Updated: May 29, 2026, 10:06 PM IST
| Mumbai
دنیا کی بڑی کارپوریشنوں کے چیف ایگزیکٹو افسران (سی ای اوز) کی تنخواہوں میں ۲۰۲۵ء کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ عام کارکنوں کی اجرت میں اضافہ نسبتاً محدود رہا۔ امریکہ، یورپ، برطانیہ، ہندوستان اور دیگر بڑی معیشتوں میں کارپوریٹ سربراہان اور ملازمین کے درمیان آمدنی کا فرق مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، زندگی کے اخراجات اور معاشی عدم مساوات کے درمیان ایگزیکٹو معاوضوں میں یہ تیز رفتار اضافہ عالمی سطح پر معاشی انصاف، مزدور حقوق اور کارپوریٹ گورننس سے متعلق نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔
ایلون مسک۔۔ تصویر: آئی این این
۲۰۲۵ء میں دنیا بھر کی بڑی کمپنیوں کے اعلیٰ ترین عہدیداروں کی تنخواہوں میں ایک بار پھر غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے کارپوریٹ قیادت اور عام کارکنوں کے درمیان موجود معاشی خلیج مزید وسیع ہو گئی۔ عالمی معیشت اگرچہ مہنگائی، جغرافیائی کشیدگی، سپلائی چین کے مسائل اور بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت جیسے چیلنجز سے نبرد آزما رہی، لیکن بڑی کمپنیوں کے سی ای اوز کی آمدنی میں مسلسل اضافہ جاری رہا۔ بین الاقوامی تنظیموں آکسفیم اور انٹرنیشنل ٹریڈ یونین کنفیڈریشن کے مشترکہ تجزیے کے مطابق ۳۳؍ ممالک کی ۱۵۰۰؍ بڑی کمپنیوں کے سی ای اوز کا اوسط سالانہ معاوضہ ۲۰۲۵ء میں ۴ء۸؍ ملین ڈالر تک پہنچ گیا، جو ۲۰۲۴ء کے ۶ء۷؍ ملین ڈالر کے مقابلے میں تقریباً ۱۱؍ فیصد زیادہ ہے۔ اس کے برعکس دنیا بھر میں کارکنوں کی حقیقی اجرت میں اوسط اضافہ محض ۵ء۰؍ فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر ایک عام کارکن کو اتنی آمدنی حاصل کرنے کے لیے تقریباً ۴۹۰؍ سال کام کرنا پڑے گا جتنی ایک بڑے کارپوریٹ ادارے کا سی ای او صرف ایک سال میں حاصل کرتا ہے۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ ۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۵ء کے درمیان عالمی سطح پر حقیقی مزدوری آمدنی میں ۱۲؍ فیصد کمی واقع ہوئی، جبکہ اسی عرصے میں سی ای اوز کے معاوضوں میں ۵۴؍ فیصد اضافہ ہوا۔
یہ بھی پڑھئے : امریکہ:دو سال میں سرمایہ کاری میں بدعنوانی، دھوکہ دہی میں ۸۷؍ فیصد اضافہ: رپورٹ
دنیا کی مختلف معیشتوں میں سی ای او اور کارکن کی تنخواہ کے درمیان فرق بھی نمایاں رہا۔ امریکہ میں یہ تناسب تقریباً 265:1، ہندوستان میں 229:1، برطانیہ میں 201:1، جنوبی افریقہ میں 180:1 اور نیدرلینڈز میں 171:1 ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی ترقی کے ثمرات بڑی حد تک کارپوریٹ قیادت اور سرمایہ کاروں تک محدود ہو رہے ہیں جبکہ عام ملازمین کو اس کا نسبتاً کم فائدہ مل رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے : اسرائیلی ہوائی اڈے پرامریکی طیاروں کی موجودگی سے محکمہ کو۲۴۸؍ ملین ڈالر کا نقصان
امریکہ میں تنخواہوں کا بڑھتا ہوا فرق
امریکہ میں یہ رجحان سب سے زیادہ نمایاں رہا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس اور ایکویلر کے مشترکہ سروے کے مطابق ایس اینڈ پی ۵۰۰؍ انڈیکس میں شامل کمپنیوں کے ایک عام چیف ایگزیکٹو افسر نے ۲۰۲۵ء میں اوسطاً ۷ء۱۷؍ ملین ڈالر کمائے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ۶؍ فیصد زیادہ ہیں۔ اس کے مقابلے میں انہی کمپنیوں کے ایک اوسط ملازم کی سالانہ آمدنی ۸۹؍ ہزار ۷۴۴؍ ڈالر رہی، جو ۷ء۴؍ فیصد اضافے کی نمائندگی کرتی ہے۔ اگرچہ کارکنوں کی اجرت افراطِ زر کی شرح سے کچھ زیادہ بڑھی، لیکن بیشتر امریکی خاندان اب بھی رہائش، صحت، تعلیم اور روزمرہ ضروریات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث مالی دباؤ کا شکار ہیں۔
سروے میں شامل نصف کمپنیوں میں صورتحال یہ رہی کہ ایک اوسط کارکن کو سی ای او کی ایک سالہ آمدنی کے برابر رقم کمانے کے لیے تقریباً ۲۰۰؍ سال کام کرنا پڑے گا، جبکہ گزشتہ برس یہ تناسب ۱۹۲؍ سال تھا۔ سب سے زیادہ فرق بعض بڑی کمپنیوں میں دیکھا گیا۔ کوکا کولا میں سی ای او کی آمدنی ایک عام ملازم کی تنخواہ سے تقریباً ۱۷۳۹؍ گنا زیادہ رہی، جبکہ ٹی جے ایکس کمپنیز میں یہ تناسب 1774:1 تک پہنچ گیا۔
انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی اسٹڈیز کی ماہر سارہ اینڈرسن نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب کروڑوں خاندان بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اخراجات سے نبرد آزما ہیں، ایگزیکٹو تنخواہوں کا مسلسل بڑھنا تشویشناک اور معاشی عدم مساوات کی واضح مثال ہے۔
یہ بھی پڑھئے : امریکی حمایت یافتہ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے نمائندوں کا جلد غزہ دورہ متوقع
ہندوستان میں بھی فرق نمایاں
ہندوستان میں اگرچہ امریکی سطح کے معاوضے نہیں دیے جاتے، لیکن سی ای او اور کارکن کے درمیان آمدنی کا فرق تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مختلف کارپوریٹ مطالعات کے مطابق ملک میں اوسط سی ای او اپنے ملازمین سے تقریباً ۲۲۹؍ گنا زیادہ کماتا ہے۔ ہندوستان کی تیزی سے ترقی کرتی ٹیکنالوجی، بینکاری، ٹیلی کمیونیکیشن اور صنعتی کمپنیوں میں اسٹاک آپشنز، پرفارمنس بونس اور شیئر پر مبنی مراعات نے اعلیٰ عہدیداروں کے معاوضوں کو مزید بڑھایا ہے۔ دوسری طرف لاکھوں کارکن اب بھی اجرت، مہنگائی اور روزگار کے تحفظ جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں معاشی ترقی کے باوجود آمدنی کی غیر مساوی تقسیم ایک اہم چیلنج بنی ہوئی ہے۔ کئی اقتصادی رپورٹس کے مطابق ملک کے امیر ترین طبقے اور متوسط و کم آمدنی والے طبقوں کے درمیان دولت کا فرق گزشتہ چند برسوں میں مزید بڑھا ہے۔
اسٹاک ایوارڈز نے معاوضوں کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا
رپورٹ کے مطابق جدید کارپوریٹ معاوضہ ڈھانچے میں بنیادی تنخواہ کے بجائے اسٹاک ایوارڈز، شیئر آپشنز اور طویل مدتی کارکردگی سے منسلک مراعات کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی سی ای اوز کے معاوضے غیر معمولی سطح تک پہنچ گئے ہیں۔ ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک کا مجوزہ معاوضہ پیکیج ۳ء۱۳۲؍ ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو جدید کارپوریٹ تاریخ کے سب سے بڑے پیکجوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ رقم کمپنی کی مارکیٹ ویلیو، الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت، روبوٹیکسی سسٹم اور ہیومنائیڈ روبوٹس جیسے مستقبل کے منصوبوں سے مشروط ہے۔
ویل ٹاور کے شنکھ مترا کو ۱ء۸۲۱؍ ملین ڈالر، براڈ کوم کے ہاک ٹین کو ۳ء۲۰۵؍ ملین ڈالر، ورانر بروز ڈسکوری کے ڈیوڈ زاسلاو کو تقریباً ۱۶۵؍ ملین ڈالر اور گولڈمین ساخس کے ڈیوڈ سولومن کو تقریباً ۱۱۹؍ ملین ڈالر کا معاوضہ ملا۔ سٹی گروپ کی جین فریزر ۸ء۹۵؍ ملین ڈالر کے معاوضے کے ساتھ دنیا کی سب سے زیادہ معاوضہ پانے والی خاتون سی ای اوز میں شامل رہیں۔ تاہم مجموعی طور پر خواتین سی ای اوز کے معاوضے میں ۶ء۲؍ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ مرد سی ای اوز کے معاوضے میں ۴ء۶؍ فیصد اضافہ ہوا۔
دوسری جانب کچھ معروف شخصیات نسبتاً کم معاوضے پر کام کرتی رہیں۔ برکشائر ہیتھوے کے سربراہ وارن بفیٹ نے اپنی قیادت کے آخری سال میں صرف ۳۸۹۴۸۸؍ ڈالر وصول کیے جبکہ میٹا کے مارک زکربرگ کا زیادہ تر معاوضہ ذاتی سیکوریٹی اور سفری اخراجات پر مشتمل رہا۔
عالمی بحث تیز
ماہرین معاشیات، مزدور تنظیموں اور سماجی اداروں کا کہنا ہے کہ سی ای اوز اور کارکنوں کے درمیان بڑھتا ہوا فرق مستقبل میں معاشی عدم مساوات، سماجی بے چینی اور مزدور حقوق سے متعلق بحث کو مزید تیز کر سکتا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ کمپنیوں کی کامیابی میں کارکنوں کا کردار بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا اعلیٰ انتظامیہ کا، اس لیے منافع اور ترقی کے ثمرات کی زیادہ منصفانہ تقسیم ضروری ہے۔ دوسری جانب کارپوریٹ حلقے استدلال کرتے ہیں کہ جدید عالمی معیشت میں بڑی کمپنیوں کی قیادت انتہائی پیچیدہ ذمہ داری ہے، اس لیے اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے ایگزیکٹوز کو بڑی مراعات دینا کاروباری مسابقت کے لیے ضروری ہے۔ تاہم، ایک حقیقت واضح ہے کہ ۲۰۲۵ء میں دنیا بھر میں کارپوریٹ سربراہان اور عام کارکنوں کے درمیان آمدنی کا فرق مزید بڑھا ہے، اور یہ موضوع آنے والے برسوں میں عالمی اقتصادی بحث کے مرکز میں رہنے کا امکان رکھتا ہے۔