Inquilab Logo Happiest Places to Work

گوگل ڈیپ مائنڈ کا نیا اے آئی نظام ’SL2T‘، اشاروں کی زبان کو متن میں تبدیل کریگا

Updated: August 16, 2026, 9:41 AM IST | New York

گوگل ڈیپ مائنڈ نے بہرے اور کم سماعت رکھنے والے افراد کیلئے اشاروں کی زبان کو متن میں تبدیل کرنے والا جدید اے آئی نظام SL2T متعارف کرایا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ابتدا میں Pixel 11 میں دستیاب ہوگی، جس سے صارفین ٹائپنگ کے بجائے اشاروں کے ذریعے پیغامات، سرچ اور دیگر کام انجام دے سکیں گے۔

Google`s SL2T model translates sign language into text on a smartphone. Image: X
گوگل کا SL2T ماڈل اسمارٹ فون پر اشاروں کی زبان کو متن میں ترجمہ کرتا ہے۔تصویر: ایکس

گوگل ڈیپ مائنڈ نے ایک نیا مصنوعی ذہانت کا نظام متعارف کرایا ہے جو قوت سماعت سے محروم اور کم سماعت رکھنے والے افراد کے اپنے فون کے ساتھ تعامل کے طریقے کو بدل سکتا ہے۔ SL2T، جس کا مخفف Sign-Language-to-Text ہے، اشاروں کی زبان کو متن میں تبدیل کر سکتا ہے اور اسے سب سے پہلے Pixel 11 میں متعارف کرایا جا رہا ہے۔ یہ ماڈل Gboard اور Live Transcribe میں نئی سہولیات فراہم کرے گا جس کے ذریعے صارفین ان جگہوں پر اشاروں کی زبان استعمال کر سکیں گے جہاں انہیں عام طور پر ٹائپ کرنا پڑتا تھا۔ گوگل کے مطابق ابتدائی طور پر American Sign Language (ASL) کو انگریزی میں تبدیل کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ مستقبل میں مزید زبانوں اور آلات کو شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ 
یہ اعلان اس لئےاہم ہے کہ گوگل اشاروں کی زبان سے متعلق مصنوعی ذہانت کو محض تحقیقی تجربے سے آگے بڑھا کر صارفین کیلئے ایک حقیقی مصنوعات میں تبدیل کر رہا ہے۔ گوگل ڈیپ مائنڈ نے SL2T کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے، جسے خاص طور پر بہرے اور کم سماعت رکھنے والے افراد کیلئےتیار کیا گیا ہے۔

گوگل کی اشاروں کی زبان سے متعلق اے آئی کیسے کام کرتی ہے؟
SL2T کو صرف ہاتھ کے انفرادی اشاروں کو سمجھنے کیلئے نہیں بنایا گیا، بلکہ یہ اشاروں کی زبان کے دیگر اہم پہلوؤں کو بھی سمجھتا ہے۔ اشاروں کی زبان میں جسم کی حرکات، چہرے کے تاثرات اور جسم کے دوسرے حصے بھی معنی ادا کرتے ہیں، اس لئے عام اشاروں کو پہچاننے والے نظام کے مقابلے میں اسے سمجھنا اے آئی کیلئے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ یہ ماڈل اشاروں کی زبان کو متن میں تبدیل کر سکتا ہے، جسے صارف روزمرہ کے مختلف کاموں میں استعمال کر سکتے ہیں۔ ان کاموں میں ویب پر سرچ کرنا، پیغامات یا دستاویزات لکھنا اورجیمینائی کے ساتھ تعامل کرنا شامل ہے۔ Live Transcribe میں صارفین گفتگو کے دوران بار بار ٹائپ کرنے کے بجائے اشاروں کی زبان کے ذریعے جواب بھی دے سکیں گے۔ گوگل کا کہنا ہے کہ یہ نظام بہرے افراد کی کمیونٹی کے ارکان کی رائے اور تعاون سے تیار کیا گیا ہے، تاکہ یہ ٹیکنالوجی صرف لیبارٹری کے مظاہروں تک محدود نہ رہے بلکہ حقیقی زندگی میں استعمال ہونے والی اشاروں کی زبان کو بہتر طور پر سمجھ سکے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران میں ہندوستانی سفیر رودرا گورو شریستھ کا فارسی زبان میں الوداعی پیغام وائرل

حقیقی زندگی میں اشاروں کی زبان کیلئےتیار
ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ لوگ ہمیشہ مثالی حالات میں اشاروں کی زبان استعمال نہیں کرتے۔ ممکن ہے صارف کے ہاتھ میں فون ہو، وہ اپنی پوزیشن تبدیل کرے یا صرف ایک ہاتھ سے اشارے کرے۔ لانچ کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق گوگل کا ماڈل ایسی صورتِ حال سے نمٹنے کیلئےتیار کیا گیا ہے۔ یہ چہرے اور جسم کی ان حرکات کو بھی مدنظر رکھتا ہے جو اشاروں کی زبان میں معنی رکھتی ہیں۔ اس نظام کا یہ طریقہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ اشاروں کی زبانیں مکمل زبانیں ہیں، نہ کہ محض ہاتھ کے اشارے جنہیں لفظ بہ لفظ انگریزی میں ترجمہ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھئے: ممی شدہ انسانی باقیات سے خطرناک پھپھوندی پھیلنے کا خدشہ، سائنس دانوں کا انتباہ

Pixel 11 صرف آغاز ہے
SL2T ابتدا میں Pixel 11 پر ASL کو انگریزی میں تبدیل کرنے کی سہولت فراہم کرے گا، لیکن گوگل کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو مزید آلات اور زبانوں تک وسعت دی جائے گی۔ اس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر اشاروں کی زبان کے ذریعے متن درج کرنا اینڈرائیڈ کا ایک عام حصہ بن سکتا ہے، بجائے اس کے کہ اسے صرف خصوصی رسائی کی سہولت سمجھا جائے۔ گوگل کی وسیع تر اے آئی حکمتِ عملی تیزی سے ایسے ماڈلز تیار کرنے پر مرکوز ہو رہی ہے جو حقیقی دنیا اور انسانی رابطے کی مختلف شکلوں کے ساتھ تعامل کر سکیں۔ اس کی جیمینائی پہلے ہی متن، تصاویر، ویڈیو اور آڈیو جیسے ملٹی موڈل ان پٹس کو سپورٹ کرتی ہے۔ SL2T کے ذریعے گوگل انسانی رابطے کی ایک اور شکل کو اس فہرست میں شامل کر رہا ہے، جس سے صارفین بولنے یا ٹائپ کرنے کے بجائے اشاروں کی زبان کے ذریعے اپنے فون سے رابطہ قائم کر سکیں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK