نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت خدمات انجام دینے والے سیکڑوں ملازمین کو ۴؍ ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔ ’کام بند‘ احتجاج کا انتباہ بھی دیا۔
کے ڈی ایم سی کے صدردفتر کے باہر ملازمین احتجاج کرتے ہوئے۔تصویر: آئی این این
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن ( کے ڈی ایم سی) کے محکمہ صحت میں سنگین بحران پیدا ہو گیا ہے۔ نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) کے تحت خدمات انجام دینے والے سیکڑوں ملازمین گزشتہ ۴؍ ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں جس کے نتیجے میں ان کے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت آ گئی ہے۔ بارہا یقین دہانیوں کے باوجود واجبات ادا نہ کئے جانے پر مشتعل ملازمین نے بدھ کو کے ڈی ایم سی کے صدر دفتر کا گھیراؤ کیا اور انتظامیہ کی بے حسی کے خلاف شدید احتجاج کیا۔
تفصیلات کے مطابق نیشنل ہیلتھ مشن کے تقریباً ۲۰۰ ؍ملازمین جن میں ڈاکٹر، نرسیں اور کثیر المقاصد ہیلتھ ورکرس شامل ہیں، ہاتھوں میں مختلف نعروں والی تختیاں اٹھائے میونسپل کارپوریشن کے صدر دفتر پہنچے۔ اچانک بڑی تعداد میں ملازمین کی آمد سے سیکوریٹی عملے میں کھلبلی مچ گئی۔ مظاہرین نے میڈیکل ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر دیپا شکلا سے ملاقات کرکے فوراً تنخواہوں کا مطالبہ کیا۔ ملازمین کا الزام ہے کہ پڑوسی شہروں مثلا تھانے، وسئی- ویرار اور الہاس نگر میں اسی مشن کے ملازمین کو باقاعدہ تنخواہ اور الاؤنس مل رہے ہیں لیکن کلیان میں دانستہ طور پر تاخیر ہورہی ہے۔
ملازمین نے اپنی پریشانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے ان کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔ہم نے بینکوں سے ہوم لون لے رکھے ہیں جن کی قسطیں وقت پر جمع نہ ہونے سے جرمانہ عائد ہو رہا ہے۔ بچوں کے اسکولوں کی فیس واجب الادا ہیں اور گھر میں موجود بزرگوں کے علاج معالجے کیلئے بھی رقم دستیاب نہیں ہے۔ ہم صرف انتظامیہ کے جھوٹے وعدوں پر زندہ نہیں رہ سکتے۔ذرائع کے مطابق محکمہ صحت کو نیشنل ہیلتھ مشن کی جانب سے فنڈ موصول ہو چکا ہے۔ تاہم فائلیں آگے نہ بڑھنے کی وجہ سے ملازمین کو تنخواہ نہیں مل پا رہی ہے۔کارپوریشن کے احاطےمیں یہ بازگشت بھی سنائی دی کہ محکمہ صحت کا ہی ایک سابق ملازم اس پورے عمل میں روڑے اٹکا رہا ہے۔ جب اس سلسلے میں میڈیکل ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر دیپا شکلا سے اس بارے میں معلومات کیلئے رابطہ کیا گیا توانہوں نے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ملازمین کے وفد نے میونسپل کمشنر کے نام ایک میمورنڈم پیش کیا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر فوری طور پر تمام بقایاجات ادا نہیں کئے گئے تو تمام ملازمین ’کام بند‘ ہڑتال پر چلے جائیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری کارپوریشن انتظامیہ پر عائد ہوگی۔