متاثرین کو بی ایم سی اسکول میں ٹھہرایا گیا ہے اور جائے حادثہ کے اطراف رہنے والوں کوجگہ خالی کرنے کو کہا گیاہےلیکن کچھ لوگ تیار نہیں۔
EPAPER
Updated: August 17, 2026, 10:55 AM IST | Shahab Ansari | New Delhi
متاثرین کو بی ایم سی اسکول میں ٹھہرایا گیا ہے اور جائے حادثہ کے اطراف رہنے والوں کوجگہ خالی کرنے کو کہا گیاہےلیکن کچھ لوگ تیار نہیں۔
۱۱؍ اور ۱۲؍ اگست کی درمیانی شب گھاٹ کوپر کے اشوک نگر میں کھاڑی نمبر ۳؍ پہاڑی پر لگاتار بارش کے دوران چٹان کھسکنے کا دلخراش حادثہ پیش آیا تھا جس میں خواتین اور بچوں سمیت کُل ۸؍ افراد کا انتقال ہوگیا جبکہ دیگر ۷؍ لوگ زخمی ہوگئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد بی ایم سی جائے حادثہ کے اطراف رہنے والوں کو بھی اپنے گھر خالی کرکے محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی درخواست کررہی ہے جس پر کچھ افراد یہاں سے چلے گئے ہیں تو دیگر کئی لوگ اب بھی اپنی جان پر کھیل کر اس جگہ سے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:’اسکول ٹھیک کرو مہم‘ کوملک گیرحمایت
اس حادثہ میں عارف شیخ اور ان کے بیوی بچوں سمیت ۴؍ افراد کا انتقال ہوگیا تھا اور ان کی بہن روبینہ اسی پہاڑی پر دیگر چال میں مقیم تھیں۔ اس حادثہ کی خبر انہوں نے ہی اپنے رشتہ داروں کو دی تھی۔ ان کے ایک رشتہ دار نے تصدیق کی کہ روبینہ دیگر مقام پر کرایے کے مکان میں منتقل ہوگئی ہیں۔ محمد حسین نے بتایا کہ تدفین کے بعد جب روبینہ ممبئی واپس لوٹ کر آئیں تو بی ایم سی نے عارضی طور پر انہیں ایک اسکول میں ٹھہرایا تھا اس کے بعد وہ کسی کرایے کے مکان میں منتقل ہوگئی ہیں جبکہ پہاڑی پر ان کا ذاتی مکان تھا لیکن بھائی کے ساتھ ہونے والے حادثہ نے انہیں اپنا خود کا مکان چھوڑ کر کرایے کے مکان میں رہنے پر مجبور کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ناگپاڑہ پرمفت فٹ ویئر کی تقسیم ، خواتین کاسیلاب اُمڈ آیا
اس حادثہ میں زخمی ہونے والی فرحانہ کے شوہر دل بہار امان اللہ خان نے کہا کہ بی ایم سی نے ہمیں ساکی ناکہ کی موہلی ولیج بی ایم سی اسکول میں ٹھہرایا ہے۔ چونکہ جائے حادثہ پر جانا اب بھی خطرے سے خالی نہیں اس لئے ان کا ساز و سامان اب تک وہیں دبا ہوا ہے اور انہیں وہاں جانے نہیں دیا جارہا۔ پیشہ سے مزدور دل بہا رنے یہ بھی کہا کہ ’’حادثہ کے بعد ہماری یہ حالت ہے کہ اب تک ہمارے جسم پر وہی کپڑے ہیں جو ہم نے حادثہ کے وقت پہن رکھے تھے۔ کبھی کوئی کھانا دے دیتا ہے تو وہی کھا لیتے ہیں۔ بچے چھوٹے ہیں مختلف چیزوں کی ضد کرتے ہیں اس لئے ان سے چھپتا پھر رہا ہوں۔‘‘ ان کے مطابق کوئی مستقل ٹھکانہ نہ ہونے کی وجہ سے فی الحال وہ مزدوری نہیں کر پارہے ہیں۔
یہاں مقیم ایک شخص نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’’بی ایم سی ہمیں صرف یہاں سے کسی محفوظ مقام پر منتقل ہونے کو کہتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ مالی طور پر بہت کمزور ہیں عام طور پر وہی یہاں رہنے پر مجبور ہیں۔ یہاں مکان سستے کرایے پر مل جاتے ہیں یا سستے مکان فروخت ہوتے ہیں۔ بی ایم سی عارضی طور پر کسی جگہ ہمیں ٹھہرا دے گی لیکن مستقل ٹھکانہ ہمیں خود تلاش کرنا پڑے گا۔ اگر ہماری مالی حالت اچھی ہوتی تو ہم پہلے ہی کسی بہتر جگہ پر رہ رہے ہوتے۔ اگر ہمیں کوئی متبادل مکان وغیرہ دیا جائے تو ہم یہاں سے چلے جائیں گے۔‘‘