Inquilab Logo Happiest Places to Work

شاہین باغ میں مبینہ غیر قانونی تارکینِ وطن سے متعلق درخواست خارج: دہلی ہائی کورٹ

Updated: July 29, 2026, 9:01 PM IST | New Delhi

دہلی ہائی کورٹ نے شاہین باغ، بٹلہ ہاؤس، کالندی کنج، تیمور نگر، شرم وہار، مجنوں کا ٹیلہ اور یمنا کے کنارے واقع دیگر علاقوں میں مبینہ غیر قانونی تارکینِ وطن کی موجودگی اور ان کے جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات پر مبنی مفادِ عامہ کی درخواست (PIL) مسترد کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست میں نہ تو الزامات کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش کیا گیا اور نہ ہی ایسے افراد کی شناخت یا تفصیلات فراہم کی گئیں۔

Delhi High Court. Photo: INN
دہلی ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این۔

دہلی ہائی کورٹ نے شاہین باغ اور دہلی کے دیگر علاقوں میں مبینہ غیر قانونی تارکینِ وطن کی موجودگی کے حوالے سے دائر ایک مفادِ عامہ کی درخواست خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ محض عمومی اور غیر مصدقہ الزامات کی بنیاد پر عدالت کسی بڑے پیمانے پر شناخت، تفتیش یا ملک بدری کے احکامات جاری نہیں کر سکتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ عدالتی مداخلت کے لیے ٹھوس شواہد اور قابلِ تصدیق مواد ضروری ہے، جو اس مقدمے میں موجود نہیں تھا۔ جسٹس پرشیندرا کمار کوراو کی بنچ کے سامنے دائر درخواست میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ شاہین باغ، بٹلہ ہاؤس، کالندی کنج، شرم وہار، تیمور نگر، مجنوں کا ٹیلہ اور دریائے یمنا کے اطراف واقع علاقوں میں بڑی تعداد میں مبینہ غیر قانونی تارکینِ وطن رہ رہے ہیں، جن میں بنگلہ دیشی اور روہنگیا باشندے شامل ہیں، اور وہ مختلف جرائم میں ملوث ہیں۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ان افراد کی شناخت کر کے انہیں ان کے آبائی ممالک واپس بھیجا جائے اور انہیں پناہ دینے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔ تاہم عدالت نے کہا کہ ان الزامات کی تائید میں کوئی قابلِ قبول مواد پیش نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: کانوڑ یاترا: ۴؍ تا ۱۲؍ اگست تک دہلی ہری دوار قومی شاہراہ پرگاڑیوں کی آمد بند

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’’درخواست میں ایسے کسی شخص کا نام، شناخت یا کوئی ایسی مخصوص تفصیل فراہم نہیں کی گئی جس کی بنیاد پر متعلقہ حکام ان دعووں کی جانچ کر سکیں۔‘‘ عدالت نے مزید کہا کہ ’’محض مبہم، عمومی اور غیر مصدقہ الزامات کی بنیاد پر متعلقہ حکام کو مبینہ غیر قانونی تارکینِ وطن کی شناخت، تفتیش یا ملک بدری کے لیے عمومی ہدایات جاری نہیں کی جا سکتیں، کیونکہ ایسا کرنا ایک بے مقصد اور غیر محدود نوعیت کی جانچ کا حکم دینے کے مترادف ہوگا، جو آئینی رِٹ اختیار کے دائرۂ کار سے باہر ہے۔‘‘ فیصلے میں عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ درخواست گزار نے مقامی پولیس کے پاس ان الزامات کے حوالے سے کوئی باضابطہ شکایت درج نہیں کرائی تھی۔ پولیس کی جانب سے کی گئی ابتدائی جانچ میں بھی درخواست میں لگائے گئے الزامات کی تائید میں کوئی مواد سامنے نہیں آیا۔ عدالت نے کہا کہ ’’ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ درخواست گزار نے متعلقہ پولیس اسٹیشن میں کوئی شکایت درج نہیں کرائی اور نہ ہی ایسا کوئی مواد پیش کیا جس سے ان الزامات کی ابتدائی تصدیق ممکن ہو سکے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: فوڈ کارپوریشن نے ایتھنال پلانٹس کو خریداری لاگت سے کم قیمت پر چاول بیچا : مرکز

بنچ نے درخواست گزار ایم اے برنی کے ماضی کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ان کے خلاف خود متعدد فوجداری مقدمات درج ہیں۔ عدالت نے اپنے حکم میں یہ مشاہدہ بھی ریکارڈ کیا کہ ’’درخواست گزار خود بھی مجرمانہ پس منظر رکھتا ہے اور ماضی میں بھی اسی نوعیت کی کئی درخواستیں دائر کر چکا ہے، جنہیں عدالتیں مسترد کر چکی ہیں۔‘‘ ریاست اور مرکزی حکومت کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست میں لگائے گئے دعوے کسی مستند ریکارڈ یا قابلِ تصدیق معلومات پر مبنی نہیں ہیں۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ صرف قیاس آرائیوں یا عمومی بیانات کی بنیاد پر اس نوعیت کی عدالتی ہدایات جاری نہیں کی جا سکتیں۔ عدالت نے اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ رِٹ عدالت کسی ’’روونگ اینڈ فِشنگ انکوائری‘‘ (بے مقصد اور اندھا دھند تفتیش) کا حکم نہیں دے سکتی۔ 
عدالت نے مزید واضح کیا کہ اگر کسی مخصوص شخص کے بارے میں یہ دعویٰ ہو کہ وہ غیر قانونی طور پر ملک میں مقیم ہے تو متعلقہ حکام قانون کے مطابق اس کی جانچ کر سکتے ہیں، لیکن عدالت غیر متعین افراد کے خلاف عمومی کارروائی کا حکم نہیں دے سکتی۔ تمام دلائل اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد دہلی ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ درخواست میں کوئی ایسا قانونی یا حقائق پر مبنی جواز موجود نہیں جو عدالتی مداخلت کا متقاضی ہو۔ چنانچہ عدالت نے درخواست کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا اور اس سے منسلک تمام زیرِ التوا درخواستیں بھی نمٹا دیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK