• Mon, 14 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’آئی فیٹ انڈیا‘میں میرابھائندرمیونسپل کارپوریشن کا صفائی کا سفرتوجہ کا مرکز رہا

Updated: September 14, 2026, 4:41 PM IST | Sajid Mahmood Sheikh | Mira Road

۳؍روزہ نمائش کی منتظم جرمنی کی معروف کمپنی’ میسے میونخن انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ‘ تھی۔ ۳۰؍ سے زائد ممالک کی ۵۰۰ ؍ کمپنیوں نے اپنے اسٹال لگائے تھے۔

Conference participants, including Mira-Bhayandar Municipal Corporation Commissioner Radha Binod Sharma. Photo: INN
کانفرنس کے شرکاء جن میں میرابھائندر میونسپل کارپوریشن کے کمشنر رادھا بنود شرما بھی موجود ہیں۔ تصویر: آئی این این

ماحولیاتی ٹیکنالوجی کا ملک کا سب سے بڑا تجارتی میلہ آئی فیٹ( آئی ایف اے ٹی)  انڈیا  ۲۰۲۶  ءجمعہ کو بامبے ایگزبیشن سینٹر ،  نیسکو، گوریگاؤں میں اختتام پذیر ہوا۔ یہ تین روزہ  نمائش  ۹ ؍ سے ۱۱ ؍ستمبر تک منعقد ہوئی جس کی  منتظم جرمنی کے معروف میسے میونخن انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ تھی۔ 

مذکورہ کانفرنس میں پانی، سیوریج، ٹھوس فضلہ اور ری سائیکلنگ کے شعبے سے جڑی ۳۰  ؍سے زائد ممالک کی  ۵۰۰ ؍ کمپنیوں نے اپنے اسٹال لگائے تھے جبکہ ۲۵  ؍ہزار سے زائد ماہرین، میونسپل افسران اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزارت برائے مکانات و شہری امور کے خصوصی سیشن میں ملک بھر کے میونسپل کمشنروں نے شہری صفائی اور سرکولر اکانومی پر اپنے تجربات پیش کئے۔اس کانفرنس میں میرا بھائندر میونسپل کارپوریشن (ایم بی ایم سی ) کا  صفائی کا شاندارسفر اور شہری سینی ٹیشن  اور ٹھوس کچرے کی دیکھ ریکھ (سالیڈ ویسٹ مینجمنٹ) کے مستقبل کے بارے میں شہر کا وژن آئی فیٹ انڈیا  ۲۰۲۶ ء میں توجہ کا مرکز رہا۔

یہ بھی پڑھئے: فلپائن کے مسلم اکثریتی خطے میں تاریخی پارلیمانی انتخابات، ۸۰؍ نشستوں پر ووٹنگ

میرابھائندر میونسپل کارپوریشن کے کمشنر رادھا بنود شرما نے بطور مہمان خصوصی تین روزہ نمائش و کانفرنس کا باقاعدہ آغاز کیا تھا ۔ ۲۰۲۷ ء سے آگے صفائی بھارت کی سینی ٹیشن کی آئندہ دہائی موضوع پر خطاب کرتے ہوئے میونسپل کمشنر رادھا بنود شرما نے شہری قیادت،جدت طرازی اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا۔ موضوع پر خطاب کرتے ہوئے  انہوں نے بتایا کہ میرا بھائندر  ۳  ؍سے  ۱۰  ؍ لاکھ آبادی کے زمرے میں ملک کا نمبر ایک  سب سے صاف شہر بن کر ابھرا ہے  جس پر شہر کو باوقار صدر جمہوریہ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کامیابی صرف ایک ادارہ جاتی کامیابی نہیں بلکہ صفائی عملے اور شہریوں کی اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

خطاب کے دوران کمشنررادھا بنودشرما نے ’سورس سیگریگیشن  (کچرے کو ابتدائی مقام پر ہی الگ کرنے) ‘کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سورس سیگریگیشن ہی کوڑاکرکٹ کے مسائل کو ختم کرنے کا واحد راستہ ہے۔ آئیے ،ہم کچرے کو کچرا نہ سمجھیں، یہ ایک موقع ہے۔ اگر آپ کچرے کو دوبارہ حاصل ( ری کور )،دوبارہ قابلِ استعمال (ری یوز)  اور ری سائیکل کر سکتے ہیں تو پھر یہ کچرا نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یمن: حوثیوں کا سعودی عرب پرپھر حملوں کا دعویٰ

کمشنر شرما نے سرکولر اکانومی  اور جدید ٹیکنالوجی بشمول مصنوعی ذہانت پر مبنی گورننس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ پائیداری کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پائیداری کا اصل مقصد اپنے بچوں کو وہ دنیا دینا ہے جو ہمیں اپنے والدین سے ملی دنیا سے زیادہ بہتر اور صاف ستھری ہو۔

تین روزہ آئی فیٹ انڈیا  ۲۰۲۶ ء میں ماحولیاتی ٹیکنالوجی کمپنیوں، پالیسی سازوں اور شہری ماہرین نے شرکت کی اور میرا بھائندر کے اس ’سوچھتا سفر‘ کو دیگر بلدیاتی اداروں کیلئے ایک قابلِ تقلید مثال قرار دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK