• Tue, 22 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گجرات: مودی اور امیت شاہ کے پتلے جلانے پر ۲۱؍ کسانوں پر مقدمہ

Updated: September 22, 2026, 7:07 PM IST | Ahmedabad

گجرات کے ضلع موربی کے جیٹ پر گاؤں میں ۱۷؍ ستمبر کو احتجاج کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے پتلے جلانے کے الزام میں ۲۱؍ کسانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ کسان گزشتہ کئی ماہ سے اڈانی انرجی سولیوشنز سے وابستہ بجلی ٹرانسمیشن پروجیکٹ کے تحت زرعی زمینوں سے ہائی ٹینشن بجلی کی لائنیں گزارنے اور ٹاور نصب کرنے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ پولیس نے مقدمے میں غیر قانونی اجتماع، مجرمانہ سازش، راستہ روکنے، سرکاری احکامات کی خلاف ورزی اور آتش گیر مادے کے استعمال سمیت بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات عائد کی ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

گجرات کے ضلع موربی کے جیٹ پر گاؤں میں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے پتلے جلانے کے الزام میں ۲۱؍ کسانوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ ۱۷؍ ستمبر کو مودی کی سالگرہ کے موقع پر ہونے والے احتجاج کے دوران پیش آیا۔ پولیس نے ۱۸؍ ستمبر کو ایف آئی آر درج کی۔ کسان گزشتہ کئی ماہ سے اڈانی گروپ سے وابستہ بجلی ٹرانسمیشن پروجیکٹ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ پولیس شکایت کے مطابق موربی تعلقہ پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر نلیش ایس گھیٹیا کی شکایت پر درج ایف آئی آر میں ۲۱؍ نامزد افراد کے علاوہ نامعلوم افراد کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔ پولیس کا الزام ہے کہ جیٹ پر گاؤں میں احتجاج کے دوران مودی اور امیت شاہ کے پتلے جلائے گئے، سڑک پر آتش گیر مادہ استعمال کیا گیا اور ایسا اجتماع کیا گیا جس سے آمدورفت متاثر ہوئی اور علاقے میں خوف کا ماحول پیدا ہوا۔ 

پولیس نے ایف آئی آر میں مجرمانہ سازش، غیر قانونی اجتماع، راستہ روکنے، سرکاری احکامات کی خلاف ورزی، آتش گیر مادے کے استعمال اور عوامی امن و امان متاثر کرنے سے متعلق بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات عائد کی ہیں۔ پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران احتجاج میں شامل دیگر افراد کی بھی شناخت کی جا رہی ہے۔ کئی ماہ سے بجلی ٹرانسمیشن لائنوں کی مخالفت: جیٹ پر اور آس پاس کے علاقوں کے کسان گزشتہ کئی ماہ سے زرعی زمینوں سے ہائی ٹینشن بجلی کی ٹرانسمیشن لائنیں گزارنے اور ٹاور نصب کرنے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ پروجیکٹ ہلواد ٹرانسمیشن لمیٹڈ سے متعلق ہے، جو اڈانی انرجی سولیوشنز لمیٹڈ کے لیے قائم خصوصی مقصد کی کمپنی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ بجلی کے ٹاور اور لائنیں ان کی زرعی زمینوں کے استعمال اور کاشت کاری کو متاثر کر سکتی ہیں۔ 

کسانوں کی بنیادی مانگ مناسب معاوضے سے متعلق ہے۔ احتجاج کرنے والے کسانوں کے مطابق ٹرانسمیشن لائنوں اور ٹاوروں کی وجہ سے ان کی زمین کی زرعی افادیت متاثر ہوگی، اس لیے انہیں زمین کے استعمال اور ممکنہ نقصانات کے بدلے زیادہ معاوضہ دیا جانا چاہئے۔ اس معاملے پر جیٹ پر میں کسانوں نے جون میں بھوک ہڑتال بھی شروع کی تھی، جو تقریباً ۲؍ ہفتے تک جاری رہی۔

یہ بھی پڑھئے: وندے ماترم کے تمام ۶؍ بند نہ گانے پر مجرمانہ کارروائی نہیں ہونی چاہئے: سپریم کورٹ

کسان لیڈر کا ردعمل

 کسان تحریک کے نمایاں لیڈر نہول امرتیہ نے پولیس کارروائی پر اعتراض کرتے ہوئے ایف آئی آر کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ’دی وائر‘ کے مطابق انہوں نے کہا کہ کسان اس کارروائی کا مناسب جواب دیں گے اور قانونی لڑائی کو سپریم کورٹ تک لے جانے کا عزم ظاہر کیا۔ رپورٹس کے مطابق جیٹ پر اور موربی کے دیگر علاقوں میں کسانوں کا احتجاج محض پتلا جلانے کے واقعے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کی بنیادی وجہ زرعی زمینوں سے بجلی کی ہائی ٹینشن لائنیں گزارنے، ٹاور نصب کرنے اور اس کے بدلے معاوضے سے متعلق مطالبات ہیں۔ پولیس کی ایف آئی آر میں احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعات اور مختلف قانونی دفعات کے تحت الزامات درج کیے گئے ہیں، جبکہ کسان رہنماؤں نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔ مقدمے میں عائد الزامات کی قانونی حیثیت اور احتجاج میں نامزد افراد کا کردار تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے دوران طے ہوگا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK