہے جو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے تحت کام کریں گے، جو فلسطینی علاقے میں جنگ کے بعد کی حکمرانی کی نگرانی کرے گا۔ واضح رہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کو’’ غزہ بورڈ آف پیس‘‘ کے اراکین کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف، ورلڈ بینک گروپ کے صدر اجے بنگا، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر بورڈ آف پیس کا حصہ ہوں گے۔ یہ گروپ جنگ زدہ فلسطینی علاقے کے لیے نئی بین الاقوامی سلامتی فورس کی نگرانی کرے گا۔ اس پینل، جسے غزہ ایگزیکٹو بورڈ کہا جاتا ہے، میں ترکی کے وزیر خارجہ حکان فدان اور ایک قطری اہلکار بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی غزہ امن کمیٹی میں شمولیت کی ایک ارب ڈالر فیس ، امریکہ کی تردید
دریں اثناءٹرمپ پہلے ہی خود کو اس ادارے کا چیئرمین قرار دے چکے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ بورڈ آف پیس ،حکمرانی کی صلاحیت کا ارتقاء، علاقائی تعلقات، تعمیر نو، سرمایہ کاری کی کوشش، بڑے پیمانے پر فنڈنگ اور سرمائے کی تحریک، جیسے مسائل پر کام کرے گا۔تاہم سنیچر کو، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے کہا، ’’غزہ ایگزیکٹو بورڈجو بورڈ آف پیس کے ماتحت ہے، کی تشکیل میں اسرائیل کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، مزید یہ کہ یہ بورڈ اس کی پالیسی کے خلاف ہے۔‘‘
بعد ازاں وزیر اعظم نے وزیر خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ سے رابطہ کریں۔واضح رہے کہ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب فلسطینی تکنیکی ماہرین کی کمیٹی، جسے بورڈ آف پیس کی نگرانی میں غزہ کی حکمرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، نے قاہرہ میں کشنر کی شرکت میں اپنی پہلی میٹنگ کی۔ اس دوران، فلسطینی گروپ اسلامی جہاد نے بورڈ آف پیس کی تشکیل پر تنقید کی، کہا کہ یہ اسرائیل کے مفادات کا نگراںہے۔ گروپ نے ایک بیان میں کہا کہ’’ یہ بورڈ اسرائیلی معیارکے مطابق ہے اور اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کیلئے ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: علی شعث نے غزہ انتظامی کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے فرائض کا آغاز کر دیا
مختلف ممالک کے کئی لیڈروں کو بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔اس میں کینیڈا کے، وزیر اعظم مارک کارنی، ترکی کے صدر رجب طیب اردگان، مصر کےصدر عبدالفتاح السیسی ، ارجنٹائن کے صدر خاویر میلی ، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر، شامل ہیں۔ حالانکہ ٹونی بلیئر کی شمولیت نے بورڈ کو متنازع بنادیا ہے ، جس کی وجہ ۲۰۰۳ء میں عراق پر حملے میں ٹونی بلیئر کا کردار ہے۔ جبکہ اے ایف پی کو بھیجے گئے ایک بیان میں، بلیئر نے کہا، ’’میں بورڈ آف پیس قائم کرنے میں صدر ٹرمپ کی قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور اس کے ایگزیکٹو بورڈ میں تعینات ہونے کو اعزاز سمجھتا ہوں۔‘‘ بلیئر نے ۲۰۰۷ءمیں ۱۰؍ ڈاؤننگ اسٹریٹ چھوڑنے کے بعد مڈل ایسٹ کوارٹیٹ ، اقوام متحدہ، یورپی یونین، امریکہ اور روس کے نمائندے کے طور پر سالوں تک اسرائیلی-فلسطینی مسئلے پر توجہ مرکوز کی۔