منوج جرنگے کے بھوک ہڑتال کے اعلان سے سیاسی حلقوں میں کھلبلی۔
EPAPER
Updated: May 17, 2026, 10:28 AM IST | Ahmednagar
منوج جرنگے کے بھوک ہڑتال کے اعلان سے سیاسی حلقوں میں کھلبلی۔
مراٹھا سماجی کارکن منوج جرنگے کے ۳۰؍ مئی سے بھوک ہڑتال شروع کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی مہاراشٹر کی سیاست میں پھر ایک بار ہلچل مچ گئی ہے۔ وزیر رادھا کرشن وکھے پاٹل جو کہ مراٹھا ریزرویشن کیلئے قائم کی گئی ذیلی کمیٹی کے چیئرمین ہیں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کی پیش کش کی ہے۔ یاد رہے کہ منوج جرنگے نے گزشتہ مرتبہ احتجاج کے وقت وکھے پاٹل کو بھی نشانہ بنایا تھا۔
منوج جرنگے نے سنیچر کو اعلان کیا کہ وہ ۳۰؍ مئی سے بھوک ہڑتال شروع کریں گے جو مرتے دم تک جاری رہے گی۔ میڈیا میں ان کا اعلان سرخیوں میں آتے ہی وزیر رادھا کرشن وکھے پاٹل نے اس پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر میرے استعفیٰ سے منوج جرنگے کو تسلی ہوتی ہے تو میں ذیلی کمیٹی کے چیئرمین کی کرسی سے چپک کر بیٹھنے کے بجائے استعفیٰ دینا پسند کروں گا۔‘‘ انہوں نے حکومت کی طرف سے کئے گئے اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ’’ ابھی تک ہم نے مراٹھا ریزرویشن کے تعلق سے جو بھی فیصلہ کیا ہے اس پر کسی بھی عدالت نے روک نہیں لگائی ہے۔ ہم ان مراٹھا مظاہرین کے بچوں کو ملازمت دینے کی کوشش کر رہے ہیں جن کی احتجاج کے دوران موت ہو گئی تھی۔‘‘وکھے پاٹل نے بتایا کہ ’’ ہم انہیں ایس ٹی کارپوریشن میں نوکری دینے کیلئے تیار تھے، لیکن انہوں نے قبول نہیں کیا، اب ہم انہیں مہاوترن اور ایم آئی ڈی سی میں نوکری دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امتحانی ادارہ یہ ضمانت کب دیگا کہ اب پرچہ لیک نہیں ہوگا؟
ریاستی وزیر نے واضح کیا کہ ’’ جی آر کے مطابق کنبی سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کا کام جاری ہے اب مقامی رکن اسمبلی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کام میں تیزی لائے۔ حکومت نے اس میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ یہ بات درست ہے کہ ستارا گزٹ کو ابھی نافذ نہیں کیا گیا ہے لیکن اس کے تعلق سے کام جاری ہے۔ میں خود منوج جرنگے سے ملاقات کرکے انہیں اب تک کئے گئےکاموں کی ساری تفصیلات فراہم کروں گا ۔اگر کوئی غلط فہمی ہوگی تو اسے دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔‘‘ انہوں نے کہا ہم جتنے بھی وعدے کئے تو ان میں سے ہر ایک کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔