ہائی کورٹ کے حکم نامہ اور پولیس انتظامیہ کی کڑی کارروائی کے باوجود ناگپور میں ڈی جے کے خلاف خاموش مارچ نکالا گیا۔ شدید بارش کے دوران سیکڑوں شہری اور طبی ماہرین سڑکوں پر نکل آئے۔
EPAPER
Updated: September 14, 2026, 4:41 PM IST | Ali Imran | Nagpur
ہائی کورٹ کے حکم نامہ اور پولیس انتظامیہ کی کڑی کارروائی کے باوجود ناگپور میں ڈی جے کے خلاف خاموش مارچ نکالا گیا۔ شدید بارش کے دوران سیکڑوں شہری اور طبی ماہرین سڑکوں پر نکل آئے۔
ہائی کورٹ کے حکم نامہ اور پولیس انتظامیہ کی کڑی کارروائی کے باوجود ناگپور میں ڈی جے کے خلاف خاموش مارچ نکالا گیا۔ شدید بارش کے دوران سیکڑوں شہری اور طبی ماہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ اس مارچ کے ذریعے یہ واضح پیغام دیا گیا کہ انتظامیہ کی جانب سے ڈی جے کے حوالے سے جو قواعد وضع کئے گئے ہیں، ان پر سختی سے عمل کیا جائے اور اونچی آواز سے عام لوگوں کو ہونے والی پریشانیوں کو روکا جائے۔ بتادیں کہ ناگپور میں ڈی جے پر پابندی ہے ، اس کے باوجود قواعد کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ڈی جے بجایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’آئی فیٹ انڈیا‘میں میرابھائندرمیونسپل کارپوریشن کا صفائی کا سفرتوجہ کا مرکز رہا
تہواروں اورمختلف تقاریب میں ڈی جے بجانے اور ان قوانین کی خلاف ورزی سے ناراض ناگپور کے شہری اتوار کو سڑکوں پر نکل آئے اور شہر میں ڈی جے کے خلاف خاموش مارچ کیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کےلیڈر اور سابق رکن اسمبلی سندیپ جوشی کی قیادت میں لکشمی بھون چوک سے شنکر نگر چوک تک خاموش مارچ میں شدید بارش کے باوجود ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکس کے ساتھ سیکڑوں شہریوں نے شرکت کی۔ مارچ میں شریک افرادنے پلے کارڈز اور پوسٹرز اٹھا رکھے تھے جن پر ڈی جے سسٹم کی مخالفت کی گئی تھی۔ مظاہرین نے ڈی جے پر پابندی لگانے اور ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا۔