ایک عالمی سروے میں انکشاف ہوا ہے کہا کہ ۲۰۲۶ء میں اسرائیل دنیا کا سب سے زیادہ ناپسندیدہ ملک بن گیا، اس کے بعد شمالی کوریا، افغانستان اور ایران کا نمبر آتا ہے۔
EPAPER
Updated: May 16, 2026, 10:00 PM IST | Tel Aviv
ایک عالمی سروے میں انکشاف ہوا ہے کہا کہ ۲۰۲۶ء میں اسرائیل دنیا کا سب سے زیادہ ناپسندیدہ ملک بن گیا، اس کے بعد شمالی کوریا، افغانستان اور ایران کا نمبر آتا ہے۔
نیرا ڈیٹا کی جانب سے شائع کردہ نئے عالمی سروے کے مطابق، اسرائیل کو اب دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے زیادہ منفی انداز میں دیکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد شمالی کوریا، افغانستان اور ایران کا نمبر آتا ہے۔ یہ سروے نیرا ڈیٹا کی۲۰۲۶ء میں جمہوریت اور ملک کے بارے میں عوامی تاثر پر کی جانے والی تحقیق کا حصہ ہے۔پانچ سب سے زیادہ مثبت طور پر دیکھے جانے والے ممالک سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، جاپان، سویڈن اور اٹلی ہیں۔یہ نتائج اسرائیل کو ’’گلوبل کنٹری پرسیپشنز ۲۰۲۶ء‘‘کی درجہ بندی میں سب سے نچلے درجے پر لے آئے ہیں۔ یہ سروے۴۶۶۶۷؍ جواب دہندگان پر کیا گیا، جس میں۱۲۹؍ ممالک اور تین بین الاقوامی تنظیموں کے بارے میں دنیا بھر میں رائے لی گئی۔ یہ درجہ بندی نیرا ڈیٹا کے ’’ڈیموکریسی پرسیپشن انڈیکس ۲۰۲۶ء‘‘ کے ساتھ شائع کی گئی، جس میں۹۸؍ ممالک کے۹۴۱۴۶؍ جواب دہندگان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے ممالک میں جمہوریت کو کیسے محسوس کرتے ہیں۔یہ نتیجہ غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی، فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی، بھوک کی پالیسیوں، اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے تشدد کے درمیان اسرائیل کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنہائی کی ایک اور وجہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مسجد اقصیٰ میں یہودی انتہا پسندوں کا دھاوا، اشتعال انگیز جلوس نکالا گیا
بعد ازاں اسرائیل کی عالمی امیج تباہ ہو گئی ہے کیونکہ انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوام متحدہ کے ماہرین اور بین الاقوامی عدالتوں نے قابض اسرائیلی ریاست کی طرف سے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں پرمتعدد بار تنقید کی ہے۔مزید برآں امریکہ کی عالمی حیثیت بھی ڈرامائی طور پر گر گئی ہے۔ امریکہ اب دنیا کے پانچ سب سے زیادہ منفی تصور کیے جانے والے ممالک میں شامل ہے، اور بین الاقوامی مقبولیت کے معاملے میں روس اور چین سے بھی نیچے آ گیا ہے۔ اس کا خالص تاثراتی اسکور۲۰۲۴ء میںمثبت ۲۲؍ فیصد سے گر کر۲۰۲۶ء میںمنفی ۱۶؍ فیصد رہ گیا ہے، جو محض دو سالوں میں۳۸؍ پوائنٹس کی کمی ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ کا زوال صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی پر بڑھتے ہوئے غم و غصے کے درمیان ہوا، جس میں نیٹو اتحادیوں کے ساتھ کشیدہ تعلقات، جارحانہ ٹیرف، گرین لینڈ سے متعلق دھمکیاں، یوکرین امداد میں کٹوتی، اور ایران کے ساتھ امریکہ-اسرائیل تنازعے میں واشنگٹن کا کردار شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سروے میں پتا چلا کہ امریکہ کو اب روس اور اسرائیل کے بعد ایک بڑا عالمی خطرہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی ’’غیر قانونی جنگ‘‘ نے امریکہ کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا: چک شومر
واضح رہے کہ وسیع تر ڈیموکریسی پرسیپشن انڈیکس۲۰۲۶ء خود کو دنیا کا سب سے بڑا سالانہ جمہوری سروے قرار دیتا ہے۔ ماہرین پر مبنی جمہوری درجہ بندیوں کے برعکس، یہ شہریوں سے براہ راست پوچھتا ہے کہ وہ انتخابات، اظہارِ رائے کی آزادی، سیاسی تکثیریت، شہری تعلیم، اختیارات کی علیحدگی، قانون کی حکمرانی، حکومتی شفافیت، اور پرامن اقتدار کی منتقلی جیسے سوالات کے ذریعے جمہوریت کو کیسے محسوس کرتے ہیں۔دراصل اسرائیل کی حیثیت کا خاتمہ اس وقت ہوا ہے جب غزہ پر اس کے حملے کے خلاف عالمی عوامی رائے تیزی سے بدلی ہے۔جہاں ۷؍اکتوبر سے اب تک، اسرائیل نے۷۴؍ ہزار سے زائد فلسطینیوں کو قتل کیا ہے، غزہ کا بیشتر شہری ڈھانچہ تباہ کیا ، تقریباً پوری آبادی کو بے گھر کیا ہے، اور ایسے حالات مسلط کیے ہیں جنہیں اقوام متحدہ کے ماہرین اور نسل کشی کے ماہرین نے ’’نسل کشی‘‘ قرار دیا ہے۔امریکہ کے لیے، یہ نتائج غزہ میں اسرائیل کی مسلسل فوجی، سفارتی اور سیاسی حمایتکے سبب ہیں۔ اس کے علاوہ یکے بعد دیگرے امریکی انتظامیہ نے اسرائیل کو اقوام متحدہ میں احتساب سے بچایا اور جنگی جرائم کے بڑھتے ہوئے شواہد کے باوجود اسلحے کی ترسیل جاری رکھی۔ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ عالمی عوام تیزی سے امریکی طاقت کو استثنیٰ، دوہرے معیار اور عدم استحکام پھیلانے والی جنگوں کا ذمہ دار سمجھتی ہے۔