Inquilab Logo Happiest Places to Work

مودی پر نازیبا ریمارکس: ہراسانی کے بعد ۱۵؍سالہ طالبہ کی ماں گھر چھوڑنے پر مجبور

Updated: August 03, 2026, 9:09 PM IST | New Delhi

وزیرِ اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ نازیبا ریمارکس پر معافی مانگنے والی۱۵؍ سالہ طالبہ کے خاندان کو مسلسل ہراسانی کا سامنا ہے، جس کے باعث بیوہ ماں اپنی بیٹی کے ساتھ نوئیڈا کا کرائے کا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئی۔ والدہ کا کہنا ہے کہ بیٹی اپنی غلطی تسلیم کر چکی ہے، لیکن پولیس کی آمدورفت اور لوگوں کے دباؤ نے ان کی معمول کی زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔

The girl`s widowed mother said that police and unknown persons were constantly coming to her house after the dispute. Photo: INN.
لڑکی کی بیوہ ماں نے بتایا کہ تنازع کے بعد پولیس اور نامعلوم افراد مسلسل ان کے گھر آ رہے تھے۔ تصویر: آئی این این۔

دو روز قبل ایک بیوہ خاتون اپنی۱۵؍ سالہ بیٹی کے ساتھ نوئیڈا میں واقع کرائے کے گھر سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا، کیونکہ ان کی دسویں جماعت میں زیرِ تعلیم بیٹی کی جانب سے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ توہین آمیز ریمارکس کے تنازع کے بعد پولیس اور نامعلوم افراد مسلسل ان کے گھر آ رہے تھے۔ خاتون نے بتایا کہ ان کی بیٹی اپنی غلطی پر معذرت کر چکی ہے اور وزیرِ اعظم بھی اسے معاف کر چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود خاندان کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: شہریت کی تصدیق کے بغیر کسی کو ملک بدر نہیں کیا جا سکتا: مرکز کا ایس سی میں مؤقف

انہوں نے دی انڈین ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میں اپنی بیٹی کی تنہا پرورش کر رہی ہوں۔ میرے شوہر ۲۰۱۹ءمیں ایک حادثے میں انتقال کر گئے تھے، جبکہ میرا چھوٹا بیٹا میرے سسرال والوں کے ساتھ رہتا ہے۔ جب پولیس اور مختلف لوگ بار بار ہمارے گھر آئیں تو ہم وہاں کیسے رہ سکتے ہیں ؟‘‘ انہوں نے عوام اور متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ ان کے خاندان کا تعاقب بند کیا جائے۔ الزام ہے کہ لڑکی نے دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے احتجاج کے دوران وزیرِ اعظم کے خلاف نازیبا ریمارکس دیئے تھے، جس پر نوئیڈا پولیس نے اس کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ یکم اگست کو سامنے آنے والی ایک مبینہ ویڈیو میں لڑکی نے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ یہ اس کی ’’پہلی اور آخری غلطی‘‘ تھی اور وہ احتجاج میں موجود بعض گروہوں کے بہکاوے میں آ گئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: ابھیجیت دیپکے نے اپنے تعلیمی دستاویزات دکھانے کی پیشکش کی، پی ایم مودی کو اپنی ڈگری دکھانے کا چیلنج

ویڈیو میں وہ کہتی ہے، ’’میں احتجاجی مقام پر موجود تھی، جہاں کئی گروہ وزیرِ اعظم مودی کے خلاف نازیبا زبان استعمال کر رہے تھے اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے پر اکسا رہے تھے۔ مجھے اپنے الفاظ پر اتنی شرمندگی ہے کہ میں کسی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہیں دیکھ سکتی۔ میں پورے ملک سے معافی مانگتی ہوں۔ یہ میری پہلی اور آخری غلطی ہے۔ ‘‘لڑکی کی والدہ نے بتایا کہ اب وہ اور ان کی بیٹی اپنے کرائے کے گھر میں مزید نہیں رہ سکتے۔ انہوں نے کہا، ’’پڑوسی مجھے بتا رہے ہیں کہ اب بھی سیاہ گاڑیوں میں لوگ ہمارے گھر آ رہے ہیں۔ اتر پردیش پولیس بھی مسلسل گھر کے چکر لگا رہی ہے۔ میں اپنی بیٹی کے ساتھ کسی اور مقام پر منتقل ہو گئی ہوں۔ وہ دسویں جماعت کی طالبہ ہے اور میں ٹیوشن پڑھایا کرتی تھی۔ اب ہمیں نہیں معلوم ہمارا مستقبل کیا ہوگا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ٹی سی ایس ناسک کیس: پانچ ملزمان کو ضمانت دی، مقدمے کی سماعت جاری رہے گی

اس معاملے میں لڑکی کی عمر کے حوالے سے بھی تضاد سامنے آیا ہے۔ زیرو ایف آئی آر میں اس کی پیدائش کا سال ۱۹۹۴ءدرج ہے، جبکہ والدہ کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی صرف ۱۵؍برس کی ہے اور۲۰۱۱ء میں پیدا ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا، ’’میری شادی۲۰۱۰ء میں ہوئی تھی۔ میری بیٹی۲۰۱۱ء میں اور بیٹا۲۰۱۴ء میں پیدا ہوا۔ وہ ابھی صرف ایک بچی ہے۔ براہِ کرم اسے معاف کر دیں اور ہمیں بھی دوسرے لوگوں کی طرح سکون سے جینے دیں۔ ‘‘ والدہ نے مزید کہا، ’’اس سے بہت بڑی غلطی ہوئی، لیکن وہ معافی مانگ چکی ہے۔ وزیرِ اعظم بھی اسے معاف کر چکے ہیں۔ پھر مقدمہ نوئیڈا سے دہلی کیوں منتقل کیا گیا؟ اگر آئندہ دہلی پولیس بھی ہمیں ہراساں کرنے لگی تو ہمارا کیا ہوگا؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: نیویارک: میئر ظہران ممدانی کی نانی پروین نائر ۹۴؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

معاملہ کیا ہے؟
گزشتہ ہفتے نوئیڈا پولیس نے لڑکی کے خلاف توہین، عوامی فساد پھیلانے اور ہتکِ عزت سے متعلق دفعات کے تحت زیرو ایف آئی آر درج کی، جسے بعد میں دہلی پولیس کو منتقل کر دیا گیا۔ تاہم دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے نہ تو باقاعدہ ایف آئی آر درج کی ہے اور نہ ہی زیرو ایف آئی آر کو معمول کی ایف آئی آر میں تبدیل کیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس مقدمے کو ممکن ہے مزید آگے نہ بڑھایا جائے۔ ایک ذریعے نے بتایا، ’’چونکہ یہ زیرو ایف آئی آر ہے، اس لئے ممکن ہے اسے باقاعدہ ایف آئی آر میں تبدیل نہ کیا جائے۔ لڑکی معافی بھی مانگ چکی ہے، تاہم قانونی رائے ابھی حاصل کی جا رہی ہے۔ ‘‘ذرائع نے مزید کہا کہ مختلف آئینی عہدوں پر فائز شخصیات کے خلاف مبینہ توہین آمیز مواد کی تحقیقات بدستور جاری ہیں۔ دہلی پولیس کے سائبر سیل نے وزیرِ اعظم اور دیگر آئینی عہدیداروں کے خلاف مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے کی گئی مبینہ توہین آمیز پوسٹوں کے سلسلے میں الگ مقدمہ درج کر رکھا ہے، جس کی تفتیش جاری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: وندے بھارت کے ذریعے پہلی مرتبہ سورت سے احمد آبادایک زندہ دل کی کامیاب منتقلی

وسیع تر پس منظر
اس احتجاج کے سلسلے میں دہلی پولیس اب تک تقریباً ۱۳؍مقدمات درج کر چکی ہے، جن میں فساد، اقدامِ قتل اور سرکاری ملازمین پر ڈیوٹی کے دوران حملے جیسے الزامات شامل ہیں۔ بعد ازاں دہلی حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ جن طلبہ نے پرامن انداز میں احتجاج میں حصہ لیا اور کسی تشدد میں ملوث نہیں تھے، ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ البتہ ایسے افراد کے خلاف کارروائی ہوگی جن کا مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے یا جو احتجاج کے دوران امن و امان خراب کرنے کے ارادے سے وہاں داخل ہوئے تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK