Updated: July 14, 2026, 10:10 PM IST
| Gaza
غزہ میں اسرائیلی جنگ نے ۵۸؍ سالہ کتاب فروش محمد سعد سے ان کا جوان بیٹا، گھر اور برسوں پرانی لائبریری چھین لی، مگر وہ علم سے اپنی وابستگی ختم نہ کر سکے۔ بیت لاہیا میں تباہ ہونے والے اپنے گھر کے ملبے سے بچائی گئی کتابوں کو جمع کرکے انہوں نے وسطی غزہ کے شہر دیر البلح میں سڑک کنارے ایک عارضی لائبریری قائم کر دی۔ محمد سعد کا کہنا ہے کہ کتابیں انسان کی زندگی اور تہذیب کا سرمایہ ہیں، اس لیے انہیں جلانے کے بجائے محفوظ رکھا جانا چاہیے۔ ان کی جدوجہد جنگ کے دوران علم، ثقافت اور امید کو زندہ رکھنے کی ایک منفرد مثال بن گئی ہے۔
محمد سعد اپنی لائبریری کے ساتھ۔ تصویر: ایکس
غزہ میں جاری جنگ نے لاکھوں لوگوں سے ان کے گھر، روزگار اور اپنے پیارے چھین لیے، مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے تباہی کے ملبے سے امید کے چراغ روشن کرنے کی کوشش کی۔ ۵۸؍ سالہ کتاب فروش محمد سعد انہی لوگوں میں شامل ہیں، جنہوں نے اسرائیلی حملوں میں اپنا جوان بیٹا، گھر اور برسوں کی محنت سے قائم کی گئی لائبریری کھو دی، لیکن کتابوں سے محبت کا رشتہ ٹوٹنے نہیں دیا۔ آج وہ وسطی غزہ کے شہر دیر البلح میں سڑک کے کنارے ایک مختصر سے خیمے میں اپنی نئی لائبریری چلا رہے ہیں، جس کی بیشتر کتابیں انہوں نے اپنے تباہ شدہ گھر کے ملبے سے نکالی ہیں۔ محمد سعد گزشتہ پینتیس برس سے کتابوں کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ان کی زندگی کا بڑا حصہ کتابوں کے درمیان گزرا۔ ان کے لیے کتابیں صرف فروخت کی جانے والی اشیا نہیں بلکہ تہذیب، علم اور انسان کی اجتماعی یادداشت کا سرمایہ تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ جب جنگ نے ان کا گھر اور لائبریری ملبے میں بدل دی تو انہیں سب سے زیادہ فکر ان کتابوں کی تھی جو برسوں کی محنت سے جمع کی گئی تھیں۔
جنگ کے دوران شمالی غزہ کے علاقے بیت لاہیا میں واقع ان کا گھر مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ اس سانحے میں ان کے جوان بیٹے کی جان بھی چلی گئی۔ ایک ہی لمحے میں انہوں نے اپنے خاندان کا فرد، اپنی چھت اور اپنا ذریعۂ معاش سب کچھ کھو دیا۔ ایسے حالات میں بہت سے لوگ نئی زندگی شروع کرنے کی ہمت نہیں کر پاتے، مگر محمد سعد نے مایوسی کے بجائے وہ راستہ اختیار کیا جو ان کی پوری زندگی کی پہچان رہا تھا—کتابوں کا راستہ۔ وہ بار بار اپنے تباہ شدہ گھر کے ملبے تک گئے۔ گرد، راکھ اور ٹوٹے ہوئے پتھروں کے درمیان جو کتابیں کسی نہ کسی صورت محفوظ رہ گئی تھیں، انہیں احتیاط سے نکالتے، صاف کرتے اور سنبھال کر رکھتے۔ کہیں صفحات پھٹے ہوئے تھے، کہیں سرورق جل چکا تھا، مگر محمد سعد کے نزدیک یہ کتابیں اب پہلے سے بھی زیادہ قیمتی تھیں، کیونکہ وہ صرف علم کا خزانہ نہیں بلکہ ایک بکھری ہوئی زندگی کی باقی ماندہ یادگاریں بھی تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: اسرائیل کا پناہ گزیں کیمپ پر حملہ، ۹؍ سالہ بچی سمیت ۸؍ فلسطینی شہید
بعد ازاں انہوں نے دیر البلح میں سڑک کے کنارے ایک عارضی خیمہ نصب کیا اور انہی بچائی گئی کتابوں سے دوبارہ اپنی لائبریری آباد کر دی۔ روزانہ راہ گیر، طلبہ، اساتذہ اور کتابوں سے محبت رکھنے والے لوگ وہاں آتے ہیں۔ کوئی کتاب خریدتا ہے، کوئی صرف چند لمحے رک کر ان کتابوں کو دیکھتا ہے اور بعض لوگ اپنی پرانی کتابیں بھی ان کے حوالے کر جاتے ہیں تاکہ یہ سلسلہ چلتا رہے۔ محمد سعد کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی کتابوں کے درمیان گزاری ہے اور اب بھی وہ انہیں مٹنے نہیں دینا چاہتے۔ ان کے الفاظ میں ’’انہیں جلانے کے بجائے میرے پاس لے آئیں، میں آپ کو ان کی قیمت ادا کر دوں گا۔ میں پینتیس برس سے کتابوں کے ساتھ جڑا ہوا ہوں۔ کتابوں کو مت جلائیے، کیونکہ کتابوں کی اپنی قدر ہے اور ایک انسان کے لیے کتاب ہی زندگی ہوتی ہے۔‘‘
ان کی یہ اپیل صرف کتابیں خریدنے کی درخواست نہیں بلکہ جنگ سے تباہ حال معاشرے میں علم کو زندہ رکھنے کی کوشش بھی ہے۔ ایندھن اور دیگر ضروریات کی شدید قلت کے باعث غزہ میں بعض لوگ مجبوراً کاغذ اور کتابیں جلانے پر مجبور ہو جاتے ہیں، لیکن محمد سعد چاہتے ہیں کہ جو کتابیں ابھی باقی ہیں وہ محفوظ رہیں، کیونکہ ان کے نزدیک کسی معاشرے کی تعمیر صرف عمارتوں سے نہیں بلکہ علم سے ہوتی ہے۔ ان کی سڑک کنارے قائم اس مختصر سی لائبریری میں شاید پہلے جیسی ہزاروں کتابیں موجود نہیں، نہ ہی وہ پرانی عمارت باقی رہی ہے جسے انہوں نے برسوں کی محنت سے آباد کیا تھا، لیکن یہاں موجود ہر کتاب ایک الگ داستان سناتی ہے۔ کسی کے صفحات پر مٹی کے نشان ہیں، کسی کا سرورق ٹوٹا ہوا ہے، مگر ہر جلد اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جنگ سب کچھ تباہ کر سکتی ہے، مگر انسان کے علم سے عشق کو ختم نہیں کر سکتی۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی یہودیوں میں فلسطین حامی ظہران ممدانی، نیتن یاہو سے زیادہ مقبول: پول
محمد سعد کی کہانی غزہ کے ان ہزاروں افراد کی نمائندگی کرتی ہے جو ناقابلِ تصور نقصانات کے باوجود زندگی کو دوبارہ سنوارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے جوان بیٹے کو کھو دیا، اپنا گھر کھو دیا، اپنی برسوں پرانی لائبریری کھو دی، مگر کتابوں سے وابستگی نہیں چھوڑی۔ شاید اسی لیے ان کے خیمے میں رکھی یہ چند درجن کتابیں محض مطالعے کا سامان نہیں بلکہ امید، مزاحمت اور انسانی حوصلے کی علامت بن چکی ہیں۔ جنگ کے شور میں جہاں زیادہ تر توجہ تباہ شدہ عمارتوں، ہلاکتوں اور بے گھر ہونے والوں پر مرکوز رہتی ہے، وہیں محمد سعد جیسے لوگ یہ یاد دلاتے ہیں کہ کسی قوم کا ثقافتی اور علمی سرمایہ بھی اتنا ہی قیمتی ہوتا ہے۔ اگر کتابیں محفوظ رہیں تو آنے والی نسلیں صرف جنگ کی تباہی ہی نہیں، بلکہ ان لوگوں کی استقامت کو بھی یاد رکھیں گی جنہوں نے ملبے میں سے علم کے چراغ دوبارہ روشن کیے۔