رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کا عمل مصر کے تعاون کے ساتھ انجام دیا جائے گا۔ کراسنگ کا استعمال کرنے والے افراد کو اسرائیلی سیکوریٹی فورسیز سے پیشگی منظوری حاصل کرنی ہوگی۔
EPAPER
Updated: January 30, 2026, 10:13 PM IST | Gaza
رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کا عمل مصر کے تعاون کے ساتھ انجام دیا جائے گا۔ کراسنگ کا استعمال کرنے والے افراد کو اسرائیلی سیکوریٹی فورسیز سے پیشگی منظوری حاصل کرنی ہوگی۔
اسرائیل نے غزہ اور مصر کے درمیان واقع رفح کراسنگ کو یکم فروری بروز اتوار سے دونوں اطراف سے پیدل آمد و رفت کیلئے دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے اکتوبر ۲۰۲۳ء میں غزہ میں جنگی کارروائیوں کے آغاز کے بعد رفح کراسنگ کو بند کیا تھا جس کی وجہ سے فلسطینیوں کی نقل و حرکت اور محصور فلسطینی علاقے میں امداد کا داخلہ مسدود ہوگیا تھا۔
اسرائیلی وزارتِ دفاع کے ماتحت ادارے ’کوآرڈینیٹر آف گورنمنٹ ایکٹیویٹیز ان دی ٹیریٹریز‘ (کوگاٹ COGAT) نے کہا کہ رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کا عمل مصر کے تعاون کے ساتھ انجام دیا جائے گا۔ کراسنگ کا استعمال کرنے والے افراد کو اسرائیلی سیکوریٹی فورسیز سے پیشگی منظوری حاصل کرنی ہوگی۔ کراسنگ پر یورپی یونین کا مانیٹرنگ مشن انتظامات کی نگرانی کیلئے تعینات رہے گا۔ نگرانی کیلئے جنوری ۲۰۲۵ء میں نافذ کردہ میکانزم کے جیسا طریقہ کار استعمال کیا جائے گا۔
رفح کراسنگ کے دوبارہ کھلنے کے بعد، اسے کثیر مرحلہ وار حفاظتی اسکریننگ سسٹم سے لیس کیا جائے گا۔ ابتدائی شناختی چیک کا انتظام یورپی یونین اور فلسطینی اتھارٹی سنبھالیں گے۔ اس کے بعد، اسرائیلی فوجی کنٹرول کے تحت ایک مخصوص راہداری پر اسکریننگ کا اضافی عمل مکمل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: بارسلونا، اسپین: ساحل پر ہند رجب کا عظیم الشان پورٹریٹ، غزہ کے بچوں کیلئے آواز
کوگاٹ کے مطابق، رفح کراسنگ سے صرف عام شہریوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی اور نقل و حرکت کو سختی سے منظم کیا جائے گا۔ مصر سے واپس آنے والے غزہ کے شہریوں کو داخلے کی اجازت صرف اس صورت میں ملے گی جب وہ جنگ کے دوران وہاں سے نکلے ہو اور انہیں پہلے سے اسرائیلی منظوری حاصل ہو۔ اسرائیلی حکام کے اندازے کے مطابق، تنازع کے دوران تقریباً ۴۲ ہزار فلسطینیوں نے غزہ چھوڑا تھا۔
اسرائیلی سیکوریٹی ایجنسیاں، رفح کراسنگ کا استعمال کرنے والے افراد خاص طور پر غزہ میں داخل ہونے والوں کی شناخت کی تصدیق کیلئے، ’فیشل ریکگنیشن‘ (چہرہ پہچاننے کی ٹیکنالوجی) اور ایکس رے مشینوں کا سہارا لیں گی۔ اگرچہ اسرائیلی افواج براہِ راست کراسنگ پر تعینات نہیں ہوں گی، لیکن وہ دور سے ان آپریشنز کی نگرانی کریں گی اور سیکوریٹی خدشات کی صورت میں ٹرمینل کو بند یا دوبارہ کھولنے کا اختیار ان کے پاس ہوگا۔ مصر پہلے مسافروں کی فہرستیں تیار کرے گا، جو منظوری کیلئے اسرائیل کی سیکوریٹی ایجنسیوں کو بھیجی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج کا پہلی بار اعتراف، غزہ میں ۷۱؍ ہزار سے زائد فلسطینی شہید
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنے سے حماس کو غیر مسلح کرنے کی سمت مذاکرات کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔ ’دی یروشلم پوسٹ‘ کے مطابق، مذاکرات کی قیادت فلسطینی ٹیکنوکریٹ انتظامیہ کرے گی، جس کا مقصد ”فلسطینی سے فلسطینی ڈائیلاگ“ کا آغاز کرنا ہے۔