وزارتِ تجارت و صنعت کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی) نے نئی نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے سلور بارز سمیت چاندی کی کئی اقسام کی درآمد کو ’فری‘ سے تبدیل کرکے ’ریسٹرکٹڈ‘ زمرے میں شامل کر دیا ہے۔
EPAPER
Updated: May 17, 2026, 5:02 PM IST | New Delhi
وزارتِ تجارت و صنعت کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی) نے نئی نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے سلور بارز سمیت چاندی کی کئی اقسام کی درآمد کو ’فری‘ سے تبدیل کرکے ’ریسٹرکٹڈ‘ زمرے میں شامل کر دیا ہے۔
مرکزی حکومت نے چاندی کی درآمد کے حوالے سے ہفتہ کو ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ وزارتِ تجارت و صنعت کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی) نے نئی نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے سلور بارز سمیت چاندی کی کئی اقسام کی درآمد کو ’فری‘ سے تبدیل کرکے ’ریسٹرکٹڈ‘ زمرے میں شامل کر دیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب ان اشیاء کی درآمد کے لیے سرکاری منظوری لینا لازمی ہوگا۔
ڈی جی ایف ٹی کی نوٹیفکیشن نمبر۱۷/۲۷۔۲۰۲۶۲ء کے مطابق آئی ٹی سی (ایچ ایس) کوڈ۷۱۰۶۹۲۲۱؍ اور۷۱۰۶۹۲۲۹؍کے تحت آنے والی سلور بارز پر نئی شرائط نافذ کی گئی ہیں۔ پہلے ان کی درآمد ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے قواعد کے تحت ’فری‘ زمرے میں کی جا سکتی تھی، لیکن اب انہیں ’ریسٹرکٹڈ‘ زمرے میں رکھا گیا ہے۔
حکومت نے صرف سلور بارز ہی نہیں بلکہ بغیر ڈھلی ہوئی چاندی (خام چاندی)، نیم تیار شدہ چاندی (سیمی مینوفیکچرڈ سلور) اور چاندی کے پاؤڈر جیسے مصنوعات کی درآمد پر بھی سختی بڑھا دی ہے۔ اب ان زمروں میں درآمد کے لیے متعلقہ سرکاری اجازت ضروری ہوگی۔
کچھ معاملات میں درآمد کو آر بی آئی کی ہدایات کے تابع بھی رکھا گیا ہے۔ یہ تبدیلی آئی ٹی سی (ایچ ایس) درجہ بندی کے تحت درآمدی پالیسی شیڈول میں ترمیم کرکے کی گئی ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک کا قیمتی دھاتوں کا درآمدی بل مسلسل بڑھ رہا ہے۔ مرکزی حکومت سونا اور چاندی کی درآمد پر نگرانی بڑھا کر زرمبادلہ پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنا چاہتی ہے۔
اس سے پہلے حکومت سونا اور چاندی پر درآمدی ڈیوٹی ۶؍ فیصد سے بڑھا کر ۱۵؍ فیصد کر چکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، جیمز و جیولری برآمد کنندگان کے لیے ایڈوانس آتھرائزیشن (اے اے) اسکیم کے تحت ڈیوٹی فری گولڈ امپورٹ کے قوانین بھی سخت کیے گئے ۔حکومت نے نئے قوانین کے تحت ایڈوانس آتھرائزیشن اسکیم میں فی لائسنس زیادہ سے زیادہ ۱۰۰؍ کلوگرام سونے کی درآمد کی حد مقرر کر دی ہے۔ پہلی بار درخواست دینے والی کمپنیوں کے لیے مینوفیکچرنگ یونٹس کا فزیکل معائنہ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’کمال مولیٰ مسجد پر ہائی کورٹ کا فیصلہ تاریخی حقائق کے خلاف‘
اس کے علاوہ، پرانے لائسنس کے تحت کم از کم ۵۰؍ فیصد برآمدی ذمہ داری پوری کرنے کے بعد ہی نئی اجازت دی جائے گی۔ ڈیوٹی فری گولڈ درآمد کرنے والے برآمد کنندگان کو اب ہر ۱۵؍ دن میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سے تصدیق شدہ درآمد و برآمد رپورٹ بھی جمع کرانی ہوگی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال ۲۶۔۲۰۲۵ء میں ہندوستان کی سونے کی درآمد ۲۴؍ فیصد سے زیادہ بڑھ کر ریکارڈ ۹۸ء۷۱؍ ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ اگرچہ درآمدی مقدار کم رہی، لیکن بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کے باعث مجموعی درآمدی بل بڑھ گیا۔ ہندوستان میں سب سے زیادہ سونا سوئزرلینڈ سے درآمد کیا گیا، جبکہ یو اے ای اور جنوبی افریقہ دوسرے اور تیسرے بڑے ذرائع رہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’ایسا ہے تو میں استعفیٰ دینے کیلئے تیار ہوں‘‘
آل انڈیا جیمز اینڈ جیولری ڈومیسٹک کونسل (جی جے سی) سمیت کئی صنعتی تنظیموں نے حکومت کے اس اقدام پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ درآمدی ڈیوٹی اور سخت پابندیوں سے گرے مارکیٹ سرگرمیوں اور اسمگلنگ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔تاہم حکومت کا ماننا ہے کہ ان اقدامات سے قیمتی دھاتوں کی درآمد پر بہتر کنٹرول ہوگا اور ملک کے بڑھتے ہوئے درآمدی بل کو متوازن کرنے میں مدد ملے گی۔