Updated: October 28, 2026, 3:06 PM IST
| Dubai
فلائی دبئی کے کپتان سمت مچھار اور عملے کو دورانِ پرواز دہشت گردی کے سنگین واقعے میں مسافروں کی جان بچانے اور غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرنے پر متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ اعزاز سے نوازا گیا۔ طیارے کو تباہ کرنے کی مبینہ کوشش کے دوران زخمی ہونے کے باوجود کپتان نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں طیارہ بحفاظت لینڈ کرگیا اور تمام۱۷۲؍ مسافر محفوظ رہے۔
دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد آل مکتوم، سمت مچھار کو اعزاز سے نوازتے ہوئے۔ تصویر: ایکس
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے منگل کو فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 کے کپتان سمت مچھار اور طیارے کے عملے کو دورانِ پرواز دہشت گردی کے ایک سنگین واقعے کے دوران ان کی بہادری اور مسافروں کی حفاظت کیلئے کی جانے والی کوششوں کے اعتراف میں فرسٹ کلاس آرڈر آف زاید دوم سے نوازا۔ یہ اعزاز دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد آل مکتوم نے پیش کیا۔ شیخ محمد بن زاید نے منگل ہی کو عملے کے ارکان سے ملاقات بھی کی۔ اس موقع پر متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمراں شیخ محمد بن راشد آل مکتوم بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھئے: الخلیل: اسرائیلی کارروائی میں بے گھر فلسطینیوں کیلئے شہریوں نے گھر کھول دیئے
پرواز FZ1073 میں کیا ہوا تھا؟
۳۰؍ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز کو کاک پٹ میں پیش آنے والے ایک سنگین واقعے کے بعد سعودی عرب کے شہر تبوک کی جانب موڑ دیا گیا تھا۔ اس واقعے میں کپتان سمت مچھار زخمی ہوگئے تھے، جبکہ طیارے کے عملے، ڈیوٹی پر موجود نہ ہونے والے پائلٹوں اور مسافروں نے صورتِ حال پر قابو پانے میں مدد کی۔ طیارے نے بحفاظت لینڈنگ کی اور اطلاع کے مطابق تمام۱۷۲؍ مسافر اور عملے کے ارکان محفوظ رہے۔ سمت مچھار نے کاک پٹ کا دروازہ کھول دیا، جس سے مسافروں اور ڈیوٹی سے فارغ عملے کے ارکان کو اندر داخل ہوکر معاون پائلٹ کو قابو کرنے کا موقع ملا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ طیارے کو تباہ کرنے کی کوشش کے تحت کپتان پر کلہاڑی سے حملہ کیا گیا تھا۔ اس دوران طیارے سے ہائی جیکنگ کی ہنگامی اطلاع بھی بھیجی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: اسرائیلی حملے میں فلسطینیوں کے خیمے جل کر خاکستر، ۸۰۰؍ سے زائد بے آسرا
’’انسانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح‘‘
ملاقات کے دوران متحدہ عرب امارات کی قیادت نے عملے کی بہادری، اس کے کردار اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئےدکھائی گئی ذمہ داری کی اعلیٰ سطح کو سراہا۔ لیڈروں نے زور دیا کہ انسانی جانوں کی حفاظت اور سلامتی متحدہ عرب امارات کی اولین ترجیح اور بنیادی قدر ہے۔ سمت مچھارجب اپنے زخموں کا علاج کروا رہے تھے تو شیخ حمدان نے ان کی عیادت کی اور ان کی بہادری، احساسِ ذمہ داری اور انسانی جانوں کے تحفظ کے عزم کی تعریف کی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں شیخ حمدان نے کہا کہ پائلٹ نے ’’بہادری، ذمہ داری اور انسانی جانوں کے احترام کی اعلیٰ ترین مثال پیش کی۔ ‘‘ انہوں نے مزید لکھا، ’’ہمیں فخر ہے کہ وہ ہماری ٹیم کا حصہ ہیں، ہماری قوم کی کہانی کا حصہ ہیں۔ ‘‘انہوں نے کہا کہ سمت مچھار اس بات کی بھی علامت ہیں کہ متحدہ عرب امارات کن اقدار کی نمائندگی کرتا ہے؛ ایک ایسی قوم جو ہمدردی، امن اور زندگی کے احترام پر یقین رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اہلِ غزہ نیتن یاہو کی برطرفی کے خواہاں، مگر اسرائیلی انتخابات سے کسی ”نئے آغاز“ کی امید نہیں
’’مجھے خوشی ہے کہ میں اپنا فرض ادا کرسکا‘‘
اس سے قبل سمت مچھار نے متحدہ عرب امارات کے سرکاری اخبار دی نیشنل کو انٹرویو دیتے ہوئے حملے کی تفصیلات بیان کی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب پہلی مرتبہ ان پر وار کیا گیا تو انہیں لگا کہ طیارے کے ڈھانچے میں کوئی سنگین خرابی پیدا ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگلے چند سیکنڈ میں جب مسلسل وار ہونے لگے تو مجھے احساس ہوا کہ حملہ کرنے والا وہ شخص ہے جس کے بارے میں میرا خیال تھا کہ اسے ہماری ٹیم کا حصہ ہونا چاہئے تھا۔ ‘‘کپتان نے اپنی سیٹ کی پیٹیوں سے خود کو آزاد کرنے اور وار روکنے کی کوشش کی۔ حملہ ان کے سر پر کیا جا رہا تھا۔ ان کی بینائی دھیرے دھیرے دھندلانے لگی، یہاں تک کہ انہیں صرف چیزوں کے دھندلے خدوخال دکھائی دینے لگے۔ انہوں نے بتایا، ’’فوراً میرا ہاتھ اس نوب کی طرف گیا جس سے دروازہ کھلتا ہے۔ میں اپنے ساتھیوں کو مددکیلئے پکار رہا تھا۔ ‘‘ اس کے بعد وہ بے ہوش ہوگئے اور کاک پٹ میں منہ کے بل گر پڑے۔ طیارہ جب۱۷؍ ہزار فٹ نیچے کی جانب آیا تو ان کے بقول، ’’سب سے خوف ناک چیز جو میں نے سنی اور محسوس کی، وہ انجنوں کی رفتار کم ہونے کی آواز تھی۔ ‘‘جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس واقعے کے بعد پرواز سے ان کی محبت میں کوئی کمی آئی ہے تو انہوں نے جواب دیا، ’’بالکل نہیں، بالکل نہیں۔ مجھے بس اس بات کی خوشی ہے کہ میں اپنا فرض ادا کرنے میں کامیاب رہا۔ ‘‘