Updated: June 01, 2026, 10:06 PM IST
| New York
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ۱۴ مردوں، ۷ خواتین، ۹ لڑکوں اور ایک لڑکی سے جڑے جنسی زیادتیوں کے معاملات کی تصدیق کی گئی ہے۔ دستاویزی شکل میں لائے گئے ان مظالم میں عصمت دری، اجتماعی زیادتی، اعضاءِ تناسل پر تشدد، زبردستی برہنہ کرنا، زیادتی کی دھمکیاں دینا اور بغیر کسی واضح سیکوریٹی جواز کے کپڑے اتروا کر جسمانی تلاشی لینا شامل ہیں۔
اقوام متحدہ (یو این) کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس کے ذریعے جمعہ کو جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی ادارے نے ۲۰۲۵ء کے دوران دنیا بھر میں تنازعات سے جڑے جنسی تشدد کے ۹۷۸۸ معاملات کی تصدیق کی ہے۔ یہ تعداد گزشتہ سال ریکارڈ کئے گئے واقعات کے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔ پرامیلا پیٹن کی جانب سے پیش کی جانے والی اس رپورٹ میں تنازعات سے متاثرہ ۲۱ ممالک میں عصمت دری، اجتماعی عصمت دری، جنسی غلامی، زبردستی شادی، انسانی اسمگلنگ اور اغوا کے واقعات کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔
رپورٹ کے ضمیمے میں تنازعات سے جڑے جنسی تشدد کے منظم رجحانات کی ذمہ دار ۷۷ تنظیموں/گروپوں کی فہرست دی گئی ہے، جن میں ۶۲ غیر ریاستی عناصر شامل ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی اس بلیک لسٹ میں نئی شامل ہونے والی فورسیز میں اسرائیلی مسلح و سیکوریٹی افواج اور روسی مسلح و سیکوریٹی افواج شامل ہیں۔ جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) میں سرگرم تین مسلح گروپس کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کا لبنان کے تاریخی قلعے پر قبضہ، فرانس نے مذمت کی
رپورٹ میں غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ۱۴ مردوں، ۷ خواتین، ۹ لڑکوں اور ایک لڑکی سے جڑے جنسی زیادتیوں کے معاملات کی تصدیق کی گئی ہے۔ دستاویزی شکل میں لائے گئے ان مظالم میں عصمت دری، اجتماعی زیادتی، اعضاءِ تناسل پر تشدد، زبردستی برہنہ کرنا، زیادتی کی دھمکیاں دینا اور بغیر کسی واضح سیکوریٹی جواز کے کپڑے اتروا کر جسمانی تلاشی لینا شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی افواج نے ۹ متاثرین کو، جن میں سے زیادہ تر غزہ سے تعلق رکھنے والے فلسطینی تھے، عصمت دری یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ یہ واقعات حراست، تفتیش، فوجی آپریشنز کے دوران اور حراستی مراکز، فوجی کیمپوں اور چیک پوسٹوں پر پیش آئے۔ بچ جانے والوں میں صحافی اور انسانی حقوق کے محافظ بھی شامل ہیں۔ کچھ خلاف ورزیوں کی مبینہ طور پر تصاویر یا ویڈیوز بھی بنائی گئیں، جن میں عصمت دری کا ایک دستاویزی کیس بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: اسرائیل نے عید الاضحیٰ کے دنوں میں ۲۶؍ فلسطینی شہید کئے: اقوام متحدہ
حراست میں لی گئی خواتین کو بنیادی طور پر زیادتی کی دھمکیوں، زبردستی برہنہ کرنے اور تذلیل آمیز تلاشی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ مردوں اور لڑکوں کو عصمت دری، زیادتی کی کوشش اور اعضاءِ تناسل کو نشانہ بنانے والے تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق ۵ مرد متاثرین کو مقعد سے شدید خون بہنے یا سوجن کا سامنا کرنا پڑا جو کئی دنوں یا ہفتوں تک برقرار رہی۔
اسرائیل نے ان نتائج کو مسترد کر دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے سوشل میڈیا پر بیان دیا کہ اسرائیل نے یو این کے نمائندوں کو ان الزامات کی تحقیقات کی دعوت دی تھی۔ انہوں نے رپورٹ کے نتائج پر تنقید کی۔ دوسری طرف، اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یو این کا اسرائیل پر جنسی تشدد روکنے کے اقدامات سے متعلق ثبوت نہ دینے کا الزام
رپورٹ میں یوکرین میں روسی مسلح اور سیکوریٹی افواج کی ذریعے، تنازعات سے جڑے جنسی تشدد کے ۳۱۰ معاملات کی تصدیق کی گئی ہے۔ متاثرین میں ۲۸۰ مرد، ۲۶ خواتین اور ۴ لڑکیاں شامل ہیں۔ رپورٹ کردہ خلاف ورزیوں میں عصمت دری، اجتماعی زیادتی، اعضاءِ تناسل کو مسخ کرنا، بجلی کے جھٹکے دینا اور اعضاءِ تناسل پر مار پیٹ شامل ہے۔
پرامیلا پیٹن نے کہا کہ اصل واقعات کی تعداد، تصدیق شدہ اعداد و شمار سے کئی گنا زیادہ ہوسکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ۲۰۲۵ء میں جنگ، تشدد، دہشت گردی اور سیاسی جبر کے ایک ہتھیار کے طور پر جنسی تشدد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ ان کے بقول سزا سے بچنے کا بڑھتا ہوا عالمی ماحول ہے۔