ایک فلسطینی اہلکار کے مطابق غزہ ا ور مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت نکبہ کا تسلسل ہے، جبکہ فلسطینی اسرائیلی جارحیت اور اپنے گھروں کے کھنڈروں پر اسرائیل کی تعمیر نو اور ۷۸؍ واں یوم تاسیس مناتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: May 15, 2026, 2:36 PM IST | Jerusalem
ایک فلسطینی اہلکار کے مطابق غزہ ا ور مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت نکبہ کا تسلسل ہے، جبکہ فلسطینی اسرائیلی جارحیت اور اپنے گھروں کے کھنڈروں پر اسرائیل کی تعمیر نو اور ۷۸؍ واں یوم تاسیس مناتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔
ابو ہولی، جو پی ایل او کے محکمہ امور پناہ گزینوں کے سربراہ بھی ہیں، نے کہا کہ موجودہ جارحیت کسی علیحدہ واقعے کا نام نہیں، بلکہ فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے ایک نہ رکنے والے منصوبے کا براہ راست تسلسل ہے۔ ان کے مطابق غزہ میں نسل کشی کی جنگ چل رہی ہے جبکہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں پابندیاں، حملے اور بستیوں کی توسیع ظاہر کرتی ہے کہ ہم ابھی بھی نکبہ کے مرکز میں ہیں۔واضح رہے کہ فلسطینی نکبہ (یعنی تباہی) کی اصطلاح ۱۹۴۸ء میں تقریباً۸؍ لاکھ فلسطینیوں کی بے دخلی کے لیے استعمال کرتے ہیں جب اسرائیل فلسطینی زمین پر قائم ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک ٹائمز کی تحقیق: اسرائیل نے یوروویژن کو ’’سافٹ پاور‘‘ ہتھیار بنایا
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق تب سے اب تک۱۵۴۰۰۰؍ سے زیادہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں جبکہ۱۹۶۷ء کے بعد تقریباً ۱۰؍ لاکھ فلسطینی گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ابو ہولی نے کہا کہ فلسطینی عوام ’’نکبہ ‘‘کے ۷۸؍سال گزرنے کے باوجود اپنی زمین اور حقوق پر قائم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، ’’ہمارے لوگوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ٹوٹ نہیں سکتے، خواہ بھوک، پیاس، تعلیم سے محرومی اور منظم حملوں جیسے ناممکن حالات ہی کیوں نہ ہوں۔بعد ازاں انہوں بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی مظالم کو روکنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین ایجنسی (UNRWA) کو ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ابو ہولی نے دو ریاستی حل کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ۱۹۴۸ءکے اقوام متحدہ کی قرارداد۱۹۴؍ کے تحت پناہ گزینوں کے واپسی کے حق کو نافذ کرے۔ یاد رہے کہ اکتوبر۲۰۲۳ء سے غزہ جنگ میں ۷۲۰۰۰؍ سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی کارروائیوں میں ۱۱۵۵؍فلسطینی مارے گئے ہیں۔