Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی ہوائی اڈے پرامریکی طیاروں کی موجودگی سے محکمہ کو۲۴۸؍ ملین ڈالر کا نقصان

Updated: May 29, 2026, 5:23 PM IST | Tel Aviv

اسرائیل کے بین گوریون ہوائی اڈے پر امریکی فوجی طیاروں کی موجودگی سے اسرائیلی ایئرپورٹ اتھارٹی کو ۲۴۸؍ ملین ڈالر کا نقصان ہوا ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو یہ اعداد و شمار اربوں تک جا سکتے ہیں۔

American planes can be seen at Ben Gurion Airport in Israel. Photo: X
اسرائیل کے بین گوریون ایئرپورٹ پر امریکی طیارے دیکھے جاسکتے ہیں۔ تصویر: ایکس

اسرائیلی حکام نے جمعرات کو بتایا کہ بین گوریون ایئرپورٹ پر امریکی فوجی طیاروں کی موجودگی کی وجہ سے گزشتہ دو ماہ میں ایئرپورٹ اتھارٹی کو۲۴۸؍ ملین ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو یہ اعداد و شمار اربوں تک جا سکتے ہیں۔اسرائیل ایئرپورٹ اتھارٹی کی ڈائریکٹر جنرل شیرون کیدمی کے مطابق، بین گوریون ایئرپورٹ اس وقت صرف ایک تہائی صلاحیت کے ساتھ کام کر رہا ہے کیونکہ یہاں درجنوں امریکی ٹینکر طیارے موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے ایران جنگ سے متعلق کابینہ کا اجلاس طلب کرلیا

انہوں نے بتایا کہ ایئرپورٹ کی تقریباً۷۰؍ فیصد سرگرمیاں محدود کر دی گئی ہیں۔بعد ازاں کیدمی نے خبردار کیا کہ آنے والے دنوں میں مزید پروازیں منسوخ کی جا سکتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس سال ۱۸؍ ملین مسافروں کی توقع تھی، لیکن اب اندازہ ہے کہ یہ تعداد۱۵؍ ملین سے تجاوز نہیں کرے گی۔ اس کے علاوہ غیر ملکی ایئرلائنز کی واپسی بھی ممکن نہیں، اوراس کے سبب ۳۰؍ لاکھ تک مسافر متاثر ہو سکتے ہیں۔اس سے قبل اسرائیلی میڈیا نے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سربراہ شموئیل ذاکائی کے حوالے سے بتایا تھا کہ ’’بین گوریون محدود شہری پروازوںکے ساتھ ایک فوجی ہوائی اڈے میں تبدیل ہو گیا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: امریکہ نے فرانسسکا البانیز پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں

واضح رہے کہ ۲۸؍فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملہ کردیا تھا، جس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈرسمیت ۴۰؍ سے زائد فوجی اور سیاسی لیڈروں کی شہادت ہوئی تھی، جس کے جواب میں ایران کے خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات ، اور اسرائیل کو ڈرون اور میزائل سے نشانہ بنایا،حالانکہ فی الوقت عارضی جنگ بندی نافذ ہے، اور مذاکرات کا دور بھی جاری ہے، لیکن مذاکرات کی ناکامی کی صور ت میں جنگ دوبارہ شروع ہونے کا خطرہ بھی برقرار ہے، اور اسی کی تیاری کے طور پرامریکہ نے اپنے فوجی طیاروں کو اسرائیل کے ہوائی اڈے پر کھڑے کئے ہیں،جس کے نتیجے میں یہ ہوائی اڈہ جزوی طور پر ہی کام کرپارہا ہے، جس کا نقصان انتظامیہ کو ہورہاہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK