Updated: October 30, 2026, 8:02 PM IST
| Gaza
گلوبل صمود فلوٹیلا کی جانب سے غزہ تک انسانی امداد پہنچانے اور اسرائیلی ناکہ بندی کو چیلنج کرنے کی کوششوں کے بعد اب عالمی مزدور تحریک نے جنگی رسد کی ترسیل کو نشانہ بنایا ہے۔ ۲۵؍ سے زائد ٹریڈ یونینوں کی حمایت سے ۳۰؍ اکتوبر کو ۲۲؍ ممالک کی ۱۱۳؍ بندرگاہوں پر ہڑتال اور احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔ مزدوروں کا مطالبہ ہے کہ شہری بندرگاہوں کو اسلحہ، گولہ بارود اور فوجی سازوسامان کی ترسیل کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ ہندوستان کی نہوا شیوا بندرگاہ بھی اس عالمی مہم میں شامل ہے، جبکہ غزہ کے ماہی گیروں کی بندرگاہ پر فلسطینیوں نے بھی عالمی مزدوروں سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
غزہ میں اسرائیلی جنگ اور فلسطینی علاقوں میں جاری انسانی بحران کے خلاف احتجاج اب عالمی بندرگاہوں اور تجارتی رسد کے نظام تک پہنچ گیا ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں بندرگاہی مزدوروں کی یونینوں نے جمعہ ۳۰؍ اکتوبر کو مشترکہ ہڑتال اور احتجاجی سرگرمیوں کا اعلان کیا ہے۔ منتظمین کے مطابق ۲۲؍ ممالک اور علاقوں کی ۱۱۳؍ بندرگاہوں میں ۲۵؍ سے زائد مزدور یونینیں اس کارروائی کی حمایت کررہی ہیں۔ اس مہم کا بنیادی مقصد جنگ زدہ علاقوں کے لیے شہری بندرگاہوں کے ذریعے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی ترسیل روکنا ہے۔ اس احتجاج کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں مزدوروں نے محض سڑکوں پر مظاہروں کے بجائے عالمی تجارت کے ایک اہم نظام، یعنی بندرگاہوں اور بحری رسد کی زنجیر، کو اپنے احتجاج کا مرکز بنایا ہے۔ یونینوں کا کہنا ہے کہ بندرگاہوں پر کام کرنے والے افراد کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ ایسے سامان کی لوڈنگ اور ان لوڈنگ سے انکار کریں جو جنگی کارروائیوں میں استعمال ہوسکتا ہے۔ ان کے نزدیک شہری بندرگاہوں کو اسلحہ اور گولہ بارود کی ترسیل کے مراکز کے طور پر استعمال کرنا مزدوروں کو بھی جنگی مشینری کا حصہ بناتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بیشتر ممالک میں ہنگامی حالات کیلئے تیار رہنے پرزور
رائٹرز کے مطابق اس ہڑتال میں جرمنی کی ہیمبرگ، اسپین کی ویلینسیا اور الجیسیراس، فرانس کی لی ہاور، یونان کی پیریئس، اٹلی کی جینوا اور مراکش کی طنجہ میڈ جیسی اہم بندرگاہیں شامل ہیں۔ ہندوستان کی نہوا شیوا بندرگاہ کا نام بھی فہرست میں ہے۔ ہندوستان کی واٹر ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن آف انڈیا (WTWFI) نے اس کارروائی کی حمایت کی ہے اور منتظمین کے مطابق ملک کی تقریباً ایک درجن بندرگاہوں پر کام متاثر ہونے کا امکان ہے۔ تاہم ہر بندرگاہ پر مزدوروں کی شرکت اور کام کے تعطل کی مدت یکساں نہیں ہوگی۔ منتظمین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں بحیرۂ روم کے ۴۰؍ فیصد سے زیادہ کارگو کی نقل و حرکت متاثر ہوسکتی ہے اور ۲؍ ارب ڈالر سے زائد مالیت کی تجارتی ترسیل میں تاخیر یا رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔ تاہم رائٹرز نے واضح کیا ہے کہ ہڑتال میں عملی طور پر کتنے مزدور شریک ہوں گے اور بندرگاہی سرگرمیوں پر اس کا حقیقی اثر کتنا ہوگا، اس بارے میں پہلے سے حتمی اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ اٹلی کی جینوا بندرگاہ کے ایک ترجمان نے محدود اثرات کی توقع ظاہر کی، جبکہ یونان کی پیریئس بندرگاہ پر فیری خدمات متاثر ہونے کا خدشہ بتایا گیا۔ یونان میں بعض مزدور یونینوں نے ۲۴؍ گھنٹے کام بند رکھنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ پیریئس میں مزدوروں نے صبح۸؍ سے ۱۱؍ بجے تک کام روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کے ساتھ جنگ غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رہے گی: جے ڈی وینس
اس مہم میں گلوبل صمود فلوٹیلا نے بھی اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ یہ فلسطین حامی عالمی مہم پہلے بھی غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی کو چیلنج کرنے اور انسانی امداد پہنچانے کی کوششیں کرچکی ہے۔ رائٹرز کے مطابق فلوٹیلا نے ہڑتال کی حمایت میں سمندر میں ’’منظم اور اسٹریٹجک کارروائیوں‘‘ کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح سمندر کے راستے غزہ تک امداد پہنچانے کی کوششوں کے بعد اب بندرگاہوں پر کام کرنے والے مزدوروں کے ذریعے جنگی سامان کی ترسیل روکنے کا مطالبہ عالمی سطح پر سامنے آیا ہے۔ اس عالمی ہڑتال سے ایک روز قبل جمعرات کو غزہ سٹی کے مغرب میں واقع ماہی گیروں کی بندرگاہ پر فلسطینیوں نے اجتماع کیا۔ شرکاء نے عالمی بندرگاہی مزدوروں اور بحری جہازوں پر کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور شہری بندرگاہوں کو اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی رسد کے لیے استعمال کرنے کی مخالفت کی۔ فلسطینیوں نے مزدوروں کی اس کوشش کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگی مشینری کو سامان فراہم کرنے والی سپلائی چین کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
جنرل یونین آف فشنگ اینڈ میرین پروڈکشن ورکرز کے سربراہ زکریا بکر نے خبر رساں ادارے انادولو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس اجتماع کا مقصد دنیا بھر کے بندرگاہی مزدوروں تک فلسطینی ماہی گیروں کا پیغام پہنچانا اور ان کی حمایت پر شکریہ ادا کرنا ہے۔ ان کے مطابق فلسطینی ماہی گیروں کو ۳؍ سال سے زائد عرصے سے سمندر تک رسائی سے روکا جارہا ہے، اس دوران انہیں ہلاکتوں، زخمی ہونے، گرفتاریوں اور املاک کی تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بکر نے مطالبہ کیا کہ ماہی گیروں کو دوبارہ سمندر میں جانے اور اپنے روزگار پر واپس آنے کا حق دیا جائے۔ صمود سرگرمیوں کی ترجمان نور سعد نے کہا کہ عالمی مزدور کارروائیوں کا مقصد عوامی وسائل اور سرکاری رقوم کو جنگی معیشت اور اسلحہ سازی کی معاونت کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ہے۔ ان کے مطابق یہ وسائل لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختص ہونے چاہئیں۔ بین الاقوامی ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن (ITF) نے بھی اس مہم کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری بندرگاہوں کے ذریعے جنگی سازوسامان کی ترسیل روکنا ضروری ہے۔ فیڈریشن نے مزدوروں کے بہتر معاوضے، محفوظ کام کے ماحول اور ملازمتوں کے تحفظ کے مطالبات کو بھی اس احتجاج کا حصہ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: عرب جماعتیں اسرائیل کو اسلامی ملک بنانا چاہتی ہیں: نیتن یاہو کا الزام
اس تحریک کے پیچھے مئی ۲۰۲۶ء میں استنبول میں یورپی اور بحیرۂ روم کے بندرگاہی مزدوروں کی یونینوں کی جانب سے پیش کیا گیا ’’استنبول اعلامیہ‘‘ بھی اہم ہے۔ اس اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ جنگ زدہ علاقوں کے لیے ہتھیار لے جانے والے جہازوں کی نقل و حرکت میں بندرگاہی سہولتیں استعمال نہ کی جائیں۔ اس سے قبل فروری ۲۰۲۶ء میں بھی ۷؍ ممالک کی ۲۰؍ بندرگاہوں پر اسی نوعیت کی کارروائیاں ہوئی تھیں۔ موجودہ مہم میں اٹلی، فرانس، یونان، ترکیہ، مراکش اور اسپین کے مزدوروں نے ابتدا میں حصہ لیا، بعد ازاں دیگر ممالک کی یونینیں بھی اس سے وابستہ ہوگئیں۔ اٹلی میں USB یونین نے ۲۴؍ گھنٹے کی عام ہڑتال کے ساتھ ۴۰؍ سے زائد شہروں میں مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔