Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹیمپوچلانے کے ساتھ ۲۷؍سال سے تراویح پڑھا رہے ہیں حافظ نجم الدین

Updated: March 05, 2026, 2:02 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

شروع میںامامت کی اوربچوں کو پڑھایا مگر لاک ڈاؤن کے بعد ڈرائیونگ سیکھ لی اوراب یہی ذریعۂ معاش ہے ۔ ٹیمپو چلاتے وقت بھی تلاوت کرتے رہتے ہیں ۔

Hafiz Najmuddin Balanagha Recites 6th Verse. Photo:INN
حافظ نجم الدین بلاناغہ ۶؍پارے کی تلاوت کرتے ہیں۔ تصویر: آئی این این
آپ ہیں حافظ نجم الدین جنہوں نے لوکھنڈ والا مارکیٹ (اندھیری) میں۱۰؍ روزہ تراویح میں قرآن پاک مکمل کیا۔وہ ۲۰۰۰ء سے سنارہے ہیں۔ٹیمپو (مال بردار) چلانے کےباوجود قرآن ِ مجید سے ان کا تعلق کبھی کمزور نہیں ہوا۔ اس سے قبل رتناگیری میں ، ملاڈ مارکیٹ ایس وی روڈ میں اور دیگر جگہوں پر پڑھا چکے ہیں۔ حفظ کرنے کے بعد ہرسال تراویح پڑھانے کی تقریباً یہی ترتیب رہی، محض ایک مرتبہ ۶؍ روزہ تراویح پڑھائی تھی۔
حافظ نجم الدین نے مدرسہ عربیہ انجمن فدایان رسول (گورے گاؤں) میں قاری عابد صاحب کے پاس ۱۴؍سال کی عمر میں حفظ کیا اور قاری صاحب کے پاس ہی ایک سال دور کیا۔عالمیت کے لئے فارسی اور عربی سوم تک تعلیم حاصل کی۔ گھریلو حالات بہتر نہ ہونے کے سبب عالمیت کی تکمیل سے قبل ہی تعلیم ترک کرنی پڑی۔
آپ نے لاک ڈاؤن سے قبل تک امامت کی، ٹیوشن اور مکتب میںپڑھایا اوریہی ذریعہ معاش رہا ۔ اس کے بعد یہ سلسلہ چھوٹ گیا تو ٹیمپو چلانا شروع کیا۔ ڈرائیونگ جانتے تھےاس لئے یہ کام ذریعۂ معاش کے طور پر اپنالیا۔ 
ڈرائیونگ سیکھنے میںحافظ نجم الدین کا دخل کم اور میٹرو ٹریننگ ڈرائیونگ اسکول کے مالک محمد قاسم صاحب کا زیادہ تھا۔اسکول کے دفتر میںحافظ نجم الدین قرآن کی تلاوت کرنے جاتے تھے،اسی اثناء میںموٹر ٹریننگ اسکول کے مالک نے کہاکہ حافظ صاحب ، آپ بھی ڈرائیورنگ سیکھ لیجئے،یہ ہنر کام آئے گا۔ انہوں نے اس وقت جواب دیا تھا کہ میں ڈرائیونگ سیکھ کر کیا کروں گا مگر ڈرائیونگ اسکول کے مالک قاسم صاحب کے اصرار پر بہرحال یہ ہنر سیکھ لیا ۔ انہوں نے ہی لائسنس بنوادیا۔  
حافظ نجم الدین کہتے ہیںکہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ آنے والے وقت میں ڈرائیونگ ہی ذریعہ معاش بن جائے گا۔ ڈرائیونگ میںبھی حافظ نجم الدین کی انفرادیت یہ ہےکہ اسٹیئرنگ پر بھی ان کی زبان کلام الٰہی سے تازہ رہتی ہے ۔وہ بلاناغہ ۶؍پارے کی تلاوت کرتے ہیں ۔
حفظ کی بہترین یادداشت اورکثرت سےتلاوت کے معمول کے تعلق سے انہوں نے اپنے مشفق استاد قاری عابد کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ وہ مجھے جمعرات اور جمعہ کو بھی بمشکل چھٹی دیتے تھے، حفظ کرنے کے بعد دَور سنانے کے علاوہ ۱۰؍ پارہ مزید پڑھنا لازمی کردیا تھا۔ قاری صاحب کہتے تھے اس کے بغیر چھٹی نہیںملے گی،یہ اسی کی دین ہے کہ ۶؍ پارہ یا اس سےزائد کی تلاوت معمول بن گیا ہے۔اس کے ساتھ ہی مجھے محسوس ہوتا ہےکہ قرآن کریم کی تلاوت کے سبب روزی میںبرکت ،کام میںآسانی اور حادثات سے حفاظت ہوتی ہے۔
 
 
حافظ نجم الدین کے ۴؍چچازاد بھائی حافظ اور عالم ہیں اور پورے خاندان میں ۲۲؍حفاظ اور علماء ہیں جبکہ حافظ نجم الدین کے دو بیٹے حفظ کررہے ہیں۔ ایک ۲۲؍پارہ مکمل کرچکا ہے ،دوسرے نے ابھی شروع کیا ہے، تیسرے بیٹے نے امسال ایچ ایس سی کا امتحان دیا ہے، وہ بھی ۱۵؍پارے کا حافظ ہے، درمیا ن میںچھوڑ دیا تھا مگر اب ارادہ کررہا ہے کہ ان شاء اللہ تکمیل کروںگا۔
 
 
حافظ نجم الدین کا آبائی وطن سیتامڑھی ہے ،ان کی والدہ کی شدید خواہش تھی کہ انکا بیٹا بھی حافظ اورعالم بنے۔اسی خواہش کے سبب انہیں ۱۰؍سال کی عمر میں ان کے چچا قاری محمد یونس کے ہمراہ ممبئی بھیج دیاتھا۔ چچا قاری محمدیونس کئی سال ہتھورا (باندہ) میں پڑھا چکے ہیں۔ ان کے خاندان میں حفاظ اور علماء کی بڑی کھیپ تیار کرنے میں ان کا خاص رول ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK