• Sat, 07 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۵؍ سال میں ۱۸؍ ہزار ۷۲۷؍ سرکاری اسکول بند، پرائیویٹ اسکولوں میں اضافہ: حکومت

Updated: February 06, 2026, 9:59 PM IST | New Delhi

حکومت ہند کے تعلیمی اعداد وشمار کے مطابق ملک میں گزشتہ ۵؍ سال میں ۱۸؍ ہزار ۷۲۷؍ سرکاری اسکول بند ہوئے، جبکہ پرائیویٹ غیر امدادی اسکولوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، وزیر مملکت برائے تعلیم نے کہا کہ اسکول کھولنے، بند کرنے اور ان کی تنظیم نو کے فیصلے ریاستی حکومتوں اور یونین علاقہ کی انتظامیہ کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

حکومت ہند کے تعلیمی اعدادوشمار کے مطابق، ملک میں گذشتہ پانچ سالوں میں   ۱۸؍ ہزار ۷۲۷؍ سرکاری اسکول بند ہوئے ہیں جبکہ نجی غیر امدادی (پرائیویٹ اَن ایڈیڈ) اسکولوں میں صرف ایک سال کے دوران۸؍ ہزار ۴۷۵؍ کا اضافہ ہوا ہے۔یہ اعداد و شمار وزارت تعلیم نے راجیہ سبھا میں جمع کرائے گئے ایک غیر منتخب سوال (نمبر۵۳۳؍) کے جواب میں پیش کیے، جو۴؍ فروری۲۰۲۶ء کو راجیہ سبھا رکن جان بریتاس نے پیش کیا تھا۔ بریتاس نے وزارت تعلیم سے ملک میں موجودہ طور پر فعال سرکاری و نجی اسکولوں کی کل تعداد، ریاست وار اعدادوشمار، گذشتہ پانچ سالوں میں بند ہونے والے سرکاری اسکولوں کی تعداد، اسی عرصے میں کھلنے والے نجی اسکولوں کی تعداد اور سرکاری اسکولوں کے بند ہوتے وقت طلبہ کے اندراج (بشمول زیرو انرولمنٹ اسکول) کے اعداد و شمار فراہم کرنے کو کہا تھا۔تاہم حکومت کی طرف سے جواب دیتے ہوئے، وزیر مملکت برائے تعلیم جے انت چودھری نے کہا کہ اسکول کھولنے، بند کرنے اور ان کی تنظیم نو کے فیصلے ریاستی حکومتوں اور یونین علاقہ کی انتظامیہ کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: متھرا: نماز کے الزام میں معطل کئے گئے ٹیچر کو گاؤں کی حمایت

پورے ہندوستان میں، سرکاری اسکولوں کی تعداد میں۲۰۲۰-۲۱ء کے۱۰۳۲۰۱۹؍ سے مستقل کمی ہوتی ہوئی۲۰۲۴-۲۵ء میں ۱۰۱۳۳۲۲؍ رہ گئی ہے، جو پانچ سالوں میں تقریباً۱۸۷۰۰؍ اسکولوں کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔اسی عرصے میں، نجی غیر امدادی اسکولوں کی تعداد میں۲۰۲۰-۲۱ء کے ۳۴۰۷۵۳؍سے کم ہو کر۲۰۲۲-۲۳ء میں  ۳۲۵۴۳۰؍ہوگئی، حالانکہ یہ تعداد میں کچھ بہتر ہو کر  ۳۳۹۹۸۳؍ ہو گئی ہے، تاہم یہ اب بھی۲۰۲۱ء سے پہلے کے اعداد سے کچھ کم ہے۔ جبکہ مدھیہ پردیش میں نجی غیر امدادی اسکولوں میں سب سے زیادہ کمی درج کی گئی، جو۲۰۲۰-۲۱ء کے تقریباً ۳۱۵۱۷؍سے گر کر۲۰۲۴-۲۵ء میں تقریباً۲۵۲۱۲؍ رہ گئے، اس طرح نجی اسکولوں کے بند ہونے کے معاملے میں یہ ریاست سب سے آگے ہے۔عوامی تعلیم کے میدان میں بہار ایک نایاب استثنیٰ کے طور پر سامنے آیا، جہاں زیادہ تر دیگر ریاستوں میں کمی کے باوجود، سرکاری اسکولوں کی تعداد ۲۰۲۰-۲۱ء کے۷۵۵۵۵؍ سے بڑھ کر۲۰۲۴-۲۵ء میں تقریباً۷۶۵۲۰؍ ہو گئی۔

یہ بھی پڑھئے: غازی آباد واقعہ کے بعد گیم کی لت موضوع بحث

بعد ازاں جے انت چودھری نے یونیفائیڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن پلس (یو ڈائس) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا، جس میں۲۰۲۰-۲۱ء سے ۲۰۲۴-۲۵ء تک سرکاری و نجی اسکولوں کے ریاست و یونین علاقہ وار اعداد شامل ہیں۔اگرچہ مرکز نے عملی ذمہ داری ریاستوں پر ڈالی ہے، اعداد و شمار ایک وسیع تر قومی رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں عوامی تعلیمی ڈھانچہ سکڑ رہا ہے جبکہ نجی غیر امدادی اداروں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔تاہم ہزاروں سرکاری اسکولوں کے بند ہونے سے سستی تعلیم تک رسائی، خاص طور پر دیہی اور معاشی طور پر کمزور علاقوں میں، کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے، جبکہ نجی اسکولوں میں اضافے سے اسکول کے شعبے میں پرائیویٹائزیشن کی طرف تیز منتقلی کا اشارہ ملتا ہے۔
جان بريتاس نے کہا، ’’عوامی تعلیم سکڑ رہی ہے۔ نجی اسکول پھیل رہے ہیں۔‘‘صحافی اوما سدھیر نے کہا، ’’ہندوستان ایسا ملک ہے جسے اب بھی سب سے زیادہ تعداد میں سرکاری اسکولوں اوراسپتالوں کی ضرورت ہے۔ حکومت کو یہ جگہ نجی اداروں کے حوالے نہیں کرنی چاہیے۔ اگر ملک واقعی آبادیاتی تقسیم (ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ) کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو اسے برابر مواقع پیدا کرنے اور اپنے سب سے کمزور طبقات کو بااختیار بنانے کی ضرورت ہے۔‘‘ پروفیسر سبھاجیت نسکر نے نشاندہی کی کہ معاشرتی تنوع کم ہو رہا ہے، جبکہ اعلیٰ ذات کی بالادستی بڑھ رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK