Updated: October 09, 2026, 10:02 PM IST
| Gaza
غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اسرائیلی حملوں میں استعمال ہونے والے دھماکا خیز مواد کی مقدار ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے گئے ایٹمی بموں کی مجموعی توانائی سے ۶؍ گنا سے بھی زیادہ بتائی گئی ہے، تاہم دونوں اعداد کا براہِ راست موازنہ احتیاط کا متقاضی ہے۔
غزہ میں اسرائیلی مظالم کی ایک تصویر۔ تصویر: ایکس
غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے مطابق اسرائیل نے ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے غزہ پر فوجی کارروائیوں کے دوران ۲۲۳۰۰۰؍ ٹن سے زیادہ دھماکا خیز مواد گرایا ہے۔ ادارے کے مطابق یہ مقدار دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے گئے ایٹمی بموں کی مجموعی دھماکا خیز توانائی سے ۶؍ گنا سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ یہ اعداد غزہ کے حکومتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ تخمینے پر مبنی ہیں؛ اس مقدار کی آزادانہ تصدیق کے لیے کوئی جامع، عوامی فوجی ریکارڈ دستیاب نہیں۔ غزہ کے حکومتی میڈیا آفس نے جولائی ۲۰۲۶ء میں جنگ کے ایک ہزار دن مکمل ہونے پر بھی ۲۲۳۰۰۰؍ ٹن دھماکا خیز مواد استعمال کیے جانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کے مطابق اسرائیلی حملوں میں ۷۳؍ ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوچکے تھے، جن میں ۲۱۵۰۰؍ سے زیادہ بچے شامل تھے۔ ادارے نے ہزاروں افراد کے لاپتا ہونے اور بڑی تعداد میں عمارتوں کے تباہ ہونے کی بھی اطلاع دی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ، ۳؍ سال: ۱۰؍ اکتوبر کو ۶۰؍ ممالک میں احتجاج، ۲۰۰؍ سے زائد تنظیمیں متحرک
دھماکا خیز مواد کی مقدار اور ایٹمی بموں کی دھماکا خیز توانائی کے موازنے میں ایک اہم سائنسی فرق موجود ہے۔ کسی روایتی بم یا گولے کا وزن اس میں موجود دھماکا خیز مادے کی مقدار یا پورے ہتھیار کے وزن کو ظاہر کرسکتا ہے، جبکہ ایٹمی بم کی توانائی عموماً ٹی این ٹی کے مساوی کلوٹن میں ناپی جاتی ہے۔ اس لیے ۲۲۳۰۰۰؍ ٹن روایتی دھماکا خیز مواد کو براہِ راست ایٹمی بموں کی توانائی کے برابر سمجھنا درست نہیں، جب تک موازنے کا طریقۂ کار اور توانائی کی مساوی اکائی واضح نہ ہو۔ غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد بھی مسلسل بڑھتی رہی ہے۔ ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو رائٹرز نے فلسطینی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک ۷۴؍ ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے اسی ماہ ۷۴۲۴۵؍ ہلاکتوں کی اطلاع دی۔ یہ اعداد فلسطینی وزارتِ صحت سے منسوب ہیں اور انہیں اسی نسبت سے بیان کیا جانا چاہیے۔
اکتوبر ۲۰۲۵ء میں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود غزہ میں ہلاکتوں اور فوجی کارروائیوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رکا۔ رائٹرز کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیلی کارروائیوں میں ۱۴۰۰؍ سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوچکے تھے۔ اسرائیلی حکام ان حملوں کو حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیوں کا حصہ قرار دیتے ہیں، جبکہ فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کے ادارے شہریوں کی ہلاکتوں، بے گھری اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی پر تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں۔ غزہ کی تباہی کا پیمانہ صرف ہلاکتوں تک محدود نہیں۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور کے مطابق جولائی ۲۰۲۶ء تک غزہ میں ۶۰؍ ملین ٹن سے زیادہ ملبہ جمع ہوچکا تھا۔ اس میں تباہ شدہ رہائشی عمارتوں، سڑکوں اور بنیادی خدمات کے نظام کا ملبہ شامل ہے۔ ملبہ ہٹانے کے لیے درکار بھاری مشینری، ایندھن، محفوظ راستوں اور مالی وسائل کی کمی بحالی کے عمل کو سست کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ، ۳؍ سال: اس ماہ کے ابتدائی۱۵؍ دن، ۳۷؍ ممالک میں ۲۶۲؍ فلسطین حامی پروگرام
غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کا ۲۲۳۰۰۰؍ ٹن کا دعویٰ جنگ میں استعمال ہونے والے دھماکا خیز مواد کے مجموعی حجم کے بارے میں ایک اہم عدد ہے، لیکن اس کی آزادانہ تصدیق اور طریقۂ حساب کی تفصیلات کے بغیر اسے حتمی فوجی پیمائش قرار نہیں دیا جاسکتا۔ دوسری جانب فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق ۷۴۰۰۰؍ سے زیادہ ہلاکتوں کا عدد جنگ کے انسانی نقصان کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ تباہ شدہ عمارتوں، ملبے اور بے گھر آبادی کی ضروریات غزہ میں بحالی کے بڑے چیلنجوں میں شامل ہیں۔