Updated: October 31, 2026, 9:59 PM IST
| Gaza
غزہ کے ۳۶ اسپتالوں میں سے صرف ۱۹ اسپتال جزوی طور پر کام کر رہے ہیں، کوئی ایک بھی اسپتال مکمل طور پر فعال نہیں۔ جنگ زدہ علاقے میں ادویات، تشخیصی آلات اور ایندھن کی شدید ترین قلت بدستور برقرار ہے۔ دونوں ڈاکٹروں نے طبی سامان لانے پر عائد اسرائیلی پابندیوں کا ذکر کیا۔ ڈاکٹر خلیل نے بتایا کہ اسرائیلی حکام نے ان کی ٹیم کے آلات ضبط کر لئے اور واپسی کے سفر پر ان کا داخلہ روک دیا۔
غزہ کے اسپتالوں میں خدمات انجام دینے والے دو امریکی ڈاکٹروں نے بیان دیا ہے کہ اسرائیل کی وحشیانہ جنگی کارروائیوں میں شدید زخمی ہونے والے ہزاروں فلسطینی صرف اس لئے اپنی جان کی بازی ہار گئے کیونکہ ان کے علاج کیلئے درکار طبی آلات میسر نہ تھے۔ ان ڈاکٹروں کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی رپورٹ کے مطابق محصور فلسطینی علاقے کا نظامِ صحت انتہائی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس نے ۲۴ ستمبر کو بتایا تھا کہ غزہ کے ۳۶ اسپتالوں میں سے صرف ۱۹ اسپتال جزوی طور پر کام کر رہے ہیں، کوئی ایک بھی اسپتال مکمل طور پر فعال نہیں۔ جنگ زدہ علاقے میں ادویات، تشخیصی آلات اور ایندھن کی شدید ترین قلت بدستور برقرار ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ پر مستعفی ہونے والے سابق امریکی حکام کا مطالبہ: صدارتی امیدوار جنگ کےحامیوں کو ملازمت نہ دیں
ایمرجنسی فزیشن نور شرف، جنہوں نے جولائی ۲۰۲۵ء اور جون ۲۰۲۶ء کے درمیان تین مرتبہ غزہ کا دورہ کیا، نے دو سالہ عالیہ کا علاج کیا جو ایک دھماکے کے نتیجے میں عمارت کی دوسری منزل سے نیچے گری تھی۔ ڈاکٹروں کو دماغ سے خون بہنے (برین ہیمرج) کا شبہ تھا، لیکن سی ٹی اسکین کروانے میں چار گھنٹے لگ گئے۔ جب تک اسکین سے خون بہنے کی تصدیق ہوئی، اس کی جان بچانے کا وقت گزر چکا تھا۔ بچوں کے ایک نیورو سرجن نے نور شرف کو بتایا کہ اگر وہ وقت پر پہنچ بھی جاتی، تب بھی آپریشن تھیٹر میں اس بچی کو بچانے کے وسائل موجود نہیں تھے۔ الشفاء اسپتال کی صورتحال کے بارے میں شرف نے بتایا کہ عارضی طور پر قائم کردہ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں ایک وقت میں ۳۰۰ تک زخمی لائے جاتے تھے۔ عملے کے پاس سینے کی نالیاں (چیسٹ ٹیوبز) ختم ہو گئیں جس پر انہوں نے نکاسی کے متبادل آلات جوڑ توڑ کر بنائے۔ اسپتال میں دل کے امراض کے ٹیسٹ اور اسٹینٹس (stents) بھی دستیاب نہ تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ’میں اب اسرائیلی ہونے پر فخر محسوس نہیں کرتی‘: اسرائیلی اداکارہ خیلی گولڈن برگ
ریڑھ کی ہڈی کے سرجن محمد عدیل خلیل، جنہوں نے اپریل ۲۰۲۴ء اور اگست ۲۰۲۵ء کے درمیان تین مرتبہ غزہ کا دورہ کیا، نے بتایا کہ ایک فلسطینی نوجوان جسے گولی لگی تھی، کی ریڑھ کی ہڈی کو جوڑنے کیلئے انہوں نے ایک بند ہسپتال سے لائے گئے بے جوڑ اسکرو (screws) کو یکجا کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسپتالوں میں جاں بحق ہو جانے والے مریضوں کے جسم سے دھاتی پنیں (metal pins) نکال کر انہیں جراثیم سے پاک کیا جاتا اور دوبارہ استعمال میں لایا جاتا تھا۔ ایک کامیاب کیس میں، ایک ۱۸ سالہ مفلوج لڑکی، جس کا انہوں نے آپریشن کیا تھا، بعد میں دوبارہ چلنے پھرنے کے قابل ہوگئی۔
یہ بھی پڑھئے: فٹبالر حمزہ چودھری نے غزہ کے بچوں کیلئے ایک لاکھ پاؤنڈ سے زائد فنڈ جمع کئے
طبی سامان پر اسرائیلی پابندیاں
دونوں ڈاکٹروں نے طبی سامان لانے پر عائد اسرائیلی پابندیوں کا ذکر کیا۔ ڈاکٹر خلیل نے بتایا کہ اسرائیلی حکام نے ان کی ٹیم کے آلات ضبط کر لئے اور واپسی کے سفر پر ان کا داخلہ روک دیا۔ تنظیم ’فزیشنز فار ہیومن رائٹس‘ نے اینستھیٹکس (بے ہوشی کی ادویات)، چیسٹ ٹیوبز اور آرتھوپیڈک اسکرو سمیت دیگر اشیاء پر عائد پابندیوں کی دستاویز بندی کی ہے۔ مارچ ۲۰۲۶ء میں ’وائرڈ‘ (WIRED) کی ایک تحقیقات میں اسرائیل کی ’کوگاٹ‘ (COGAT) ایجنسی نے کہا کہ کسٹم حکام نے ایک سرجن کے مائیکرو سرجیکل آلات اس لئے ضبط کئے کیونکہ ان کے پاس پیشگی منظوری نہیں تھی۔