Inquilab Logo Happiest Places to Work

گجرات ہائی کورٹ نے مُندرا میں مسلم عبادت گاہوں کے انہدام پر روک لگادی

Updated: August 08, 2026, 11:21 AM IST | Bhuj

’مسلم یوا کور کمیٹی‘ کے ساتھ اے پی سی آر کی کامیاب پیروی، عدالت نے اس دلیل کو تسلیم کیا کہ محض ۵؍ دن کا نوٹس من مانی ہے، ۹۰؍ دن کا وقت ملنا چاہئے۔

Gujarat High Court - Photo: INN
گجرات ہائی کورٹ ۔ تصویر: آئی این این

گجرات کے بندرگاہی شہر مندرا میں واقع  چار مسلم عبادتگاہوں کو ۵؍ دن کا نوٹس دیکر جبری بلڈوزر کارروائی پر گجرات ہائی کورٹ نے روک لگادی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ درخواست گزاروں کو قانونی طور پر اپیل  کا بنیادی حق حاصل ہے۔ لہٰذا اپیل کے لیے مقررہ مدت ختم ہونے یا مجاز اپیلیٹ اتھاریٹی کی جانب سے حتمی فیصلے تک کسی بھی قسم کی جبری کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

مندرا  کے معاملات دار نے  مذکورہ مذہبی مقامات کی تعمیرات کو رضاکارانہ طور پر ہٹانے کیلئے ۵؍  دن کی مختصر مہلت دی تھی ۔ متاثرہ فریقوں نے اس حکم کو قانون کی روح کے منافی قرار دیتے ہوئے گجرات ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ درخواست گزاروں کی جانب سے عدالت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایسے انتظامی احکامات کے خلاف اپیل دائر کرنے کیلئے  قانوناً۹۰؍دن کی مدت دستیاب ہوتی ہے، لیکن مندرا میں انتظامیہ نے صرف ۵؍دن کا وقت دیاہے جو فطری انصاف کی خلاف ورزی کی ہے۔ عدالت نے اس سے اتفاق کیا۔

اس معاملے  میں  اے پی سی آر متاثرہ مذہبی مقامات کی انتظامی کمیٹیوں کو قانونی معاونت فراہم کی اور کچھ کی مسلم یوا کور کمیٹی کے ساتھ مل کر گجرات ہائی کورٹ میں کامیاب قانونی پیروی کی۔ مندرا کے معاملات دارنے گجرات لینڈ ریونیو ایکٹ۱۸۷۹ء کی دفعہ۶۱؍ کے تحت  مذکورہ مذہبی مقامات کو نوٹس جاری کئے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: لکھنؤ کانپور ایکسپریس وے ۱۸؍ دن میں ۸۴؍ جگہوں پر دھنس گیا!

فریقین کے دلائل سننے کے بعد جسٹس انیرودھ پی مائے نے عبوری راحت فراہم کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزاروں کو قانون کے تحت اپیل کا حق استعمال کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔اے پی سی آر نے عدالتی حکم کو متاثرہ مذہبی مقامات کیلئے فوری راحت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتظامی کارروائی آئین، قانونی تحفظات اور مقررہ عدالتی طریقہ کار کے مطابق ہونی چاہیے۔تنظیم نے مسلم یوا کور کمیٹی، کَچھ کے تعاون کا بھی شکریہ ادا کیا، جس نے متاثرہ فریقوں سے رابطہ، دستاویزات کی تیاری اور عدالتی کارروائی کے دوران رابطہ کاری میں معاونت کی۔ واضح رہے کہ گزشتہ  کئی ماہ کے دوران  پورے کَچھ میں متعدد مسلم مذہبی مقامات، جن میں مساجد، درگاہیں اور دیگر عبادت گاہیں شامل ہیں، کے خلاف انہدام کی کارروائی اور دیگر انتظامی اقدامات کئے گئے ہیں۔  مذہبی مقامات کو جاری کئے گئے نوٹسوںکی بنا پر مقامی باشندوں میں وسیع پیمانے پر تشویش پائی جاتی ہے۔ قانونی لڑائی میں ملنےوالی عبوری کامیابی نے لوگوں کا اعتماد بحال کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK