ڈیپ فیک کی مدد سے، جعلساز جعلی تصاویر، ویڈیوز یا آڈیو بنا تے ہیں جو بالکل اصلی لگتے ہیں، لوگ انہیں اصلی سمجھ کر دھوکہ دہی کا شکار ہو جاتے ہیں، اس کے واقعات آج بہت عام ہوچکے ہیں۔
EPAPER
Updated: July 30, 2026, 2:33 PM IST | Mumbai
ڈیپ فیک کی مدد سے، جعلساز جعلی تصاویر، ویڈیوز یا آڈیو بنا تے ہیں جو بالکل اصلی لگتے ہیں، لوگ انہیں اصلی سمجھ کر دھوکہ دہی کا شکار ہو جاتے ہیں، اس کے واقعات آج بہت عام ہوچکے ہیں۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے زندگی کو آسان بنا دیا ہے، لیکن یہ رازداری کیلئے بھی خطرہ ہے۔ دھوکہ باز لوگوں کو دھوکہ دینے کیلئے اےآئی کا استعمال کر رہے ہیں۔ وہ ڈیپ فیک ویڈیوز بنا رہے ہیں اور انہیں پھنس رہے ہیں۔ڈیپ فیک کی مدد سے، جعلساز جعلی تصاویر، ویڈیوز یا آڈیو بنا رہے ہیں جو بالکل اصلی لگتے ہیں۔ لوگ انہیں اصلی سمجھ کر دھوکہ دہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ محفوظ رہنے کیلئے ہر کسی کو ڈیپ فیک کی شناخت کرنے کے قابل ہونا چاہئے۔دینک بھاسکر نے یوپی پولیس کے سائبر سیکوریٹی ایڈوائزرراہل مشرا سے تفصیلی بات چیت کی ، سوال جواب کی شکل میں اس کے کچھ نکات یہاںپیش کئے جارہے ہیں:
سوال: ڈیپ فیک کیا ہے؟
جواب: آئیے اسے اشارے سے سمجھیں، ڈیپ فیک دو الفاظ سے بنا ہے ، ڈیپ اور جعلی ۔ ڈیپ کا مطلب ہے ڈیپ لرننگ ، یہ اے آئی ٹیکنالوکی کی ہی تعبیر ہےاور فیک یعنی نقلی یا جعلی ۔اس کا معنی یہ بھی ہےکہ جعلی موادکو ایسے پیش کیاجائےکہ یہ بالکل اصلی معلوم ہو۔ اس میں کسی شخص کے چہرے، آواز اور اشاروں کی نقل کرکے جعلی ویڈیوز، تصاویر یا آڈیوز بنائےجاتےہیں۔یہ مواد اتنا حقیقت پسندانہ لگتا ہے کہ پہلی نظر میں جعلی اور اصلی میں فرق کرنا مشکل ہے۔
سوال: ڈیپ فیک ٹیکنالوجی اور جنریٹیو اے آئی کیسے کام کرتے ہیں؟
جواب: جنریٹیو اے آئی ایک مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی ہے۔ یہ لاکھوں تصاویر، ویڈیوز اور آڈیو سے پیٹرن سیکھ کر نیا مواد تخلیق کرتا ہے۔ اس کا استعمال کسی شخص کے چہرے، آواز اور اشاروں کو کاپی کرنے کے لیے کیا جاتا ہے تاکہ نیا مواد تخلیق کیا جا سکے جو حقیقی معلوم ہو۔
سوال: کیا آڈیو بھی ڈیپ فیک ہو سکتا ہے؟
جواب: جی ہاں، اسے ’وائس کلوننگ ‘ یا’ڈیپ فیک آڈیو‘ کہا جاتا ہے۔ اے آئی آواز کے نمونے کے چند سیکنڈ سے کسی شخص کے بولنے کا انداز اور لہجہ سیکھ لیتا ہے۔اس کے بعد یہ اس شخص کی آواز کی قریب قریب نقل تیار کرتا ہے۔سائبر کریمنل اسے رشتہ داروں، دوستوں، باسیز، یا بینک حکام کے طور پر ظاہر کر کے لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
سوال: ڈیپ فیک ویڈیو کی شناخت کیسے کی جائے؟
جواب: ڈیپ فیک ویڈیوز کی شناخت کچھ غیر معمولی علامات پر توجہ دے کر کی جا سکتی ہے۔
*ہونٹوںکی حرکت اورآواز میں مطابقت نہ ہو۔بولنے میںروانی نہیں ہے اور موومنٹ الگ نظر آئے۔
*آئی موومنٹ پر دھیان دیں۔ پلکیں کم جھپکتی ہوںاور آنکھوں کا فوکس خلاف معمول نظر آئے۔
*گردن اورسر کا موومنٹ الگ محسوس ہو۔ہاتھوںکی حرکات میں گڑبڑی دکھائی دےیا انگلیوںکے اشارےالگ معلوم ہوں۔
*آواز سن کر محسوس ہوکہ اس میں روبوٹک عنصر شامل ہے۔لہجے میںکبھی یکسانیت اورکبھی آواز بدلتی ہوئی محسوس ہو۔
*چہرے کے کنارے دھندلا ہو۔جلدبہت صاف وشفاف ہو۔لائٹنگ اور شیڈومیںبھی مطابقت نظرنہ آتی ہو۔
سوال: ’تھری فنگررول ‘ کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟
جواب: یہ ایک قاعدہ ہے جو ڈیپ فیک ویڈیو کال کی شناخت کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ اس میں ویڈیو کال کرنے والے سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے چہرے کے سامنے تین انگلیاں رکھے۔ بعض اوقات، ڈیپ فیک یا فیس سویپ سسٹم اچانک ایسی سرگرمی کو درست طریقے سے پروسیس کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے اور اس کی وجہ سے چہرے پر خرابی یا بصری بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے۔
بہر حال ،ذہن میں رکھیں کہ یہ شناخت کا ۱۰۰؍ فیصدثبوت نہیں ہے۔اعلیٰ درجے کی اے آئی ٹیکنالوجی اسے بائی پاس بھی کرسکتی ہے۔اسے صرف ایک فوری تصدیقی ٹول کے طور پر استعمال کریں۔
سوال: ڈیپ فیک گھوٹالوں سے کیسے بچیں؟
جواب: بہترین طریقہ یہ ہے کہ کسی بھی ویڈیو/آڈیو کی تصدیق کئے بغیر اس سے گریز کیا جائے۔خاص طور پر آپ کوموصول ہونے و الے کسی کال کویاسوشل میڈیا کی کسی لنک کواوپن کرنے سے بچیںیا اوپن کر بھی لیںتوسامنے والےکو اپنی ذاتی معلومات نہ دیں یا اوٹی پی اور پاس ورڈ وغیرہ کی تصدیق نہ کریں۔
سوال: اگر ڈیپ فیک کا شکار ہو جائیں تو آپ کو فوری طور پر کیا کرنا چاہیے؟
جواب: گھبرانے کے بجائے فوری طور پر یہ اقدامات کریں:سائبر ہیلپ لائن نمبر 1930 پر کال کریں۔نیشنل سائبر کرائم پورٹل پر آن لائن رپورٹ درج کریں۔مقامی پولیس یا سائبر سیل میں شکایت درج کروائیں۔ویڈیوز، آڈیو، اسکرین شاٹس، لنکس اور چیٹ کا ریکارڈ محفوظ کریں۔متعلقہ سوشل میڈیا یا ویب سائٹ پر مواد کی اطلاع دیں۔
سوال: ہندوستان میں ڈیپ فیک کے خلاف کوئی قانون ہے؟
جواب: فی الحال، ہندوستان میں ڈیپ فیک کے خلاف کوئی خاص قانون نہیں ہے۔ تاہم، ڈیپ فیکس کے استعمال سے کیے گئے جرائم پر انفارمیشن ٹیکنالوجی(آئی ٹی)ایکٹ۲۰۰۰ء اورآئی ٹی رولز۲۰۲۱ء کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔اس میں مختلف جرمانے اورسزائیں شامل ہیں۔