Updated: May 12, 2026, 9:57 AM IST
| California
گوگل نے اپنے reCAPTCHA سسٹم میں خاموشی سے ایک بڑی تبدیلی متعارف کرائی ہے، جس کے تحت بعض صارفین کو ویب سائٹس تک رسائی کے لیے کیو آر کوڈ اسکین کر کے اپنے فون کی تصدیق کرنی پڑتی ہے۔ نیا ’’Cloud Fraud Defense‘‘ سسٹم گوگل پلے سروسیز کے ذریعے اینڈرائیڈ ڈیوائس کی کرپٹوگرافک توثیق کرتا ہے۔
گوگل نے اپنے مقبول reCAPTCHA سسٹم میں ایک نئی تبدیلی متعارف کرائی ہے جس کے بعد انٹرنیٹ پر انسانی تصدیق کا طریقہ نمایاں طور پر بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت بعض صارفین کو ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کیو آر کوڈ اسکین کر کے اپنے موبائل فون کی تصدیق کرنا پڑ رہی ہے۔ گوگل نے اپنے ’’Cloud Fraud Defense‘‘ نامی ٹول کے ذریعے یہ تبدیلی متعارف کرائی ہے، جو روایتی کیپچا سسٹم کا جدید ورژن سمجھا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے reCAPTCHA صارفین سے ٹریفک لائٹس، کراس واکس یا مسخ شدہ متن کی شناخت کرواتا تھا، تاہم نئے نظام میں مشتبہ ٹریفک کی صورت میں صارف کو کیو آر کوڈ اسکین کرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے : فرانس سائنسداں مایوپیا سے نمٹنے کیلئے انسانوں کے ’’ڈجیٹل ٹوینس‘‘ تیار کررہے ہیں
رپورٹس کے مطابق کیو آر کوڈ اسکین ہونے کے بعد گوگل پلے سروسیز کے ذریعے ڈیوائس کی کرپٹوگرافک تصدیق کی جاتی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا فون حقیقی، غیر ترمیم شدہ اور گوگل سے تصدیق شدہ اینڈرائیڈ ڈیوائس ہے یا نہیں۔ اگر ڈیوائس مطلوبہ شرائط پوری کرے تو صارف کو رسائی مل جاتی ہے، جبکہ ناکامی کی صورت میں مسلسل چیلنجز یا مکمل بلاکنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ نظام خاص طور پر ان افراد کے لیے مسئلہ بن سکتا ہے جو GrapheneOS، CalyxOS یا دیگر پرائیویسی فوکسڈ کسٹم ROMs استعمال کرتے ہیں جہاں گوگل پلے سروسیز محدود یا غیر موجود ہوتی ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے ایک ایسا ڈجیٹل ماحول بن سکتا ہے جہاں انٹرنیٹ تک رسائی بتدریج گوگل کے تصدیق شدہ ماحولیاتی نظام سے مشروط ہو جائے گی۔ دوسری جانب، بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اے آئی بوٹس مبینہ طور پر Web Bot Auth اور SPIFFE جیسے پروٹوکول استعمال کرتے ہوئے ان چیلنجز سے باآسانی گزر سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے پرائیویسی ماہرین اور ڈجیٹل حقوق کے کارکن اس نظام کو ’’دوہرے معیار‘‘ کی مثال قرار دے رہے ہیں، جہاں عام صارفین کو سخت جانچ سے گزرنا پڑتا ہے جبکہ بڑے کارپوریٹ AI سسٹمز کو کم رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے : ہنگری: پیٹر میگیار نئے وزیر اعظم منتخب، وکٹر اوربان کے۱۶؍ سالہ اقتدار کا خاتمہ
گوگل نے ابھی تک ان خدشات پر کوئی باضابطہ تفصیلی بیان جاری نہیں کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ نیا نظام ۲۰۲۳ء میں پیش کیے گئے ’’Web Environment Integrity‘‘ تصور سے مماثلت رکھتا ہے، جسے اس وقت Electronic Frontier Foundation اور Mozilla سمیت کئی اداروں نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس تجویز کو ناقدین نے ’’ویب کے لیے DRM‘‘ قرار دیا تھا کیونکہ اس سے کھلے انٹرنیٹ کے تصور کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق نئی تبدیلی اپریل ۲۰۲۶ء سے بتدریج نافذ ہونا شروع ہوئی اور reCAPTCHA استعمال کرنے والی متعدد ویب سائٹس خودکار طور پر اس اپ گریڈ کا حصہ بن گئیں۔ ڈجیٹل پرائیویسی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو مستقبل میں بینکنگ، حکومتی خدمات، آن لائن شاپنگ اور فورمز تک رسائی کے لیے بھی گوگل سے تصدیق شدہ ڈیوائس ضروری ہو سکتی ہے۔ بعض صارفین اب متبادل طریقے اختیار کر رہے ہیں، جن میں الگ ’’برنر‘‘ اینڈرائیڈ فون رکھنا یا مختلف براؤزرز اور نیٹ ورکس استعمال کرنا شامل ہے تاکہ کیو آر چیلنجز سے بچا جا سکے۔ ٹیکنالوجی مبصرین کے مطابق یہ تبدیلی صرف سیکوریٹی کا معاملہ نہیں بلکہ انٹرنیٹ کی آزادی، رازداری اور مستقبل کے ڈجیٹل اختیار کے بارے میں ایک بڑی بحث کو جنم دے رہی ہے۔