Updated: July 29, 2026, 10:10 PM IST
| Paris
ایئربس A350-1000ULR نے ۲۷ جولائی کو ملبورن سے اڑان بھری اور بحر الکاہل، بحر اوقیانوس اور شمالی امریکہ کے اوپر سے بغیر رکے سفر کرتے ہوئے ۲۸ جولائی کو ٹولوس میں لینڈ کیا۔ اس پرواز نے ۲۴ گھنٹے ۲۵ منٹ میں ۱۲۴۶۰ ناٹیکل میل کا فاصلہ طے کیا جبکہ ’فلائٹ ریڈار ۲۴‘ (Flightradar24) پر ۳۶ لاکھ افراد نے اسے لائیو ٹریک کیا۔
آسٹریلیا کی ہوائی کمپنی کینٹاس (Qantas) کی ملبورن (آسٹریلیا) سے ٹولوس (فرانس) تک جانے والی ایک ٹیسٹ فلائٹ نے دنیا کی سب سے طویل نان اسٹاپ تجارتی پرواز کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ اس پرواز نے ۲۴ گھنٹے ۲۵ منٹ میں ۱۲۴۶۰ ناٹیکل میل کا فاصلہ طے کیا جبکہ ’فلائٹ ریڈار ۲۴‘ (Flightradar24) پر ۳۶ لاکھ افراد نے اسے لائیو ٹریک کیا۔ اس طرح، یہ اس سروس کی تاریخ میں ۲۰۲۲ء میں ملکہ الزبتھ دوم کے تابوت کو لے جانے والی ’آر اے ایف‘ (RAF) پرواز کے بعد دوسری سب سے زیادہ ٹریک کی جانے والی پرواز بن گئی۔
ایئربس A350-1000ULR نے ۲۷ جولائی کو ملبورن سے اڑان بھری اور بحر الکاہل، بحر اوقیانوس اور شمالی امریکہ کے اوپر سے بغیر رکے سفر کرتے ہوئے ۲۸ جولائی کو ٹولوس میں لینڈ کیا۔ اس سے قبل ایک ٹیسٹ فلائٹ ۲۳ جولائی کو ٹولوس سے ملبورن پہنچی تھی، جس نے ۱۹ گھنٹے ۱۳ منٹ میں ۱۷۰۰۰ کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا تھا اور اسے ۷۵ ہزار سے زیادہ ٹریکرز نے دیکھا تھا۔ ٹولوس کی طرف واپسی کے اس سفر نے اس ہندسے کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ۳۶ لاکھ افراد کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ۵؍ اگست ۲۶ء: اسپیس ایکس راکٹ چاند سے ٹکرائے گا، زمین سے دیکھنا ممکن
پائلٹوں کی شفٹیں اور آرام کے انتظامات
ٹولوس واپسی کیلئے روانہ ہونے والی اس پرواز میں کینٹاس کے دو پائلٹوں کے ساتھ ایئربس کے تین ٹیسٹ پائلٹ اور پانچ فلائٹ ٹیسٹ انجینئرز سوار تھے۔ ہر پائلٹ نے چار گھنٹے کی شفٹ میں کام کیا، ہر دو گھنٹے بعد عملے کو بدلا جاتا تھا تاکہ آنے والے اور جانے والے پائلٹوں کے درمیان دو گھنٹے کا اشتراک یقینی بنایا جا سکے۔ واپسی کی پرواز کے کپتان اور ایئربس کے ٹیسٹ پائلٹ زیویئر پیپن نے کہا کہ ”یہ مرحلہ وار طریقہ کار اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ جب کوئی نیا پائلٹ کاک پٹ میں شامل ہوتا ہے، تو وہ جانے والے پائلٹ کے ساتھ دو گھنٹے کا وقت گزارتا ہے۔“ فلائٹ کریو کے آرام کیلئے بنائے گئے ڈبل روم کے ذریعے پائلٹ ایک دوسرے کو پریشان کئے بغیر آرام کے حصوں میں داخل یا باہر نکل سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دنیا کے پہلے سیاہ فام فوجی پائلٹ احمد علی چیلیکتن کو سرکاری شناخت دلانے کی مہم
اضافی ایندھن کا ٹینک اور رینج
اس طیارے میں ۲۰۹۰۰ لیٹر کا اضافی عقبی مرکزی ایندھن کا ٹینک لگایا گیا ہے، جس سے یہ اضافی ایک ہزار ناٹیکل میل اڑان بھر سکتا ہے اور اس کی نان اسٹاپ پرواز کی کل رینج تقریباً ۱۰ ہزار ناٹیکل میل تک پہنچ جاتی ہے۔ ایئربس نے A350-1000ULR کو خاص طور پر کینٹاس کے پروجیکٹ سن رائز (Project Sunrise) کے روٹس کیلئے تیار کیا ہے، جس کے تحت ایئر لائن ۲۰۲۷ء میں سڈنی اور نیویارک یا لندن کے درمیان برائے راست تجارتی پروازیں شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کینٹاس نے اس پروگرام کیلئے بارہ طیاروں کا آرڈر دیا ہے، جن کی بکنگ فروری میں کھلے گی۔
دنیا کی سب سے طویل تجارتی پرواز کا موجودہ ریکارڈ سنگاپور ایئر لائنز کے پاس ہے، جو نیویارک شہر اور سنگاپور کو ۱۸ سے ۱۹ گھنٹے میں جوڑتی ہے۔ کینٹاس کا ہدف اپنے پروجیکٹ سن رائز کی پروازوں کو ۲۱ گھنٹے ۴۰ منٹ سے کم رکھنا ہے، جس میں ۲۳۸ مسافروں کو لے جایا جائے گا اور ۴۰ فیصد سے زیادہ نشستیں فرسٹ، بزنس اور پریمیئم ایکانمی کیبن کیلئے مختص ہوں گی۔