انٹاپ ہل میں مقیم اُترپردیش کے ضلع پرتاپ گڑھ سے تعلق رکھنے والے ۶۰؍سالہ ٹیکسی ڈرائیور محمد ریاض خان کے حافظ بیٹے فرمان خان نے نیٹ میں کامیابی حاصل کر کے ایم بی بی ایس کی پڑھائی کیلئے گورنمنٹ کالج میں داخلہ حاصل کرلیا ہے۔
فرمان خان۔ تصویر: آئی این این
انٹاپ ہل میں مقیم اُترپردیش کے ضلع پرتاپ گڑھ سے تعلق رکھنے والے ۶۰؍سالہ ٹیکسی ڈرائیور محمد ریاض خان کے حافظ بیٹے فرمان خان نے نیٹ میں کامیابی حاصل کر کے ایم بی بی ایس کی پڑھائی کیلئے گورنمنٹ کالج میں داخلہ حاصل کرلیا ہے۔ انجمن اسلام انگلش ہائی اسکول کے ہونہار طالب علم کے دیگر بھائی بہن بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں ۔ انہیں پڑھانے میں والد کے ساتھ والدہ کا بھی اہم رول رہا ہے۔ انہوں نے بچوں کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دی ہے ۔ انٹاپ ہل کے ۱۹؍سالہ فرمان خان نے ابتدائی تعلیم سنگم نگر، انٹاپ ہل میں واقع الحرا ء انگلش اسلامک اسکول سے حاصل کی۔ یہاں سے ساتویں جماعت پاس کرکے انجمن اسلام انگلش ہائی اسکول سی ایس ایم ٹی سے ۷۸؍ فیصد مارکس سے ایس ایس سی اور کے سی کالج چرچ گیٹ سے ایچ ایس سی امتحان ۷۱؍فیصد سےپاس کیا ۔ فرمان طبی شعبہ میں کریئر بنانے کا متمنی ہے ،اس لئے اس نے نیٹ کوالیفائی کر کے مہاراشٹر کے ایک گورنمنٹ میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی نشست حاصل کرلی ہے ۔جو ان کیلئے ایک بڑی کامیابی ہے۔ ایک چھوٹے سے دیہی علاقے کے معمولی خانوادہ سے تعلق رکھنے والے اس باصلاحیت طالب علم نے میڈیکل کالج تک پہنچنے کا اپنا سفر بہت محنت، حوصلے اور متعلقین کی قربانیوں سے پورا کیا ہے۔
فرما ن نے عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کا سفر بھی کامیابی سے جاری رکھا ہے۔ طالب علمی کے دور یعنی ۲۰۱۸ء سے اس نے حفظ کرنا شروع کیا اور ۲۰۲۱ء میں حفظ مکمل کر کے حافظ ِ قرآن ہونے کا شرف حاصل کیا ۔ اس کے ساتھ ڈاکٹر بننے کے خواب کو پورا کرنے کیلئے نیٹ کی تیاری بھی جاری رکھی۔
فرمان کیلئےنیٹ کلیئر کرنے کا مرحلہ دشوارکن رہاکیونکہ امتحان سے صرف ۲؍مہینے پہلے ان کے بڑے بھائی شہباز خان، جنہوںنے بی ایس سی آئی ٹی کیا تھا ،اچانک انتقال ہوگیاتھا۔ فرمان کیلئے بڑے بھائی سے محروم ہونا، بہت بڑا صدمہ تھا ۔ اس کے باوجود اس نےبڑی ہمت اورحوصلے سے امتحان کی تیاری کر کے نیٹ کلیئر کیا۔فرمان کے والد ریاض خان گزشتہ ۴۰؍ سال سے ٹیکسی چلا رہے ہیں۔ انہوں نے ٹیکسی سے ہونے والی آمدنی سے جہاں اہل خانہ کی بنیادی ضروریات پوری کیں، وہیں سبھی بچوں کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کیا ہے۔ سب سے بڑے بیٹے مرحوم شہباز خان نے بی ایس سی آئی ٹی کیاتھا جبکہ دوسرے نمبر کابیٹا جو دسویں جماعت میں زیر تعلیم تھا، اس کا بھی سڑک حادثہ میں انتقال ہوچکا ہے ۔ ان ۲؍بیٹوں کے بعد اپنی ۲؍بیٹیوں سعدیہ اور نازیہ بانو کو بالترتیب بیچلر آف میڈیکل لیب ٹیکنیشین اور فارمیسی کرایا ۔ ان ۲؍بیٹیوںکے بعدبیٹے ارمان خان نے ماسٹر آف سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی ان آرٹی فیشیل انٹلی جنس مکمل کیا ہےجبکہ فرمان نے ایم بی بی ایس میں داخلہ حاصل کرلیاہے۔ ریاض خا ن اپنے بچوں کو پڑھا لکھا کر قابل بنانا چاہتے ہیں۔