Updated: May 26, 2026, 3:51 PM IST
| Haryana
ڈیرہ سچا سودا کے گرمیت سنگھ کو ۳۰؍ دن کی پیرول ملنے کے بعد منگل کو ایک بار پھر جیل سے رہا کر دیا گیا۔ ۲۰۱۷ء میں عصمت دری کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد یہ ۱۶؍ واں موقع ہے جب ڈیرہ سچا سودا سربراہ کو عارضی رہائی ملی ہے۔ پیرول کے دوران گرمیت کا قیام سرسا میں ڈیرہ ہیڈکوارٹرس میں ہوگا۔
گرمیت سنگھ۔ تصویر: آئی این این
گرمیت سنگھ کو ایک بار پھر ۳۰؍ دن کی پیرول پر جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، اگست ۲۰۱۷ء میں عصمت دری کے مقدمے میں سزا سنائے جانے کے بعد یہ ۱۶؍ واں موقع ہے جب ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ کو پیرول یا فرلو پر رہائی دی گئی ہے۔ رہائی کے بعد گرمیت سنگھ کا قیام سرسا ضلع میں واقع ڈیرہ سچا سودا کے ہیڈکوارٹرس میں قیاہوگا۔ حکام نے واضح کیا ہے گرمیت کو اپنے پیروکاروں کو ڈیرہ میں جمع کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، تاہم وہ آن لائن یا ورچوئل خطاب کرسکتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ پانچواں موقع ہے جب سزا کے بعد گرمیت کو سرسا ہیڈکوارٹرس جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس سے قبل پیرول یا فرلو کے دوران وہ زیادہ تر اتر پردیش کے باغپت میں واقع ڈیرہ آشرم میں مقیم رہا تھا۔
یہ بھی پڑھئے : بائیکاٹ کی بنا پر محمد دیپک کیلئے جم کا کرایہ ادا کرنا مشکل
سنگھ کو اس سے پہلے ۵؍ جنوری کو ۴۰؍ دن کی پیرول پر رہا کیا گیا تھا۔ اس سے قبل اگست ۲۰۲۵ء میں اپنی سالگرہ کے موقع پر بھی اسے ۴۰؍ دن کی پیرول ملی تھی۔ اپریل ۲۰۲۵ء میں سے ۲۱؍ دن کی فرلو دی گئی تھی جبکہ دہلی اسمبلی انتخابات سے قبل جنوری ۲۰۲۵ء میں بھی اسے ۳۰؍ دن کی پیرول دی گئی تھی۔ قانونی طور پر فرلو اور پیرول میں فرق موجود ہے۔ فرلو ایک قیدی کو مخصوص مدت جیل میں گزارنے کے بعد بغیر کسی ہنگامی وجہ کے دی جا سکتی ہے، جبکہ پیرول عام طور پر کسی فوری ضرورت یا مخصوص بنیاد پر منظور کی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ گرمیت سنگھ کو ۲۰۱۷ء میںاپنی دو خاتون شاگردوں کے ساتھ زیادتی کے مقدمے میں ۲۰؍ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ یہ مقدمہ ڈیرہ سچا سودا کے سرسا ہیڈکوارٹرس سے متعلق تھا۔ بعد ازاں ۲۰۲۱ء میں اسے اور چار دیگر افراد کو ڈیرہ کے سابق منیجر کے قتل کیس میں عمر قید کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔ تاہم پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے مئی ۲۰۲۴ء میں اس قتل کیس میں اسے بری کردیا تھا۔ فروری ۲۰۲۴ء میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے ہریانہ حکومت کو ہدایت دی تھی کہ عدالت کی اجازت کے بغیر سنگھ کو پیرول نہ دی جائے۔ یہ ہدایت اس وقت سامنے آئی تھی جب اسے ۲۴؍ ماہ میں ساتویں اور چار برسوں میں نویں مرتبہ پیرول پر رہا کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے : گرمی سے ملک جھلس رہا ہے، کئی ریاستوں میں پارہ ۴۵؍ ڈگری کے پار
بعد ازاں اگست ۲۰۲۴ء میں ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ سنگھ کی عارضی رہائی سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ ’’اچھے برتاؤ‘‘ کے مطابق کیا جائے اور اس میں ’’پسند و ناپسند یا من مانی‘‘ شامل نہ ہو۔ ہندوستان ٹائمز کے مطابق، تازہ ترین پیرول کے بعد سنگھ نے رواں کیلنڈر سال کے لیے قانون کے تحت دستیاب ۱۰؍ ہفتوں کی پیرول کا پورا حق استعمال کر لیا ہے۔ قانون کے مطابق قیدی ایک سال میں مجموعی طور پر ۱۰؍ ہفتے کی پیرول دو حصوں میں حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ اس کے علاوہ تین ہفتے تک کی فرلو بھی دی جا سکتی ہے۔ گرمیت سنگھ کی مسلسل پیرول اور فرلو پر رہائی کے متعلق سیاسی اور سماجی حلقوں میں پہلے بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں، خاص طور پر ایسے مواقع پر جب انتخابات قریب ہوں یا اہم سیاسی سرگرمیاں جاری ہوں۔