Inquilab Logo Happiest Places to Work

نئی دہلی میں ہیٹ کرائم ٹریکر کا اجراء، نفرت پر مبنی واقعات کا ڈیٹا یکجا ہوگا

Updated: May 10, 2026, 10:40 AM IST | New Delhi

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اے پی سی آر اس نوعیت کے واقعات کی تفصیل اپنی سہ ماہی اور سالانہ رپورٹوں میں یکجا کررہا تھا لہٰذا ٹریکر پر ۲۰۲۴ء سے ۲۰۲۶ء تک کی تفصیل موجود ہے مگر طویل مدتی ٹریکنگ کو بنیاد بنا کر ۲۰۱۴ء کے بعد کے واقعات کو بھی یکجا کرلیا گیا ہے جنہیں آئندہ چند ہفتوں میں مرحلہ وار طریقے سے ٹریکر پر پوسٹ کیا جائیگا۔

APCR members at the launch of Hate Crime. Photo: INN
ہیٹ کرائم کے اجراء کے موقع پر اے پی سی آر کے اراکین۔ تصویر: آئی این این

شہری حقوق کے تحفظ کیلئے سرگرم ادارہ ’’اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس ‘‘ (اے پی سی آر) نے گزشتہ دنوں یہاں کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ’’ہیٹ کرائم ٹریکر‘‘ جاری کیا تاکہ ملک بھر میں نفرت پر مبنی جو بھی واقعہ رونما ہو اور اس کی تصدیق ہوچکی ہو، اُسے اس کیلئے خاص طور پر تیار کی گئی ویب سائٹ (اے پی سی آر ایچ سی ٹی ڈاٹ آرگ) پر درج کردیا جائے۔ اس طرح ایک ڈیٹا بیس قائم ہوگا اور جو بھی جاننا چاہے کہ نفرت پر مبنی کون سا واقعہ کہاں رونما ہوا ہے، وہ استفادہ کرسکتا ہے۔ اس سے ریسرچ کرنے والوں، صحافیوں، شہری اداروں (سول سوسائٹی آرگنائیشنز) اور عوام کو ایک ہی جگہ پر توثیق شدہ (ویریفائڈ) ڈیٹا میسر آسکے گا۔اے پی سی آر کے جاری کردہ اخباری اعلامیہ کے مطابق ’’یہ قدم اس لئے اُٹھایا گیا ہے کہ ملک میں مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف حالیہ برسوں میں تشدد بڑھا ہے۔ ایسے واقعات ملک بھر میں رونما ہورہے ہیں مگر نفرت پر مبنی ان جرائم کا کوئی مبسوط اور جامع نظم تھا جس سے ایک نظر میں ان کی تفصیل ظاہر ہو۔ ہر چند کہ سرکاری ادارے مثلاً نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو موجود ہے مگر اس کے ہاں بھی نفرت پر مبنی جرائم کو علاحدہ سے پیش نہیں کیا جاتا۔ یہ ٹریکر جرائم کے اس مخصوص رجحان کو ریکارڈ کرکے پیش کرسکے گا۔

یہ بھی پڑھئے: کیرالا میں وزیر اعلیٰ کا انتخاب کانگریس کیلئے دردِ سر

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اے پی سی آر اس نوعیت کے واقعات کی تفصیل اپنی سہ ماہی اور سالانہ رپورٹوں میں یکجا کررہا تھا لہٰذا ٹریکر پر ۲۰۲۴ء سے ۲۰۲۶ء تک کی تفصیل موجود ہے مگر طویل مدتی ٹریکنگ کو بنیاد بنا کر ۲۰۱۴ء کے بعد کے واقعات کو بھی یکجا کرلیا گیا ہے جنہیں آئندہ چند ہفتوں میں مرحلہ وار طریقے سے ٹریکر پر پوسٹ کیا جائیگا۔ ۲۰۱۴ء کے بعد رونما ہونے والے واقعات کا جو ڈیٹا اے پی سی آر کے پاس ہے اس کے مطابق گزشتہ ۱۲؍ سال میں مذہب کی بنیاد پر ۳۵۷۶؍ واقعات رونما ہوئے جن میں جسمانی طور پر حملے (۷۴۷؍ واقعات) اور املاک پر حملے (۳۷۶؍ واقعات) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مذہبی شناخت معلوم ہونے پر رونما ہونے والے واقعات (۹۰۸)، نان ویج غذا کی فروخت یا استعمال کی بنیاد پر ہوئے واقعات (۵۴۷) اور تہواروں کے موقع پر ہونے والے واقعات (۱۶۶) ہیں۔ اس ٹریکر کے اجراء کے موقع پر مشہور وکلاء، ممتاز سماجی کارکنان اور سرکردہ شخصیات نے شرکت کی جنہوں نے اپنے خطاب کے دوران بتایا کہ ایسے ٹریکر کی ضرورت تھی تاکہ ہیٹ کرائم کو باقاعدہ ڈاکیومنٹ کیا جائے۔ آر جے ڈی کے رکن پارلیمان منوج جھا نے ادارہ جاتی ملی بھگت پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ سماج میں نفرت کافی حد تک گھل مل گئی ہے۔ مشہور سماجی کارکن ہرش مندر نے آزادانہ طور پر تیار کی گئی دستاویزات کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ سرکاری میکانزم پر بھروسہ کرکے خاموش بیٹھ جانا مسئلہ کا حل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے ٹریکر کے اجراء کا خیرمقدم کیا اور سول سوسائٹی کے مزید حلقوں کے ذریعہ ایسے اقدام کی اُمید ظاہر کی۔ اجراء کی تقریب میں پرشانت بھوشن، سینئر صحافی قربان علی، پروفیسر اپوروانند، رکن پارلیمان سنجے سنگھ، شیجو تھامس ، شازین صدیقی اور ایڈوکیٹ فواز شاہین موجود تھے۔ ہیٹ کرائم ڈیٹا اے پی سی آر کی آفیشنل ویب سائٹ (اے پی سی آر انڈیا ڈاٹ اِن) پر بھی موجود ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK