Updated: August 31, 2026, 10:02 PM IST
| Athens / Tel Aviv
یونان نے اسرائیل سے تقریباً ۶ء۳؍ ارب ڈالر مالیت کے تین جدید فضائی دفاعی نظام خریدنے کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی جانب پیش رفت کی ہے۔ تقریباً تین سال تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد ایتھنز ڈیوڈز سلنگ، اسپائیڈر اور باراک ایم ایکس نظام اپنے مجوزہ کثیر سطحی فضائی دفاعی نیٹ ورک ’’ایکیلیز شیلڈ‘‘ میں شامل کرے گا۔ یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ جنگ پر اسرائیل کو عالمی سطح پر شدید تنقید اور قانونی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ متعدد مغربی ممالک نے اسرائیل کو اسلحہ فراہمی محدود کرنے کے اقدامات کیے ہیں۔
یونانی اور اسرائیلی وفد معاہدہ کرتے ہوئے۔ تصویر: ایکس
یونان نے اسرائیل سے تقریباً ۶ء۳؍ ارب ڈالر مالیت کے تین جدید فضائی دفاعی نظام خریدنے کے معاہدے کی جانب پیش رفت کی ہے۔ اسرائیلی اور یونانی میڈیا کے مطابق، خطے میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں پر عالمی سطح پر شدید مذمت کے باوجود ایتھنز اس بڑے دفاعی معاہدے کو حتمی شکل دینے جا رہا ہے۔ ’دی یروشلم پوسٹ‘ کے مطابق یونانی وفد تقریباً تین سال تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد تل ابیب میں اسرائیلی وزارتِ دفاع کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرے گا۔ معاہدے میں اسرائیل کے ڈیوڈز سلنگ (David’s Sling)، اسپائیڈر (Spyder) اور باراک ایم ایکس (Barak MX) فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔ ان تینوں نظاموں کو یونان کے مجوزہ کثیر سطحی فضائی دفاعی نیٹ ورک ’’ایکیلیز شیلڈ‘‘ (Achilles Shield) میں شامل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: نیپال: سیلاب کے سبب سرنگ میں بڑی تعداد میں کارکن پھنس گئے
اسرائیلی کمپنیوں کو بڑا ٹھیکہ
اسرائیلی دفاعی کمپنی رافیل (Rafael) کو معاہدے کا سب سے بڑا حصہ ملنے کی توقع ہے۔ کمپنی ڈیوڈز سلنگ نظام فراہم کرے گی، جو بیلسٹک اور بھاری میزائلوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈرونز اور دیگر فضائی اہداف سے نمٹنے کے لیے موبائل اسپائیڈر نظام بھی فراہم کیے جائیں گے۔ اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز (IAI) یونان کو باراک ایم ایکس نظام فراہم کرے گی، جو طیاروں اور میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مصنوعی ذہانت سے لیس کمانڈ نیٹ ورک
منصوبے میں ملک گیر مصنوعی ذہانت سے لیس کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک بھی شامل ہوگا۔ یہ نظام مختلف سینسرز اور ریڈارز کو آپس میں منسلک کرکے خطرات کی درجہ بندی اور ان کے خلاف دفاعی کارروائیوں میں مدد دے گا۔ اسپائیڈر فضائی دفاعی بیٹریاں یونان کے مختلف جزیروں میں تعینات کیے جانے کی توقع ہے۔ یونانی دفاعی کمپنیوں کو اس منصوبے میں تقریباً ۸۲؍ کروڑ ڈالر مالیت کے ذیلی ٹھیکے ملنے کا امکان ہے۔ اسرائیلی مالیاتی اخبار کالکالسٹ کے مطابق پورا منصوبہ تقریباً ۳۵؍ ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔
ایتھنز کی جانب سے ملکی صنعت کی شمولیت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور خودکار دیکھ بھال کے لیے سافٹ ویئر کے سورس کوڈز تک رسائی کا مطالبہ کیے جانے کے بعد تقریباً ۱۲؍ یونانی کمپنیاں منصوبے میں شامل ہوں گی۔ یہ کمپنیاں منصوبے کی کم از کم ۲۵؍ فیصد سرگرمیوں میں حصہ لیں گی۔ یونانی اخبار کاتھیمیرینی نے بھی تصدیق کی ہے کہ معاہدے پر پیر کے روز دستخط متوقع ہیں۔ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ اسرائیل کا اب تک کا سب سے بڑا دفاعی برآمدی سودا بن جائے گا اور ۲۰۲۳ء میں جرمنی کو ۵ء۳؍ ارب ڈالر کے ایرو ۳؍ میزائل دفاعی نظام کی فروخت سے بھی آگے نکل جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز ہنوز بند، ایران نے کہا اجازت کے بغیر آمدورفت ناممکن
غزہ جنگ کے دوران معاہدہ
یونان کی جانب سے یہ خریداری ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے باعث اسے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی، بین الاقوامی قانونی جانچ پڑتال اور شدید مذمت کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی غزہ میں جنگ کے نتیجے میں ۷۳؍ ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ یونان کا یہ دفاعی سودا ایسے وقت میں عالمی اسلحہ تجارت میں بڑھتی ہوئی تقسیم کے درمیان سامنے آیا ہے جب متعدد مغربی ممالک نے غزہ جنگ کے باعث اسرائیل کو فوجی سازوسامان کی فروخت محدود کرنے کے اقدامات کیے ہیں۔
برطانیہ نے بین الاقوامی انسانی قانون سے متعلق خدشات کے پیش نظر ۳۰؍ اسلحہ برآمدی لائسنس معطل کیے ہیں۔ اٹلی اور اسپین نے بھی ۷؍ اکتوبر کے بعد نئے ہتھیاروں کے معاہدے روک دیے، جبکہ اسپین نے ہتھیار لے جانے والے بحری جہازوں کو اپنی بندرگاہوں میں داخلے سے روکنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ کنیڈا اور بلجیم نے بھی مستقبل میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی محدود یا روکنے کے اقدامات کیے ہیں، جبکہ نیدرلینڈز کی ایک عدالت نے ایف-۳۵؍ طیاروں کے پرزوں کی براہِ راست برآمد روکنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے باوجود یونان کا اسرائیل کے ساتھ اربوں ڈالر کا یہ دفاعی معاہدہ آگے بڑھنا ایتھنز کی دفاعی ترجیحات اور اسرائیل کے ساتھ اس کے فوجی تعاون کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔